” چاروں ہیلی کاپٹر میں خرید لوں گا لیکن پاکستانی حکومت کو یہ کام کرنا ہو گا “ ناکارہ ہیلی کاپٹر وں کو خریدنے کی پیشکش کس نے کی اور اس کے بدلے حکومت کو کیا کرنا ہو گا ؟ جان کر عمران خان بھی سوچ میں پڑ جائیں گے کیونکہ۔۔۔

” چاروں ہیلی کاپٹر میں خرید لوں گا لیکن پاکستانی حکومت کو یہ کام کرنا ہو گا “ ...
” چاروں ہیلی کاپٹر میں خرید لوں گا لیکن پاکستانی حکومت کو یہ کام کرنا ہو گا “ ناکارہ ہیلی کاپٹر وں کو خریدنے کی پیشکش کس نے کی اور اس کے بدلے حکومت کو کیا کرنا ہو گا ؟ جان کر عمران خان بھی سوچ میں پڑ جائیں گے کیونکہ۔۔۔

  

اسلام آبا د(ویب ڈیسک) عام توقعات کے برعکس پاکستانی حکومت کو ان چار ہیلی کاپٹرز کا خریدار مل گیا ہے جن کے بارے میں اس انکشاف کے بعد کہ وہ اڑنے کے قابل نہیں ہیں اور حکومت ہے ، یہ بات برطانوی نشریاتی ادارے کے اسلام آباد میں مقیم نامہ نگار نے اپنے ایک دعویٰ میں کی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الھق نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم خان نے اپنی ہی اعلان کردہ کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت وفاقی حکومت کے زیر استعمال چار ہیلی کاپٹرز اور آٹھ بھینسیں نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، بھینسوں کی نیلامی 27 ستمبر کو ہوگی۔ نیلامی کے لیے دستیاب بھینسوں کی رونمائی تو سرکاری ٹیلی وڑن پر جلد ہی کر دی گئی تھی، پی ٹی وی پر چلنے والی ان آٹھ بھینسوں اور تین کٹوں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ صاف ستھری ، صحت مند اور بظاہر مطمئن دکھائی دینے والی یہ بھینس راوی نسل سے تعلق رکھتی ہیں جو زمیندار طبقے میں خاصی مقبول سمجھی جاتی ہیں تاہم ان چار ہیلی کاپٹرز کے بارے میں سرکار نے زیادہ تفصیل نہیں بتائی کہ یہ ہیلی کاپٹر کیسے ہیں ، کہاں ہیں اور کتنے کے ہیں ؟۔

 روزنامہ جنگ کے مطابق ان چاروں ہیلی کاپٹرز کے حال اچھے نہیں ہیں، ان میں سے دو چالیس سال اور دو تیس سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں اور اڑنے کے قابل بھی نہیں ہیں ، مذکورہ نامہ نگار کا کہنا ہے جب سے اس صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اتنے بوڑھے اور تقریباً ناقابل استعمال ہیلی کاپٹرز کو نیلام کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔

جب یہ صورتحال وفاقی وزیراطلاعات کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے اس سے نیم اتفاق کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ ہیلی کاپٹرز شاید نیلام نہ کیے جائیں بلکہ ہنگامی صورتحال میں امداد فراہم کرنے والے ادارے کو ایئر ایمبولینس کے طور پر استعمال کے لیے دے دیے جائیں ، تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اس ادارے کے ماہرین نے ان ہیلی کاپٹرز میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی بلکہ اس کی جگہ بارہ ارب روپے کی گرانٹ کا مطالبہ کر دیا ہے تاکہ ایسے ہیلی کاپٹرز کو ایمبولینس کے طور پر استعمال کرنے سے بچایا جا سکے، جن کا استعمال کہیں مزید ایمبولینس کے استعمال کا باعث نہ بن جائے، اس لیے حکومت نے ان چاروں ’بدنام‘ ہیلی کاپٹرز کو نیلام کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے ، ان ہیلی کاپٹرز کے بدخواہوں کے لیے بری خبر یہ بھی ہے کہ ابھی نیلامی میں چند روز باقی ہیں اور ان ہیلی کاپٹرز کو خریدار مل بھی گیا ہے ، اخباری ذرائع کے مطابق پاکستان میں ویسٹ لیند آگسٹاہیلی کاپٹرز کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے وفاقی حکومت کو پیشکش کی ہے کہ وہ یہ چاروں ہیلی کاپٹرز ’ جہاں ہیں ، جیسے ہیں ‘ کی بنیاد پر خریدنے کے لیے تیار ہیں ، ان صاحب نے پیشکش کو مشروط کردیا ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ حکومت ان چاروں ہیلی کاپٹروں کے بدلے ان صاحب سے ایک ہیلی کاپٹر خریدلے اور ان چاروں ہیلی کاپٹروں کی قیمت نئے ہیلی کاپٹر کی قیمت میں سے کاٹ لے ، پیشکش یہ اتنی بری بھی نہیں ہے لیکن حکومت پاکستان کے قواعد اس سودے کی راہ میں حائل ہیں جو کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان کوئی بھی چیز خریدنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے بولی لینے کی پابند ہے اور یہ سودا کیش کی بنیاد پر ہی ہوسکتا ہے اور اس میں اشیا کے تبادلے کی گنجائش نہیں ہے ، یوں تو حکومت پاکستان مذکورہ فرد کو ہیلی کاپٹرز بیچ تو سکتی ہے لیکن اس کے بدلے نئے ہیلی کاپٹر خریدنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد