دہشتگردی کی صورتحال پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو رہی ہے : امریکی عہدیدار

دہشتگردی کی صورتحال پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو رہی ہے : امریکی عہدیدار

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) اگرچہ دنیا بھر میں دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی جاری ہے اور القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں سے مقبوضہ علاقے واگزار کرائے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کی صورت حال پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ یہ جائزہ دہشت گردی کی روک تھام کے شعبے سے وابستہ امریکی افسر نتھنی سیلز نے گزشتہ شام یہاں دہشت گردی کے بارے میں امریکی رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف نمایاں پیشرفت ہونے کے بعد ان کی قوت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا اور وہ بدستور اپنے عزائم میں پختہ ہیں۔ مسٹر سیلز نے بتایا کہ عراق شام، صومالیہ اور دوسرے مقامات پر ان کی زبردست پسپائی ہوئی ہے، لیکن انہوں نے اس شدید دباؤ کو برداشت کرلیا ہے اور ابھی ہمت نہیں ہاری۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے 2017ء میں دنیا بھر میں دہشت گردی کی صورت حال کے بارے میں جو رپورٹ جاری ہوئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ داعش اور القاعدہ پسپا ہوکر مزید منتشر ہوچکی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف ممالک میں پھیل کر اپنے ماننے والوں اور ہمدردوں کو دہشت گرد حملوں کی ترغیب دینے کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو براہ راست فوجی کارروائیوں سے بچا رہے ہیں۔محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء میں داعش نے عراق، شام اور دیگر مقامات پر جب مقبوضہ علاقہ واگزار کیا تو ان کی مرکزی کمان ختم ہوگئی، لیکن اب وہ اپنے ہتھیاروں سمیت دوسرے ممالک میں روپوش ہوکر کام کر رہے ہیں۔ اب انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے اپنے ہمدردوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور انہیں مختلف کارروائیوں کی ترغیب دے رہے ہیں، تاکہ وہ خود براہ راست پکڑ میں نہ آسکیں۔ رپورٹ کے مطابق اب یہ دہشت گرد نسبتاً ’’نرم اہداف‘‘ کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے مانچسٹر، بارسلونا، وادی سینا، نیویارک اور دیگر مقامات پر کارروائیاں کی ہیں۔انسدادی دہشت گردی سے متعلق امریکی افسر نے مزید بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنی مرکزی کمان ختم ہونے کے بعد زیادہ لچکدار انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ اس لئے امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر وسیع شراکت کے ذریعے ان کے خلاف منصوبہ بندی میں مصروف ہے اور شہری ہوا بازی اور سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اور شام میں داعش سے تقریباً تمام علاقہ خالی کرالیا گیا ہے، جبکہ القاعدہ پر بھی دباؤ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دہشت گردی کی صورت حال میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی اور دہشت گردی کے ذریعے ہونے والی ہلاکتوں میں بھی 27 فیصد کمی آچکی ہے۔ امریکی افسر نے الزام لگایا کہ ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا دنیا کا سرکردہ ملک ہے اور وہ کئی مقامات پر تنازعات پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ایران جن ممالک میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے، ان میں شام، یمن، عراق، بحرین، افغانستان اور لبنان شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول