مارٹن کوبلر نے جرمن سفارتخانے میں نوکری کا اشتہار شیئر کیا تو آگے سے پاکستانیوں نے انہیں کیا کچھ کہہ دیا ؟ جان کر آپ کو ہنسی بھی آئے گی اور حیرت بھی ہوگی

مارٹن کوبلر نے جرمن سفارتخانے میں نوکری کا اشتہار شیئر کیا تو آگے سے ...
مارٹن کوبلر نے جرمن سفارتخانے میں نوکری کا اشتہار شیئر کیا تو آگے سے پاکستانیوں نے انہیں کیا کچھ کہہ دیا ؟ جان کر آپ کو ہنسی بھی آئے گی اور حیرت بھی ہوگی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جرمنی کے پاکستان میں سفیر مارٹن کوبلر ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں سفیرِ پاکستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، وہ ٹوئٹر پر بہت زیادہ ایکٹو رہتے ہیں اور پاکستانی بھی انہیں بے حد پسند کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کا مارٹن کوبلر کے ساتھ کھلا مذاق چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے جرمن سفارتخانے میں نوکری کا اشتہار ٹوئٹر پر شیئر کیا تو ایسے ایسے شگوفے پھوٹے کہ مارٹن کوبلر بھی سوچیں گے کہ کہاں پھنس گیا۔

جرمن سفارتخانے میں ایک خاکروب اور 2 مالیوں کی نوکری کا اشتہار دیا گیا ۔ مارٹن کوبلر نے نوکری کا اشتہار ٹوئٹر پر شیئر کیا تو یہ انگریزی زبان میں تھا ۔ بس پھر کیا تھا ’ اردو ہمیں آتی نہیں اور انگریزی ہماری کمزور ہے‘ پر یقین رکھنے والے لوگوں نے نازی سفیر کو ایسے دلچسپ مشورے دیے کہ کسی پنجابی تھیٹر کا گمان ہونے لگا۔

ممتاز حیات مانیکا نے کہا ’ اتنی قابلیت والا خاکروب جرمنی سے ہی ملے گا‘۔ ویسے ان صاحب نے اتنی غلط بات بھی نہیں کی کیونکہ عمومی طور پر خاکروب کی نوکری کورے ان پڑھ لوگوں کے حصے میں آتی ہے اور اگر اشتہار انگریزی میں ہوگا تو پھر خاکروب بھی جرمنی سے ہی لانا پڑے گا۔

سوامی جی تو طبقہ اشرافیہ پر طنز کیلئے کہا جانے والا جملہ مارٹن کوبلر کے گوش گزار کر بیٹھے۔ کہتے ہیں ’ سر خاکروب کوچھوڑیں ، میں انگریزوں کے کتے بھی نہلا سکتا ہوں ، بس مجھے ویزا لگوادیں‘۔

ایک بے روزگار انجینئر نے نوکری کا سٹینڈرڈ اور سکوپ دیکھتے ہوئے فوری اپلائی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

اسد شاہ تو مارٹن کوبلر کے کچھ زیاد ہ بڑے مداح ثابت ہوئے، انہوں نے لکھا ’ میں برلن میں ایک بڑے ہوٹل کی جاب چھوڑ کے آیا ہوں، یہاں آپ کے پاس جھاڑو مارتے اچھا نہ لگوں گا، باقی آپ کی محبت میں جو کرنا ہوا کروں گا، آپ حکم کریں‘۔

ایاز شیر پاﺅ نے خاکروب کی اسامی نکالنے کو جرمن سفارتخانے کی عیاشی سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا کہ اب نیا پاکستان میں اپنا کام خود کیا کرو۔

ایک صارف نے مارٹن کوبلر پر واضح کیا کہ یہ جرمنی نہیں پاکستان ہے اور یہاں آ پ کو ٹوئٹر سے خاکروب نہیں مل سکتے۔

شعیب احمد نے تو جرمن سفیر کے ساتھ رشتہ داری قائم کرلی اور پوچھا ’ کوبلر چاچا، سیلری اور سہولیات کیا ہوں گی؟‘۔

انجینئر صاحب بھی شاید بیروزگار تھے اسی لیے مارٹن کوبلر سے خاکروب کی نوکری کیلئے تجربہ اور تعلیمی قابلیت پوچھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد