”اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ۔۔۔“وزرائے خارجہ ملاقات سے انکار پر سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی پالیسی کاایسا پوسٹ مارٹم کردیا کہ شاہ محمود قریشی بھی حیران رہ جائیں گے

”اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ۔۔۔“وزرائے خارجہ ملاقات سے انکار پر سینیٹر شیری ...
”اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ۔۔۔“وزرائے خارجہ ملاقات سے انکار پر سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی پالیسی کاایسا پوسٹ مارٹم کردیا کہ شاہ محمود قریشی بھی حیران رہ جائیں گے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر   شیری رحمان نے کہاہے کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے اوراب اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ دنیا نے بھی اس کا نوٹس لینا شروع کردیاہے ،اقوام متحدہ کی طرف سے بھارت کو مسئلہ کشمیر پر متنبہ کیاگیاہے ، سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے خواہشمندملک کی جانب سے مذاکرات سے انکار کا کیا مطلب ہے ؟بھارت اب ہٹ دھرمی پر اتر آیاہے۔

جیو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرموجود دنیا کے سب سے بڑے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے متنبہ کیاگیا تھا ، اس سے بھارت کوپریشانی ہے ۔ بھارت اب ہٹ دھرمی کی سطح پر اتر آیاہے ، اس لئے کوئی بات نہیں کرنا چاہ رہاہے اوروہ کہہ رہاہے کہ ہم ایک جنگجو قوت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جو سلامتی کونسل میں مستقل نشست مانگ رہا ہے اس کی جانب سے مذاکرات سے انکار کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کررہاہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اس کو چھپانے میں نا کام ہے جس کی وجہ سے دنیا اس کانوٹس لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے اقوام متحدہ کے فورم پر اپنا مسئلہ صحیح طریقے سے پیش کیا تو دنیا مسئلہ کشمیر سے اب صرف نظرنہیں کرسکے گی ۔دوسری طرف انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ’’ٹویٹر ‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ بھارت نے امن کے عالمی دن پر پاکستان سے امن مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے حالانکہ یہ ایک روٹین کی ملاقات تھی جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران ہونی تھی،مذاکرات سے بھاگنے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سامنے آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کو بہتری کی جانب لے جانے کے لیے مذاکرات لازمی ہیں لیکن بھارت ہمیشہ ان سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔

مزید : قومی