روس سے جیٹ طیارے خریدنے کی پاداش میں عائد پابندیاں، چین نے امریکہ کو اب تک کی سب سے بڑی دھمکی دے دی 

روس سے جیٹ طیارے خریدنے کی پاداش میں عائد پابندیاں، چین نے امریکہ کو اب تک کی ...
روس سے جیٹ طیارے خریدنے کی پاداش میں عائد پابندیاں، چین نے امریکہ کو اب تک کی سب سے بڑی دھمکی دے دی 

  

بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روس سے جیٹ طیارے خریدنے کی پاداش میں چین پر لگائی جانے والی پابندیاں واپس لے یا پھر نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔

برطانوی خبر رساں ادارے  کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے روس سے جیٹ طیارے خریدنے کی پاداش میں امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں پر سخت ردعمل کا اظظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چین پر لگائی جانے والی پابندیاں واپس لے یا پھر نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سخت الفاظ استعمال کیے تو ہیں لیکن عملی اقدامات ہی سے واضح ہو سکے گا کہ چین دراصل کتنا برہم ہے۔دوسری طرف امریکہ نے چین پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے جواز میں کہا ہے کہ چین نے روس سے طیارے خرید کر روس پر عائد ان پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے جو اس پر امریکی انتخابات میں مداخلت اور یوکرین میں فوج کشی کے بعد لگائی گئی تھیں، ان پابندیوں کا نشانہ روس ہے جبکہ امریکہ دوسرے ملکوں کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا نہیں چاہتا۔واضح رہے کہ چین نے حال ہی میں روس سے دس سخوئی Su۔35 جنگی طیارے اور S۔400 طیارہ شکن میزائل خریدے ہیں جبکہ اس ماہ چینی فوج نے روس کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر ہونے والی جنگی مشقوں میں بھی حصہ لیا تھا۔یاد رہے کہ چین خود جدید ترین جنگی ساز و سامان بنا رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روسی فضائی دفاعی نظام اور جنگی طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

دوسری طرف روس نے بھی چینی فوج پر عائد پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہا ہے۔بی بی سی کے دفاعی امور کے تجزیہ کار جوناتھن مارکس نے تازہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی ان پابندیوں سے روس اور چین کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا، کیوں کہ دنیا میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف دونوں ملکوں کے نظریات ملتے جلتے ہیں، اب دنیا بدل رہی ہے اور امریکہ معاشی طور پر پہلے جتنا طاقتور نہیں رہا اس لیے اس کی معاشی پابندیاں بھی پہلے جتنی موثر نہیں رہیں۔

مزید : بین الاقوامی