’میں نے اپنی بیٹیوں کے جسم کا یہ حصہ کاٹ دیا، پھر بھی وہ ٹھیک ٹھاک ہیں‘ مسلمان خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ انٹرنیٹ پر طوفان برپاہوگیا

’میں نے اپنی بیٹیوں کے جسم کا یہ حصہ کاٹ دیا، پھر بھی وہ ٹھیک ٹھاک ہیں‘ ...
’میں نے اپنی بیٹیوں کے جسم کا یہ حصہ کاٹ دیا، پھر بھی وہ ٹھیک ٹھاک ہیں‘ مسلمان خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ انٹرنیٹ پر طوفان برپاہوگیا

  

کلکتہ(مانیٹرنگ ڈیسک) جدید دور میں حیاتیاتی و طبی سائنس بے پناہ ترقی کر چکی ہے مگر افسوس کہ صدیوں پرانے کچھ رسوم و رواج پر آج بھی عمل جاری ہے۔ زنانہ ختنے بھی ایک ایسی ہی قبیح رسم ہے جس میں کم عمر لڑکیوں کے پوشیدہ اعضاءکا کچھ حصہ کاٹ دیا جاتا ہے۔ یہ بات نا صرف میڈیکل سائنس کے اعتبار سے سخت نقصان دہ اور خطرناک ہے بلکہ مذہبی سکالر بھی اسے شیطانی فعل قرار دیتے ہیں۔ بہت سے افریقی ممالک میں یہ رسم بڑے پیمانے پر رائج ہے، مگر سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مسلمان بھارتی خاتون نے اس کے حق میں بات کر کے ہر کسی کو حیران کر دیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق زنانہ ختنے سے متعلق پوسٹ کی گئی ویڈیو اور ٹویٹ دراصل ایک اشتہاری مہم لگتی ہے، جسے ”داﺅدی بوہرہ ویمن فار ریلیجس فریڈم“ نامی گروپ کے نام سے بنائے گئے گروپ کی جانب سے پوسٹ کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں کم سن لڑکیوں کے ختنے کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس پر سوشل میڈیا صارفین شدید برہم ہیں۔

اس ویڈیو میں عروہ سوہانگ پور والا نامی خاتون کو دکھایا گیا جو کہتی ہے کہ ” میری بیٹیوں کا خفض (یعنی زنانہ ختنہ) ہوا ہے لیکن وہ بہترین طریقے سے نشوونما پارہی ہیں ، دیگر بچوں کی طرح۔ ایک ماں کے طور پر میں انہیں نقصان پہنچانے والا کام کبھی نہیں کروں گی۔“ اس خاتون کا تعلق بھارتی شہر کلکتہ سے بتایا گیا ہے جبکہ پیشے کے لحاظ سے وہ چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ بتائی گئی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اس ٹویٹ اور اشتہاری ویڈیو پر سخت برہم ہیں اور اسے ٹویٹر کی جانب سے کھلی بے حیائی اور غیر اخلاقی حرکات کی تشہیر قرار دیا جا رہا ہے۔ مذہبی سکالرز کا بھی کہنا ہے کہ زنانہ ختنے نہ صرف غیر انسانی اور گناہ کا عمل ہے بلکہ بچیوں کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ قانونی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک سنگین جرم بھی ہے۔

مزید : بین الاقوامی