پاک بھارت تعلقات ،برف پگھل گئی ، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نیو یارک میں ہوگی ، کرتار پور بارڈر کھولنے کے حوالے سے بات چیت کریں گے ، بھارتی دفتر خارجہ

پاک بھارت تعلقات ،برف پگھل گئی ، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نیو ...

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) بھارت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تجویز قبول کرلی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ترجمان بھارتی وزارت خارجہ رویش کمار نے بریفنگ میں بتایا پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کی تجویز بھارتی حکومت نے قبول کرلی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات نیویارکمیں27ستمبر کو دوپہر کے کھانے پر ہوگی جو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے سائیڈ لائن پر ہوگی۔رویش کمار کا کہنا تھا کہ ملاقات کا ایجنڈا طے نہیں ہوا ہے، ہم نے صرف ملاقات کی حامی بھری ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں بھارت کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نا ہی اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بحال ہونے جا رہے ہیں۔کرتار پور کوریڈور کھولنے کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ طور پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔رویش کمار کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران اس معاملے کو اٹھائیں گے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تجویز قبول کرنے کے باوجود بھارت نے سارک سربراہ اجلاس اسلام آباد میں کرانے کی پاکستانی تجویز مسترد کردی،بھارت نے سارک سربراہ اجلاس کیلئے پاکستان کی میزبانی کی مخالفت کردی اور اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا ہے کہ موجودہ ماحول پاکستان میں سارک سربراہ اجلاس کیلئے مناسب نہیں۔بھارت نے رواں سال بھی سارک سربراہ اجلاس کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ترجمان بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق سارک سے متعلق بھارت کا مؤقف واضح اور مستقل ہے، پاکستان کی میزبانی میں سارک اجلاس ہونا مشکل ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے تہنیتی خط کا جواب دیا جس میں انہوں نے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی پر زور دیا جب کہ وزیراعظم نے تجویز دی تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات طے کی جائے۔وزیرِاعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ طور پر دوبارہ آغاز کرنے پر زورد یتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بات چیت کا آغاز کریں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر وزرائے خارجہ مذاکرات کریں ٗمسئلہ کشمیر ، سرکریک اور سیاچن کے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہوگا، پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام اور آنے والی نسلوں کی بہتری اور امن کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔سفارتی ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم عمران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کو جلد شروع کرنے پر زور دیا۔اپنے خط میں وزیرِاعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کی بھی خواہش کا اظہار کیا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق خط میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بات چیت کا آغاز کریں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزرائے خارجہ مذاکرات کریں۔یاد رہے کہ منصب سنبھالنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد کا خط لکھا تھا جس کے جواب میں عمران خان نے مبارکباد دینے پر اپنے جوابی خط میں ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔وزیراعظم عمران خان کے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بلاشبہ ناقابل تردید چینلجز کا شکار ہیں تاہم پاکستان دہشت گردی کے معاملے پر بھی یقینی طور پر بات کرنے کو تیار ہے۔عمران خان نے خط میں کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت سرکریک اور سیاچن کے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہوگا، پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام اور آنے والی نسلوں کی بہتری اور امن کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔دریں اثنا دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی ہم منصب کو لکھے گئے خط پر بھارت کی طرف سے باضابطہ جواب کے منتظر ہیں۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کو مثبت پیرائے میں خط کا جواب دیا ۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کو لکھا کہ آئیں بات چیت کے ذریعے تمام مسائل کا حل نکالیں اور ہم بھارت کے جواب کے منتظر ہیں۔

مزید : صفحہ اول