دینی مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں : معراج الہدی صدیقی

دینی مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں : معراج الہدی صدیقی

کراچی( اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا ہے کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں جو نسل نو کو دینی علوم سے منور کرنے کے ساتھ ان کی تربیت اور اصلاح معاشرہ کا مرکز بھی ہیں۔جمعیت طلبہ عربیہ دینی مدارس میں پڑھنے والے طلباء کی وہ ملک گیر تنظیم ہے جو فرقہ واریت،گروہی ومسلکی تعصب سے پاک ہے اور یہ تنظیم طلبہ میں دینی شعور اور اقامت دین کا حقیقی تصور اجاگر کرتی ہے۔انہوں نے دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم جمعیت طلبہ عربیہ کی 46ویں یومِ تاسیس کے موقع پر جاری کردہ اپنے پیغام میں مزید کہاکہ اس وقت بیرونی اشاروں پر لبرل و سیکولر قوتیں دینی مدارس کے خلاف جھوٹا واویلاکررہی ہیں ،مساجد ومدارس کے قیام میں رکاوٹیں وپابندیاں کھڑی کی جارہی ہیں۔ملک میں فرقہ واریت کے ذریعے اتحاد امت کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے،مادر پدر آزادی کے نام پر اسلامی اقدار وخاندانی نظام کو تباہ کیا جارہا ہے حتیٰ کہ عقیدہ ختم نبوتؐ ،تحفظ ناموس رسالتؐ ونظریہ پاکستان کیخلاف سازشیں ہورہی ہیں، قادیانی لابی کھلے عام اپنے مذموم مقاصد کی تبلیغ کررہی ہے اور ان کے سرغنہ افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جارہا ہے،کلمے کی بنیاد پر قائم ہونے والے مملکت خداداد کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کیلئے اندرونی اور بیرونی سازشوں میں انتہائی تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے ایسے میں تحریک اسلامی کے ہر اول دستے امت مسلمہ کے امیدوں کی مرکز جمعیت طلبہ عربیہ کے جوانوں کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑہ گئی ہیں کہ وہ اپنے سیرت و کردار اورمؤثر منصوبہ بندی و جامع حکمت عملی سے اتحاد امت کو برقرار، عقیدہ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت اور نظریہ پاکستان کی حفاظت اور اغیار کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے پہلے سے زیادہ لگن کے ساتھ دعوت دین کا کام کریں اور وطن عزیز کو حقیقی معنوں میں اسلامی اور خوشحال پاکستان بنانے کیلئے اپنی انتھک محنت اور لگن کے ساتھ کام کو جاری رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کے اندراقامت دین کا حقیقی تصور اجاگر کریں ، روشن خیالی کے نام پر معاشرے میں علماء کرام کو نکو بناکر معاشرے کو مذہب سے دور کرنے کی سازش کا توڑ علماء کرام معاشرے کا دل جیت کر ہی نکال سکتے ہیں، ایسے مؤثر علماء کرام کی انتہائی ضرورت ہے جن پر معاشرہ اعتبار کرتا ہو۔نیز ایسے علماء تیار کئے جائیں جو اللہ کی دھرتی پر اللہ کا نظام اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی اختیار کرنے کی دعوت کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیں تاکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا اسلامی، فلاحی اور جمہوری پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر