میڈیا مارعدالتیں بنانے کا خواب

میڈیا مارعدالتیں بنانے کا خواب
میڈیا مارعدالتیں بنانے کا خواب

  


”نیا پاکستان“ بننے کے بعد یوں تو شاید ہی کوئی شعبہ ہو جو مشکلات میں نہ پھنسا ہو،لیکن میڈیا کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا اور کیا جا رہا ہے ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔پوری طر ح سے گھائل کرنے کے بعد اب بچی کھچی سانسیں بھی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔میڈیا سے متعلق شکایات کے فو ری ازالے کیلئے خصوصی عدالتیں بنانے کا فیصلہ اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو چاہتا ہے کہ پوری طرح سے کٹھ پتلی حکومت،مجبور عدلیہ اور ریموٹ کنٹرول میڈیا کا وجودعمل میں لانے کے بعد ہی انکا قبضہ مکمل ہوگا۔میڈ یا ٹربیونل بنانے کا فیصلہ کا بینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ انداز بالکل ویسا ہی تھا جیساماضی میں انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتیں بناتے وقت اختیارکیا گیا تھا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بتایا گیا کہ نئے اور زیر التوا مقدمات کا فیصلہ 90 روز کے اندر ہوگاجس میں حکومت سمیت تمام سٹیک ہولڈروں کا احتساب ہو سکے گا۔مجوزہ ٹربیونل اعلیٰ عدلیہ کی نگرانی میں کام کریں گے۔

میڈیا ٹربیونل کے قیام کے بعد پریس کونسل اور پیمرا کی تشکیل نو کے لئے ایک باڈی بنائی جائے گی۔اب آتے ہیں اصل نکتہ کی طرف جس پر چور کی داڑھی میں تنکا والے محاورے کا اطلاق ہوتا ہے۔وہ یہ کہ کابینہ نے اس امر پر نہایت تشویش کا ا ظہارکیا کہ بعض عناصر کی جانب سے آزادیئ اظہار کی آڑ میں اعلیٰ حکومتی شخصیات پر بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے الزامات لگائے گئے۔وزیر اعظم سمیت وزراء کی نجی زندگیوں کو بے بنیاد پروپیگنڈے کانشانہ بنایا گیا۔یعنی اصل تکلیف حکومتی عہد یداروں کے بارے میں خبریں اور تبصرے ہیں۔

معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے حکومتی فیصلے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے دعویٰ بھی کیا کہ مجوزہ میڈیا ٹربیونل حکومتی شکنجے سے عملی طور پر آزاد ہوں گے۔انہی ٹریبونلز میں میڈیا ہاؤسز کے اندرونی معاملات پر بھی مقدمات دائر ہو سکیں گے تا کہ مالکان اور کارکنوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرکے آزادیئ صحافت کا پہلے ہی سے تارتار کمبل چرا لیا جائے۔ظاہر ہے حکومت کا یہ منصوبہ صرف اور صرف میڈیا انڈسٹری کا گھیراؤ مزید سخت کرنے کی کوشش ہے۔اسی لیے تمام صحافتی تنظیموں اور یونینز نے متفقہ طور پر مسترد کردیا۔ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اس سازش کو بھانپ کر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔انسانی حقوق کمیشن نے اسے میڈیا کو ڈرانے،دھمکانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے سخت مخالفت کردی۔ اے پی این ایس،پی بی اے اور صحافتی تنظیموں نے کابینہ اجلاس کے فیصلے کو سیاہ دن قرار دیا اور کہا کہ بد نیتی پر مبنی اس اقدام کا مقصد آزادی اظہار پر پابندیاں لگا کر میڈیا کو مزید کنٹرول کرنا ہے۔پہلے سے مالی مسائل اور ہر طرح کی دھمکیوں کا سامنا کرنے والی میڈیا

مزید : رائے /کالم /اداریہ


loading...