ائیرپورٹ پر بیرون ملک سے مسافر کی آمد، امیگریشن آفیسر نے پاسپورٹ دیکھا تو ہوش اُڑگئے کیونکہ اس کے پاس تو۔۔۔

ائیرپورٹ پر بیرون ملک سے مسافر کی آمد، امیگریشن آفیسر نے پاسپورٹ دیکھا تو ...
ائیرپورٹ پر بیرون ملک سے مسافر کی آمد، امیگریشن آفیسر نے پاسپورٹ دیکھا تو ہوش اُڑگئے کیونکہ اس کے پاس تو۔۔۔

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) مغربی ممالک کو ماضی قریب تک تاریخ کی بدترین دہشت گردی کا سامنا رہا ہے اور آج کل بھی حالات ایسے نہیں کہ سکیورٹی ادارے کسی غیر ذمہ داری کے متحمل ہو سکیں، مگر برطانیہ کے ایک بڑے ائیرپورٹ پر ایسی حیران کن غفلت کا واقعہ پیش آیا ہے کہ جس پر یقین کرنا مشکل ہے۔

ڈیلی سٹار کے مطابق برطانوی شہری میتھیو سٹن پولینڈ کے لئے روانہ ہو رہے تھے مگر جلدی میں اپنے پاسپورٹ کی بجائے اپنے چار سالہ بیٹے کا پاسپورٹ اٹھا لیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ برمنگھم ائیرپورٹ پر کسی نے ان کے پاسپورٹ کو غور سے دیکھنے کی زحمت نہیں کی اور وہ اسی پاسپورٹ پر پولینڈ جا پہنچے۔

وارسا انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک امیگریشن اہلکار نے جب میتھیو کا پاسپورٹ دیکھا تو حیران رہ گیا کہ کس طرح وہ ایک بچے کے پاسپورٹ پر برطانیہ سے پولینڈ آن پہنچے تھے۔یہاں پہلی بار میتھیو کو بتایا گیا کہ اُن کے پاسپورٹ پر لکھا ہوا نام میسن رٹر ہے اور اس پر تصویر بھی کسی بچے کی ہے۔

غلط پاسپورٹ پر دوسرے ملک جاپہنچنے پر میتھیو کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ”یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ایک بچے کے پاسپورٹ پر میں ائیرپورٹ سکیورٹی سے گزر کر دوسرے ملک پہنچ گیا۔ اگرچہ اس میں میری بھی غلطی تھی مگر برمنگھم ائیرپورٹ کے اہلکاروں نے تو غیر ذمہ داری کی انتہا کر دی۔ اگروہ وہیں پر میرا پاسپورٹ دیکھ لیتے تو اتنے مسائل پیدا نا ہوتے۔ مجھے پولینڈ میں داخلے کی اجازت لینے کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

طویل انتظار اور پوچھ گچھ کے بعد جب میری بیٹی نے میرے پاسپورٹ کی تصویر بھیجی تو بالآخر مجھے ائیرپورٹ سے نکلنے کی اجازت ملی۔ پاسپورٹ کے بغیر میرے لئے برطانیہ واپسی بھی ممکن نہیں تھی، لہٰذا پہلے مجھے اپنا پاسپورٹ کورئیر سروس کے ذریعے پولینڈ منگوانا پڑا اور پھر میں برطانیہ واپس آ سکا۔ میرے ساتھ یہ واقعہ 9/11 دہشتگردی کی برسی کے دن پیش آیا، جس وقت آپ توقع کررہے ہوتے ہیں کہ سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہوں گے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ باقی دنوں میں سکیورٹی کے کیا حالات ہوں گے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس