افغان باقی۔ کہسار باقی۔الحکم للہ الملک للہ

افغان باقی۔ کہسار باقی۔الحکم للہ الملک للہ
افغان باقی۔ کہسار باقی۔الحکم للہ الملک للہ

  


ہماری قومی عسکری تاریخ میں ایک نام بڑا معروف ہے بریگیڈیئر یوسف،یہ ملٹری انٹیلی جنس والے وہ بریگیڈئیر نہیں ہیں جو شاید آج کل بھی پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔ یہ بریگیڈئیر یوسف”بیئر ٹریپ“ نامی شہرہ آفاق تحقیقاتی و تاثراتی اور معلوماتی کتاب کے مصنف ہیں آپ جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکمرانی میں آئی ایس آئی کے افغان ڈیسک کے انچارج تھے انہوں نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے ان عظیم الشان کارناموں کا نہ صرف مشاہدہ کیا، بلکہ وہ خود اس تاریخی دور میں تاریخ سازی کا حصہ رہے جب دسمبر 79ء میں اشتراکی افواج قاہرہ، دریائے آموکراس کر کے افغا نستان پر قابض ہوئیں تو دنیا نے ا س حملے کو بڑی سنجیدگی اور افسوس کے ساتھ لیا امریکی قیادت نے تو افغانستان کو ”بھولی بسری داستان“ قرار دے کر جنرل ضیاء الحق کو 300 ملین ڈالر کی امداد آفر کی تاکہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ملنے والی اپنی سرحدات کو مضبوط بنا لے، کیونکہ اب وہاں پاکستان کو اشتراکیوں کی ہمسائیگی کا سامنا کرنا ہوگا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنی قوت ایمانی اور مؤمنانہ فراست کے ساتھ افغانستان کی تحریک آزادی کو سپورٹ کر کے اشتراکیوں کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کی آئی ایس آئی، افغان تحریک آزادی کی پشتیان بنی۔ بریگیڈئیر یوسف اسی ٹیم کا حصہ تھے جو افغان مجاہدین کی ملٹری ٹریننگ اور ان کی پوزیشنگ کی ذمہ دار تھی جب 1988ء میں جنیوا امن معاہدے کے تحت اشتراکی 1989ء میں شکست کھا کر ا فغانستان سے رخصت ہو گئے تو بریگیڈئیریوسف نے افغان تحریک مزاحمت کے پس منظر میں ”بیئر ٹریپ“ لکھی جو اس دور کی بیسٹ سیلر کتابوں میں شمار ہوئی۔

آپ نے افغانوں کی طبیعت اور سوچ کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ ”سردیوں کے موسم میں، کیونکہ سردی انتہائی شدید ہوتی ہے اور زندگی کا پہیہ رک جاتا ہے تو پھر لوگ مل جل کر بیٹھتے،آگ سینکتے اور گپ شپ لگا کر وقت گزارتے ہیں ایسے ہی موقع پر آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھے ہوئے دو افراد نے اپنے اپنے قبیلے کی بہادری کے واقعات سنانے شروع کئے، لیکن بڑی دیر تک طے نہ ہو پایا کہ کون زیادہ بہادر ہے، حتیٰ کہ دونوں نے اپنا اپنابازو آگ کے شعلوں پر رکھا اور اتنی دیر تک رکھے رکھا کہ کھال، گوشت اور ہڈیاں کوئلہ بن کر جھڑ گئیں کسی نے تکلیف کی شدت کا اظہار نہیں کیا۔ یہ بہادری کی افغان سوچ ہے۔

لڑائی دشمن کے خلاف لڑنا حملہ آور کو معاف نہ کرنا پشتون کی سرشت میں شامل ہے لڑائی مارکٹائی، مارنا اور مرجانا اسکی طبیعت میں ایسے شامل ہے جیسے رگوں میں دوڑتا ہوا خون افغان کی یہ صلاحیت اس وقت اور بھی نکھر جاتی ہے، جب حملہ آور طاقت ور ہو۔ افغان کبھی سامنے سے حملہ نہیں کرتاوہ چھپ کر اپنی مرضی کے مطابق دشمن پر وار کرتا ہے اور کامیاب وار کرتا ہے جب دشمن ختم ہو جاتا ہے شکست کھا جاتا ہے بھاگ جاتا ہے تو پھر افغان آپس میں لڑ نے لگتے ہیں، کیونکہ لڑنا ہی انکی زندگی ہے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان کچھ عرصہ پہلے تک جاری مزاکرات میں چار بنیادی ایشو ز زیر بحث تھے امریکی اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلاء طالبان کی طرف سے یقین دھانی کہ غیر ملکی ٹروپس کی واپسی کے بعد افغانستان کی سر زمین غیر ملکی د ہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہو گی، جنگ بندی کا اعلان اور افغان گروپوں کے درمیان مزاکرات۔ طالبان کا فوکس مزاکرات سے پہلے بھی غیر ملکی افواج کے انخلاء پر تھا اور مذاکرات کے 9 راؤنڈز کے دوران بھی طالبان اسی نقطے پر مرکوز رہے کہ امریکہ اپنی افواج کے انخلا کے بارے میں واضح اعلان کرے۔ طالبان نے انخلاء کے کسی لمبے چوڑے پلان سے بھی بیزاری کا اظہار کیا حتیٰ کہ امریکہ نے 135 دنوں میں اپنے پانچ فوجی اڈے سمیٹنے کا اعلان کیا۔ ویسے تو طالبان کسی قسم کے مذاکرات کے حق میں نہیں تھے طالبان 18 سال بندوق کی نالی کے ذریعے میدان جنگ میں دشمن سے پنجہ آزمائی کر چکے ہیں۔انہوں نے ابھی تک جنگ سے تھک جانے یا کسی قسم کی کمزوری اور کوتاہی کا اظہار نہیں کیا ہے امریکی قیادت پہلے بھی 2016ء تک افغانستان سے نکل جانے کا اعلان کر چکی تھی امریکہ کی موجودہ قیادت بھی یہاں سے نکل جانے کا اعلان کر چکی ہے طالبان کو تو کسی قسم کی جلدی نہیں ہے کہ دشمن یہاں سے چلا جائے۔ معطل شدہ دو فریقی مزاکرات ایک سال سے جاری تھے۔

طویل مزاکرات کے نو ادوار ہوئے بیان کردہ 4 امور بالخصوص زیر بحث آئے۔ معاملات سست روی کے ساتھ آگے بڑھتے بڑھتے مفاہمت اور مصالحت کے قریب پہنچ چکے تھے امریکی اپنے انخلاء کے بارے میں طالبان کی تسلی و تشفی کے مطابق فیصلہ اور اعلان بھی کر چکے تھے۔ طالبان نے امریکیوں کو یقین دھائیاں بھی کروا دی تھیں۔ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سیز فائر کے بارے میں بھی معاملات مجوزہ معاہدے کے مسودے میں لکھے جا چکے تھے انٹرا افغان ڈائیلاگ بارے جگہ کا بھی تعین ہو چکا تھا۔ امریکی مزاکراتی لیڈر زلمے خلیل زاد اتفاق شدہ مسودہ لے کر کابل آئے اور اشرف غنی کو دکھایا کہ ”یہ کچھ ہونے جا رہا ہے“

افغان صدر نے اس مجوزہ معاہدے کی کاپی کا مطالبہ کیا تو انکار کر دیا گیا۔ پھر خلیل زاد امریکہ جانے والے تھے تاکہ امریکی صدر سے اس معاہدے کی منظوری لے سکیں، لیکن وہ کابل سے حیران کن طریقے سے دوبارہ دوھا چلے گئے اور طالبان کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہو گئے پھر اچانک امریکی صدر کی مذاکرات ختم کرنے کی ٹویٹ سامنے آ گئی۔دُنیا امریکی افواج کی افغانستان سے واپسی دیکھنے کی منتظر تھی یہ بات طے تھی کہ امریکی ایسے ہی افغانستان سے خوار ہو کر نکلیں گے جیسے اشتراکی اور برطانوی افواج یہاں سے نکلی تھیں امریکی ویت نام میں بھی ایسے ہی خوار ہوئے تھے ویت نامیوں نے امریکیوں کا حلیہ بگاڑا تھا لیکن ایک بات اہم ہے کہ ویت نامیوں کے ساتھ روسی و چینی ممدومعاون تھے، لیکن طالبان کے ساتھ تو پاکستان بھی نہیں تھا پا کستا نی کمانڈوقیادت نے تو 9/11 کے بعد امریکی قیادت کے ایک ٹیلی فون پر نہ صرف اس کے سارے مطالبے مان لئے اور اپنی دو دہائیوں سے اختیار کردہ افغان پالیسی بیک جنبش قلم تبدیل کردی،بلکہ امریکیوں کے لئے اپنی زمین اور فضا بھی کھول دی تاکہ وہ یہاں سے افغانوں پر حملہ آور ہو سکیں۔ طالبان نے اپنی آزادی کی جاری جنگ تن تنہا اپنے دست و بازو سے لڑی امریکیوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان ایک فاتح کے طور پر میدان جنگ میں کھڑے ہیں دُنیا دیکھ رہی ہے کہ ورلڈ سپریم پاور کے نمائندے ”اُجڈ، جاہل اور دہشت گرد“ طالبان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر مذاکرات کر رہے ہیں کچھ لوگ اسے امن مذاکرات کہہ رہے ہیں، لیکن دراصل یہ مزاکرات امریکی افواج کے انخلاء کو ”مذاکراتی چھتری“ مہیا کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ سب کچھ اچانک کیا ہوا کہ مذاکرات کو حتمی مرحلے پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ امریکہ نے تو کابل پر طالبان کے خود کش حملے کے نتیجے میں ایک امریکی کی ہلاکت کو جواز بنا کر سارے عمل پر پانی پھیر دیا، لیکن اصل حقیقت کچھ اور ہے اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والا امریکی سپاہی نہیں میجر جنرل رینک کا امریکی تھا دوسری اطلاعات کے مطابق جب زلمے خلیل زاد کابل سے دوحا طالبان وفد کو امریکی صدر کے ساتھ خفیہ ملاقات کے لئے کیمپ ڈیوڈ لے جانے کے لئے گئے تھے تو طالبان وفد کے ایسی ملاقات سے انکار نے صورتِ حال میں ڈرامائی تبدیلی پید اکی امریکی صدر نے خجالت سے بچنے کے لئے”ڈرامائی اعلان“کیا۔ وجہ کچھ بھی ہو مزاکرات ہوں، معاہدہ ہو یا مذاکرات معطل ہوں یا جنگ جاری رہے۔ طالبان دُنیا کی غالب عسکری و تہذیبی طاقت کے مدمقابل جنگ جیت چکے ہیں،امریکہ طالبان کی فتح اور جیت کے اعلان کو وقتی طور پر موخر تو کر سکتا ہے، لیکن چھپا نہیں سکتا ہے۔ افغانستان افغانوں کا ہے انہی کا رہے گا۔

مزید : رائے /کالم /اداریہ


loading...