افغان مہاجرین کو شہرت دینے کے معاملے پر بی این بی مینگل حکومت کی حمایت ترک کر سکتی ہے

افغان مہاجرین کو شہرت دینے کے معاملے پر بی این بی مینگل حکومت کی حمایت ترک کر ...
افغان مہاجرین کو شہرت دینے کے معاملے پر بی این بی مینگل حکومت کی حمایت ترک کر سکتی ہے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں جو وفاقی حکومت قائم ہوئی ہے، اس میں تحریک انصاف سمیت 8 چھوٹی جماعتیں شامل ہیں۔ یہ جماعتیں اگرچہ چھوٹی ہیں لیکن ان سب کی حمایت کے بل بوتے پر ہی وزیراعظم عمران خان محض چار ووٹوں کی اکثریت سے منتخب ہوئے ہیں۔ 342 کے ایوان میں سادہ اکثریت کے لئے 172 ارکان کی حمایت درکار ہے جبکہ انہیں 176 ووٹ ملے تھے، دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پانچ ارکان کی حمایت کم پڑ جائے تو حکومت کی سادہ اکثریت بھی باقی نہیں رہتی، لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ اتنی کمزور بیساکھیوں پر کھڑی ہوئی حکومت دعوے بڑے بڑے کر رہی ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 10 فیصد سے 143 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے تندوری نان روٹی سے لے کر ہر وہ چیز مہنگی ہوگئی ہے جس میں گیس کا عمل دخل ہے۔ کھاد جو پہلے ہی مہنگی تھی اور سبسڈی دے کر اس کی قیمتیں کم رکھی گئی تھیں، اب مزید مہنگی ہو جائے گی، چونکہ کھاد زرعی مداخل میں ایک بڑا عامل ہے۔ جو زمیندار کو متاثر کرتا ہے، اس لئے زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز اس سے متاثر ہوگی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اگرچہ اب تک پھسپھسی لگ رہی ہے، اور لگتا ہے تعداد میں بہت زیادہ ہونے کے باوجود حکومت اس سے خائف نہیں، لیکن یہ اپوزیشن ہمیشہ اتنی ڈھیلی ڈھالی نہیں رہے گی، اس ماحول میں عمران خان نے کراچی میں اعلان کر دیا کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں اور بنگالیوں کو شہریت دی جائے گی، یہ اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کے ساتھ دوسری جماعتیں بھی شریک اقتدار ہیں، جن کے ساتھ اس مسئلے پر مشاورت ہونی چاہئے۔ خاص طور پر بی این پی (مینگل) کے ساتھ جس کے ساتھ حکومت کا باقاعدہ چھ نکاتی معاہدہ ہے۔ جس کا چھٹا نقطہ یہ ہے کہ افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا، یہ معاہدہ ابھی پانچ ہفتے پہلے ہی ہوا ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ابھی تو اس کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ بڑی کولیشن پارٹنر جماعت کی طرف سے اس کی مخالفت سامنے آگئی ہے۔ وزیراعظم کے اس اعلان پر بی این پی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ انہیں مطمئن کرنے کے لئے جہانگیر ترین متحرک ہوگئے ہیں، لیکن اس معاملے میں کوئی واضح موقف تو اختیار کرنا پڑے گا۔ اگرچہ بی این پی کے ردعمل کے بعد یوٹرن لیا گیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ تو ابھی محض تجویز ہے، کوئی فیصلہ اس سلسلے میں نہیں کیا گیا، تاہم بی این پی کی نارضی قائم ہے اور بعید نہیں وہ کسی وقت کولیشن سے الگ ہو جائے۔ اس طرح کی حکومت میں مسئلہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے، ویسے بھی بی این پی کا تو کچھ داؤ پر نہیں لگا ہوا، اس نے تو وزارتیں بھی نہیں لیں اور عمران خان کو ووٹ دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ہمیں وزارتوں سے زیادہ اس بات سے دلچسپی ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل ہوں، کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے ہمیشہ وعدے کئے، لیکن مسائل حل نہیں کئے۔ بی این پی ماضی کی کئی مخلوط حکومتوں کا حصہ رہی ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے ان حکومتوں کا ساتھ چھوڑتی رہی ہے، اب دیکھیں اس معاملے پر اس کا حتمی فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ جہانگیر ترین، اختر مینگل کو مطمئن کر پاتے ہیں یا نہیں۔

بی این پی (مینگل) اگرچہ مخلوظ حکومت کی حامی جماعتوں میں تیسرے نمبر پر ہے، کیونکہ حکومت کو یک نفری سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے، اس لئے اس مخلوط حکومت میں بی این پی کی حمایت حکومت کے لئے اہمیت رکھتی ہے، جس نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر وزیراعظم نے افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا تو وہ حکومت کی حمایت ترک کر دے گی۔ بی این پی بلوچ نیشلسٹ پارٹی ہے، اور دوسری بلوچ نیشنلسٹ پارٹیوں کی طرح اس کا موقف یہ ہے کہ اگر افغان مہاجروں کو شہریت دی گئی تو صوبے میں آبادی کا تناسب بدل جائے گا۔ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون آبادی کی تعداد تقریباً برابر ہے اور صوبے کے اندر پشتون آبادی کے لئے الگ صوبہ بنانے کی تحریک بھی موجود ہے، بلکہ ایک سیاسی جماعت کا تو نام ہی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ہے۔ پشتون صوبے کی حامی جماعتیں تو افغان مہاجروں کو شہریت دینے کی حمایت کریں گی، کیونکہ اس طرح پشتون ووٹ میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین بلوچستان میں رہ رہے ہیں، لیکن بلوچ پارٹیاں ایسا نہیں کرسکتیں، اس لئے بی این پی (مینگل) نے اس سلسلے میں کھل کر موقف اختیار کرلیا ہے، اور اس جماعت کے سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس تجویز کو آگے بڑھایا تو بی این پی حکومت کا ساتھ چھوڑ دے گی۔

ڈاکٹر جمالدینی نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت کی حمایت اسی صورت جاری رکھی جائے گی جب حکومت بی این پی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تمام چھ نکات پر عمل کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا جو وفد بی این پی کے رہنماؤں سے ملنے کے لئے آیا تھا، اس پر یہ بات واضح کر دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کا معاملہ تو یہ ہے کہ حکومت کی تشکیل کے ایک ماہ کے اندر ہی ایک کولیشن پارٹنر جماعت کے تحفظات سامنے آگئے ہیں، جبکہ بلوچستان کی صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کے درمیان پہلے سے جو اختلافات چلے آرہے ہیں، وہ بھی اب تک طے نہیں ہوسکے۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر کو وزیراعلیٰ جام کمال سے شکایات ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے دونوں کو اسلام آباد بلا کر اگرچہ معاملے کو بظاہر نمٹا دیا تھا، لیکن بظاہر پرسکون پانیوں کے نیچے تلاطم اب بھی موجود ہے۔

مزید : تجزیہ