نواز ،مریم ضمانت کہیں نہ کہیں خاموش مفاہمت ضرور ہے

نواز ،مریم ضمانت کہیں نہ کہیں خاموش مفاہمت ضرور ہے
نواز ،مریم ضمانت کہیں نہ کہیں خاموش مفاہمت ضرور ہے

  

تجزیہ : ایثار رانا

 اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا کی معطلی اور ضمانت کے بعد وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی جانب سے فیصلہ کو تسلیم کرنے کا اعلان انتہائی مثبت اقدام ہے اور یہ اس بات کی جانب بھی اشارہ ہے کہ حکومت معاملات کو محاذ آرائی اور تصادم کی بجائے افہام و تفہیم کی طرف لے جانا چاہتی ہے اور یہی اس کے حق میں بہتر بھی ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے رہائی کے بعد کسی سخت بیان کا نہ آنا، کہیں نہ کہیں ایک خاموش مفاہمت کی جانب اشارہ ضرور کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں جانب سے یہ زبان بندی کب تک قائم رہتی ہے۔ وفاق، پنجاب اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت بن چکی ہے، اب میاں نواز شریف کے اڈیالہ جیل یا جاتی امراہونے سے حکومت کو کوئی خاص سیاسی فرق نہیں پڑے گا۔ اب عمران خان حکومت اور میاں نواز شریف پیشیاں بھگتیں گے۔ اسی طرح حکومت اب ایک سیاسی پریشر سے بھی نکلے گی جو میاں نواز شریف اور مریم نواز کے اڈیالہ جیل میں ہونے سے قائم تھا۔ برادر اسلامی ملک کی جانب سے سی پیک میں شمولیت اور 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان اور سابق وزیراعظم کی رہائی کو حسن اتفاق بھی کہا جاسکتا ہے اور مہربانوں کے مہربانیوں کے سلسلہ دراز کا حصہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ تاہم اب ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ عدالتوں کے اپنے حق میں فیصلوں کی تعریف اور مخالف فیصلوں پر تنقید کا سلسلہ کب بند ہوگا۔ ملک تبھی مضبوط ہوگا جب ادارے سیاسی مصلحتوں، مختلف اداروں کے دباؤ اور عوامی خواہشات کے دباؤ سے نکل کر میرٹ پر فیصلے کریں گے۔

افہام کی خواہاں

مزید : تجزیہ