”غیر ملکی کو وزیر بنانا اس خطرناک کام کے مترادف ہے کیونکہ۔۔۔“ وزیراعظم عمران خان کے فیصلے پر سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی نے ’خوفناک‘ بات کہہ دی

”غیر ملکی کو وزیر بنانا اس خطرناک کام کے مترادف ہے کیونکہ۔۔۔“ وزیراعظم ...
”غیر ملکی کو وزیر بنانا اس خطرناک کام کے مترادف ہے کیونکہ۔۔۔“ وزیراعظم عمران خان کے فیصلے پر سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی نے ’خوفناک‘ بات کہہ دی

  

جدہ (بیورو رپورٹ) سعودی عرب میں مقیم کمیونٹی کے مختلف گروپوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست ذوالفقار حسین بخاری عرف زلفی بخاری جو برطانوی شہریت بھی رکھتے ہیں کو اپنا معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر کر کے پھر “یو ٹرن” لے لیا ہے جسکی جتنی بھی مزمت کی جائے وہ کم ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک غیر ملکی کو وزیر بنانا ملکی راز دوسروں کے ہاتھ دینے کے مترادف ہے اور پھر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری پر برطانوی ہونے کاُ واشگاف الفاظ میں اظہا کر چکے ہیں تو اسکو کیا کہیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ فی الفور برطانوی شہریت رکھنے والے کو وزارت کے عہدے سے برطرف کر کے کسی محبِ وطن اوورسیز پاکستانیوں کا درد رکھنے اور انکے مسائل سے آگاہی رکھنے والے شخص کو اس عہدہ پر تعینات کیا جائے .

ان کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی کے انکشاف کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) زلفی بخاری کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے  اور تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے زلفی بخاری کو اتنے اہم عہدے  پر تعینات کرنا پی ٹی آئی اور بالخصوض عمران خان پر ایک سوالیہ نشان  ہے کہ نئے اور پرانے پاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے اور نیا پاکستان پرانے سے بھی بدتر ہے جہاں نیب میں مطلوب لوگوں کو زاتی پسند کی بنا پر عہدے بانٹے جا رہے ہیں جو ملکی مفاد میں نہیں ہے. 

مزید : عرب دنیا