امتِ مرحومہ کے بے حس حکمران

امتِ مرحومہ کے بے حس حکمران
امتِ مرحومہ کے بے حس حکمران

  


قسم بخدا اب تو دن میں بھی باہر نکلتے ہوئے ڈر نکلتا ہے کہ کہیں کسی سائیڈ سے گولی آکر نا لگ جائے ۔۔۔

یہ سوچ رہا ہوں کہ بیچارے کشمیری کیسے اپنے دن رات گزارتے ہوں گے انہیں تو ہر وقت ہی ظالموں کا ڈر رہتا ہے۔۔۔ 

ارے ڈر کیوں بھلا وہ تو ڈر دل سے نکال چکے ہیں انہیں تو اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں رہی ہوگی اب !!!

اے میرے مولا میرے گاؤں کی حفاظت فرما اور حفاظت فرما اس امت مسلمہ کی جو کب کی مرچکی ہے ، میرے مولا میرے دل کے اندر جو جذبات ہیں میں وہ لکھ نہیں سکتا پتا نہیں کیوں کاش کوئی ایسا سکول بھی ہوتا کہ جہاں میں جذبات لکھنے پڑھ سکتا !!! کاش کوئی ایسا ادارہ بھی ہوتا کہ جہاں سے میں برما،فلسطین و کشمیر  کے لوگوں پر ہونے والے لوگوں پر کچھ لکھنا سیکھ سکتا ۔۔۔

کاش میں وہ 48 دن کا کرفیو لکھ سکتا اے کاش میں گولیوں سے چھلنی ہونے والے منہ کی داستان لکھ سکتا لیکن میں کسی باہر کی داستان کیسے لکھوں میں تو اپنے ملک کے اندر ماں کی آغوش میں تڑپ تڑپ کر جان دینے والے بچے کے بارے میں نہیں لکھ سکا میں تو اس ماں کی بے بسی نہیں لکھ سکا جس کا اکلوتا بیٹا اس کی جھولیوں میں دم توڑ رہا ہے ۔۔۔

اے ارباب اختیار و اقتدار اک نظر ادھر بھی کہیں19،20 سال کا یہ بچہ بھی اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے مر جائے ،کہیں اس بچے کو ڈپریشن کی وجہ سے لوگ پاگل کہنا شروع کردیں ۔۔۔

اے مسلم امہ کے حکمران !!! ذرا دیکھیے مظفر وانی کے گھر جاکر کیسے اس کی ماں اپنے شہید بیٹوں کو ابھی تک بھلا نا پائی ۔۔۔ اگر آپ دیکھنے ہی نکلے ہیں تو دیکھیے اس اسلم نامی بچے کی گولیوں سے چھلنی لاش کو جس کی خواہش تھی کہ وہ بڑا ہوکر شاہد آفریدی بنے گا ، دیکھے محض چھوٹی سی اس بچی کو جس نے ایک ہاتھ میں فیڈر اور دوسرے میں پتھر اٹھا رکھا ہے، آگے بڑھ کر ذرا دیکھیے کہ جب ماہرہ خان کو خوبصورتی کی بنیاد پر ایوارڈ دیا جارہا ہے تو وہیں ایک برقعے والی خاتون اپنے دونوں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے دشمن کے ساتھ مقابلے کےلئے تیار ہے !!! ذرا سا آگے بڑھ کر دیکھو میر واعظ کی آنکھوں میں کہ اس کی آنکھیں ابھی تک اس امت سے شکوہ کررہی ہیں ۔۔۔

مگر !!!  آپ کو کشمیر میں ہونے والے ظلم کی کوئی تصویر  بھلا کیوں  نظر  آئے گی  ، آپ کو مسجد اقصیٰ میں نماز کے دوران ہونے والی شہادت بھی نظر نہیں آئے گی اگر آپ کو نظر آیا تو حجاب کا نوٹیفیکشن واپس لینا نظر آیا۔۔۔  لیکن اے ارباب اختیار میں آج شرمندہ ہوں اپنے مسلمان بھائیوں سے جن پر ہر روز ظلم ڈھایا جارہا ہے ، میں شرمندہ ہوں یاسین ملک سے ،میں شرمندہ ہوں اس کشمیری سے کہ جس کی میت پاکستانی جھنڈے میں ملبوس ہے ،ہاں میں شرمندہ ہوں برہان وانی سے اور میں شرمندہ ہوں اس دودھ پیتی ننھی بچی سے کہ جس نے اپنا گھر بار اآزادی کے کارواں میں لٹادیا ۔۔۔

میں کیا کروں میرے بس میں کیا ہے میں اگر کچھ کرنا بھی چاہوں تو نہیں کرسکتا میں اگر لکھنا بھی چاہوں تو نہیں لکھ سکتا کیونکہ مجھ سے پہلوں پر بھی غداری کے فتوے لگ چکے ہیں اور مجھے بھی غدار بناچکے ہیں

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں

تو ہندوستان کا ہر پیر وجواں بے تاب ہو جائے

مرشدی اقبال  فرماتے ہیں۔۔۔

ایک ہوں مسلم امہ کی پاسبانی کےلئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر

(مرشدی سے معذرت )

مزید : بلاگ


loading...