میڈیا پر پھر زوال آ گیا؟

میڈیا پر پھر زوال آ گیا؟
میڈیا پر پھر زوال آ گیا؟

  


صحافت (میڈیا) پر اب جو دور آیا، یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں، پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا اور پھر بتدریج بہتری ہوئی۔ اس میں بہرحال کاوش تو سب کی تھی لیکن جدوجہد اور قربانیوں کی تاریخ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا درجہ بلند رہا اور اخباری صنعت کے کارکنوں نے مجموعی طور پر ہمت اور جرات کا مظاہرہ کیا، تب بات اتحاد والی بھی تھی چنانچہ دور آمریت میں پابندیوں کی زنجیریں جمہوری حکومت کے آتے ہی ٹوٹ جاتی رہیں، ہر زمانے میں برسراقتدار آنے والوں نے اختیار کلی کے ہی خواب دیکھے اور ایسا ہوا بھی لیکن یہ جنرل حضرات ہی کی حکومتوں میں تھا۔ ان ادوار ہی کی جدوجہد بھی تاریخی لیکن اب جو وقت آیا اور جو حالات ہیں وہ کئی لحاظ سے گزشتہ کی نسبت خراب ہیں، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس وہ نہیں جو تب تھی، اسی طرح آجر حضرات کے اندر بھی وہ والا اتحاد نہیں ہے اور شاید پس پردہ قوتوں نے انہی حالات کو بھانپا اور جانچا ہے اور اسی سے فائدہ اٹھا کر برسراقتدار حضرات نے اپنی سوچ کو بھی عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کابینہ کا ایک فیصلہ سنایا کہ حکومت میڈیا کورٹس بنانے جا رہی ہے جو سہ فریقی شکایات کا ازالہ کریں گی۔ حکومت، میڈیا مالکان اور میڈیا کارکن اپنے اپنے شعبہ کی شکایت لے کر جا سکیں گےّ معاون خصوصی کی یہ تجویز نئی نہیں، یہ تو موجودہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے اپنے دور وزارت اطلاعات ہی میں پیش کر دی اور بڑے دلائل بھی دیئے تھے، وہ پریس کونسل،پیمرا اور ایسے دوسرے اداروں ہی کو ختم یا ضم کرکے نیا ادارہ اور میڈیا کورٹس بنانے کی بات کرتے تھے۔ پھر یہ بات ان کی تبدیلی کے ساتھ دب گئی۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ختم نہیں ہوئی تھی اور اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ معتوب تو فواد چودھری ہوئے لیکن یہ تجویز ان کی نہیں کسی دوسرے زرخیز دماغ کی تھی کہ میڈیا کو کنٹرول کرنا ہر ایک کی خواہش رہی ہے تاہم ہماری نصف صدی اور چھ برس کا یہ تجربہ ہے کہ جنرل ایوب کا نیشنل پریس ٹرسٹ اور پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈی ننس 1963ء بھی یہ مکمل اختیار حاصل نہ کر سکا۔

پریس ٹرسٹ اور اس آرڈیننس کے ہوتے ہوئے بھی اس اخباری صنعت کے کارکنوں نے ہتھیار نہ ڈالے اور بالآخر کامیابی حاصل کی تھی، ایسا ہی جنرل ضیاء الحق اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے وسطی دور میں بھی ہوا اگرچہ انہوں نے الیکٹرونک میڈیا کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم سب ادوار میں جدوجہد ہی رنگ لاتی رہی، یہ نہ سمجھا جائے کہ ایسا صرف آمریت ہی کے ادوار میں چاہا گیا۔ یہاں جمہوری زمانے اور سیاسی اقتدار میں بھی یہی خواہش ابھرکر آتی رہی کہ میڈیا کی مکمل حمایت انہی کو حاصل ہو، اس میں ذوالفقار علی بھٹو اور محمد نوازشریف کے دور حکومت کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، اگرچہ طریق کار مختلف تھے اور ہتھیار بھی الگ الگ استعمال ہوئے۔

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس سارے گورکھ دھندے کے لئے دلائل کی بات کر لیں ہمیشہ کہا گیا کہ میڈیا کسی ضابطہ اخلاق کا پابند نہیں اور صاحب اختیار یا معاشرے کے افراد کی عزت اچھالی جاتی ہے۔ ہمارا موقف ہمیشہ یہ رہا کہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ غیر اخلاقی ہی نہیں بداخلاقی ہے اور قابل سزا بھی ہے تاہم اس کے لئے ملکی قوانین موجود ہیں۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 501-500موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہرجانے کے دعوے بھی کئے جا سکتے ہیں اور ایسا ہوتا بھی رہا ہے، جہاں تک پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، سی پی این ای اور اے پی این ایس کا تعلق ہے تو ہم سب ضابطہ اخلاق کے قائل ہیں، پی ایف یو جے کے آئین کا آخری صفحہ ضابطہ اخلاق پر مشتمل ہے اور اسے پڑھا جا سکتا ہے۔

سی پی این ای اور اے پی این ایس اور اب پی بی اے نے بھی مکمل تعاون کیا اور پریس کونسل کا ڈول ڈالا گیا، اسے زیادہ فعال کرنے کی ذمہ داری برسراقتدار حضرات کی تھی اور وہ اپنی یہ ذمہ داری نبھا نہ سکے یا پھر وجوہ پوری نہ کیں۔ تاہم پیمرا تو فعال ہے اور اس کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں اور جرمانے سے بندش تک ہوئی ایسی صورت میں کسی نئے قانون یا ادارے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ آپ اپنی خواہش کو پورا کرتے۔

آج صورت حال یہ ہے کہ ابلاغ کی صنعت آئی سی یو میں ہے، ادارے ڈوب رہے ہیں، ہزاروں کارکن بے روزگار کئے گئے اور باقی والوں کے سر پر تلوار لٹک رہی اور ان کے ماہانہ معاوضے کم کر دیئے گئے کوریج کی صورت یہ ہے کہ اب اپوزیشن کا حصہ کم ہوتے ہوتے تھوڑا رہ گیا۔ بلاول کہیں سنگل کالم اور کہیں ڈبل کالم پر چلا گیا، اس کی تقریر ٹیلی کاسٹ ہوتے روک لی گئی، مولانا فضل الرحمن کا ریکارڈڈ انٹرویو چلنے نہیں دیا گیا اور یہی صورت حال دوسروں کے ساتھ ہے۔ یہ سب یوں ممکن بنایا گیا کہ کفایت شعاری اور فضول خرچی کا ”رولا“ ڈال کر اشتہارات بند ہی کر دیئے گئے۔ معاشی بحران نے کمرشل بزنس کو بھی ختم کر دیا۔ میڈیا پر نزع طاری ہو گیا۔

جہاں تک ہمارا اور ہماری مرحوم فیڈریشن کا تعلق ہے تو ہمارا ہمیشہ واضح موقف رہا کہ ضابطہ اخلاق لازم، کسی کو کسی کی توہین کا حق نہیں، حتیٰ کہ ہم اپنے دور پرنٹ میڈیا میں بطور رپورٹر اور نیوزروم خود ہی سنسر بورڈ تھے اور کوئی کچھ بھی کہے ہم خود ہی ایڈیٹ کر لیتے تھے۔ اسی لئے ہم نے ہمیشہ یہ عرض کیا کہ الیکٹرونک میڈیا کو ”لائیو براڈ کاسٹ“ دکھاتے وقت کم از کم 30سے 40سیکنڈ کا وقفہ ایڈیٹنگ کا بھی رکھنا چاہیے۔ بہرحال یہ وہ بات ہے جس کے ہم قائل ہیں کہ ”مادر پدر آزادی“ آزادی صحافت نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم آزادی پر سمجھوتہ بھی نہیں ہو سکتا، اس پیرانہ سالی میں بھی ہم امتحان سے گزرنے کے لئے تیار ہیں۔

اب اپنے پروفیشن پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ارباب بست و کشاد اور تمام کارکنوں (صحافی + غیر صحافی، تخصیص نہیں) کو مستقبل اور حال پر غور کر کے دل کشادہ کرنا ہوں گے، ہماری عاجزانہ کوشش اور استدعا کے باوجود کارکنوں میں اتحاد نہیں ہو سکا تاہم یہ ممکن ہے کہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی تنظیمیں اور کارکنوں کی تمام متحارب تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ میں مشترکہ ایکشن کمیٹیاں بنا لیں اور پھر ایک بڑی مجلس عمل تشکیل دیں جو سب کی نمائندہ ہو، جدوجہد جبھی ممکن ہوگی۔ الگ الگ مارے جائیں گے۔ کارکن تو شاید ریڑھی لگا لیں لیکن ادارے بند ہوئے تو قومی نقصان ہو گا۔ہم برسراقتدار حضرات سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ واحد جماعت اور حکام نہیں جن کو تنقید بُری لگتی ہے۔ ایسا ہر دور میں ہوا لیکن پھر وہ وقت آیا، جب یہی اقتدار والے خود آزادی صحافت کا نعرہ لگانے پر مجبور ہوئے۔ ہماری گزارش ہے کہ ادارے مضبوط کرنے کا یقین دلانے والے آج کی اپوزیشن سابق اقتدار والوں سے صحافتی اہمیت پوچھ لیں اور اداروں کو کمزور نہ کریں۔

مزید : رائے /کالم /اداریہ


loading...