’’ جب عہدے دیانت داری اور قابلیت کی بجائے ‘‘معروف صحافی عارف حمید بھٹی کو سوال اٹھانا مہنگا پڑ گیا ،سوشل میڈیا صارفین نے دن میں تارے دکھا دیئے

’’ جب عہدے دیانت داری اور قابلیت کی بجائے ‘‘معروف صحافی عارف حمید بھٹی کو ...
’’ جب عہدے دیانت داری اور قابلیت کی بجائے ‘‘معروف صحافی عارف حمید بھٹی کو سوال اٹھانا مہنگا پڑ گیا ،سوشل میڈیا صارفین نے دن میں تارے دکھا دیئے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف صحافی اور تجزیہ کار عارف حمید بھٹی اپنے بے باک تجزیوں اور مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت پر تنقید کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں ،ان پر تنقید اور انکے تبصروں اور تجزیوں کی تائید و حمایت  کرنے والوں کی کمی نہیں تاہم اب انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی بات کہہ دی کہ ان کے مخالف صارفین کا صبر جواب دے گیا اور انہوں نے سینئر صحافی کو کھری کھری سنا دیں ۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’’ٹویٹر‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’جس ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کی نشاندہی کرنے والے اور انو سٹی گیشن کرنے والوں سے ملزموں جیسا سلوک ہو،دھوکہ دینے ، لوٹ مار کرنے والے معصوم بنا دئیے جائیں ،وہاں انصاف کی تلاش مردوں سے مراد پانے کے برابر ہو جاتی ہے ، جب عہدے دیانتداری اور قابلیت کی بجائے ۔۔۔۔دیئے جائیں وہاں؟‘‘۔عارف حمید بھٹی کی اس ٹویٹ کے بعد صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کھری کھری سنا دیں ۔جاوید چوہدری نامی ٹویٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’’بھٹی صاحب جس دن اس ملک میں میرٹ کا بول بالا ہوا آپ واپس چائے کے کھوکھے پر ہونگے‘‘۔

طور سینا نامی صارف نے عارف حمید بھٹی کو جلی کٹی سناتے ہوئے کہا کہ ’’اپنے سر کی سفیدی دیکھ کر ہی سچ بول لو ،ہوسکتا ہے کہ اگلے لمحے تمھاری جان نکل جائے تو کیا جھوٹے مرو گے‘‘۔

امجد ملک نامی ٹویٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’’بھٹی صاحب کسی پر بھی الزام لگانا آسان ہوتا ہے جب ثبوت مانگا جائے تو پھر موت پڑ جاتی ہے، آپ کے پاس بھی بہت سے ثبوت ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں آپ ہی کوئی ثبوت پیش کر دیتے یا پھر آپ کو بھی ؟؟؟؟؟؟۔

قائد کا پاکستان نامی ٹویٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’’ سمجھ یہ نہیں آ رہی کہ آپ لوگ محرم کے تقدس کی وجہ سے سوگ میں ہیں یا نوازشریف کی رہائی کی وجہ سے سوگ میں ہیں؟ پی ٹی وی نیوز تو ایسے ہی بدنام ہے ،اصل غلاظت کا ڈھیر تو اے آر وائی میں ہے‘‘۔

سیدہ زارا زاہد نامی خاتون صارف نے عارف حمید بھٹی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’’جنگل کا قانون اسی کو کہتے شائد، جہاں شیر کو سب جانور کھانے کی اجازت ہے کیونکہ اس کے پاس طاقت ہے؟؟‘‘۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور