سعودی عرب سی پیک میں پارٹنر ،10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا

سعودی عرب سی پیک میں پارٹنر ،10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آئی این پی )پاکستان کا سعودی عرب کو سی پیک میں تیسرا شراکت داربنانے کا اعلان ، وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب سی پیک میں تیسرا بڑے پارٹنر کے طور پر شراکت دار بنے گا،سعودی عرب کا اعلیٰ سطح وفدآئندہ ماہ پاکستان آئے گا اور دونوں ممالک کے درمیان اہم معاہدے کیے جائیں گے،کراچی میں پانی کی ترسیل کے مسائل حل کرنے میں یو اے ای کی حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گی، شریف خاندان کے ساتھ ڈیل ہوگی نہ ڈھیل، نواز شریف کوواپس اڈیالہ بھیجیں گے جہاں وہ کچھ دن پہلے تھے، نواز شریف مقدمے میں جو خامیاں ہیں انہیں ختم کریں گے،حکومت نیب میں اصلاحات چاہتی ہے جس کیلئے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔ وہ جمعرات کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ کربلا کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، واقعہ کربلا حق و باطل کی جنگ تھی، امام حسین کی شہادت نے اسلام کو ایک نئی زندگی بخشی۔ رواں ہفتے حکومت نے فنانس بل پیش کیا اور انتخابات میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کا اہم دورہ کیا ۔ سعودی عرب میں وزیر اعظم اور ان کے ہمراہ وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم اور انکے ہمراہ وفد نے روزہ روسول پر حاضری دی اور نوافل ادا کیے۔ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ عمران خان نے سعودی عرب کے تحفظ کیلئے ہرممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خادم الحرامین کی تجویز پر اعلیٰ سطح کی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کو پاکستان اور سعودی عرب حکومت کو مکمل حمایت ہوگی۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان آئے گا جس میں سعودی عرب کے وزیر توانائی ، وزیر خزانہ اور دیگر حکام شامل ہونگے۔ سعودی عرب کو سی پیک میں بطور تیسرا فریق شمولیت کی دعوت دی ہے۔ سعودی عرب سی پیک میں تیسرا بڑے پارٹنر کے طور پر شراکت دار بنے گا۔ سی پیک منصوبے میں سعودی عرب بڑی سرمایہ کاری کرے گا۔ گزشتہ چند سال سے پاکستان کے سعودی عرب اور یو اے کے تعلقات میں سرد مہری ہے۔ وزیر اعظم کے دورے سے اس سرد مہرے میں کمی آئی ہے۔ کراچی میں پانی کا بڑا مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کیلئے یو اے ای کی حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان میں شراکت داری میں نئی گرم جوشی پیدا ہوئی ہے۔ نواز شریف اور انکے خاندان کو مقدمے میں صرف ضمانت دی گئی ہے ان کا اڈیالہ جیل میں آنا جانا لگا رہے گا اسی لیے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا تھا تاکہ یہ ضمانت ہونے کے بعد ملک سے فرار نہ ہوجائیں۔ پاکستان میں عدالتیں آزاد ا ور خود مختار ہیں ۔ عمران خان کی نواز شریف اور مریم سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے وہ چاہتے ہیں کہ قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس لائی جائے۔ حکومت نواز شریف اور مریم نوا زکو ملک سے باہر نہیں جانے دے گی جبکہ حسن نواز ، حسین نواز اور اسحاق ڈار واپس لائیں گے۔ نواز شریف کی جن خامیوں کی بنیاد پر ضمانت ہوئی ہے ان کو دور کیا جائے گا۔ کسی بھی ملک نے نواز شریف کیلئے ڈیل کی بات نہیں کی ہے۔ پاکستان ایران اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ پاکستان نے تو بھارت کے ساتھ بھی معاملات طے کرنے کی بات کی ہے۔جس کا بھارت نے مثبت جواب دیا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ معاہدے سے ملکی کی دولت لوٹنے والوں کو ملک لانے میں آسانی ہوگی۔ دورہ سعودی عرب کے دوران نواز شریف کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔ ریڈیو اور پی ٹی وی کو مالی مسائل کا سامنا ہے ہمیں میڈیا یونیورسٹی بنانے کیلئے پیسے درکار ہیں حکومت بڑی بڑی عمارتوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی انہیں عمارتوں سے استفادہ کیا جائے گا۔ ریڈیو کی عمارت بھی بہت بڑی ہے جبکہ آجکل کے دور میں دس مرلے کے گھروں میں ریڈیو اسٹیشن لگے ہیں ۔ حکومت نیب میں اصلاحات چاہتی ہیں جس کیلئے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے جو پندرہ روز میں اپنی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کریگی۔

فواد چودھری

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے پاک، چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے جس پر اگلے ماہ سے ہی کام شروع کر دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو دورہ سعودی عرب میں 90 فیصد کامیابی ملی ہے کیونکہ پاکستان سی پیک معاہدے میں سعودی عرب سے 15 ارب ڈالر پیکیج کا خواہشمند تھا مگر 10 ارب ڈالر کا باقاعدہ معاہدہ ہوا ہے اور اس کے تحت مختلف منصوبے تعمیر کئے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقتصادی پیکیج کے تحت سعودی عرب گوادر میں آئل سٹی بنائے گا جو اس سے پہلے چین بنانے جا رہا تھا اور اس حوالے سے باقاعدہ معاہدہ بھی ہو گیا تھا تاہم پاکستان نے سعودی حکومت کیساتھ معاہدے سے پہلے چین سے مذاکرات کرکے انہیں باقاعدہ اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے سعودی حکام کے سامنے بھارتی شرانگیزی کا معاملہ بھی اٹھایا اور بتایا کہ کس طرح بھارت پاکستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے مداخلت کر رہا ہے اور بلوچستان میں ان کی خفیہ ایجنسی کس طرح سرگرم ہیں۔

مزید : صفحہ اول