”اس ظلم سے بچا جاسکتا تھا !“

”اس ظلم سے بچا جاسکتا تھا !“
”اس ظلم سے بچا جاسکتا تھا !“

  


قصور میں ایک جنسی درندے کے ہاتھوں ننھی زینب اوردیگر معصوم بچیوں کی چیخو ں کی بازگشت ابھی تھمی نہ تھی کہ بچوں سے جنسی زیادتیوں کے حوالے سے پنجاب کے اس بدنام ترین ضلع قصور کے علاقے چونیاں میں ایک اوردرد ناک سانحہ وقوع پذیر ہوگیاجس نے سارے ملک کے والدین کوہلا کررکھ دیاہے ۔

معاملہ یہ ہوا کہ جب چونیاں سے گمشدگی کے دوروز بعد مغوی بچے فیضان کی لاش اور ممکنہ طور پر دیگر دو لاپتہ بچوں کی باقیات چونیاں بائی پاس انڈسڑیل سٹیٹ کے علاقے میں مٹی کے ٹیلوں سے مل گئیں ۔ د وبچے علی حسین اور سلیمان ایک ماہ قبل لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی گمشدگی کی اطلاعات پولیس کودی گئی تھیں لیکن وہی پولیس کی روایتی کاہلی اور مجرمانہ غفلت جو مال پانی کے بغیر قدم تک اٹھانے کی روادار نہیں ہوتی آڑے آئی۔ گمشدہ بچوں کے ماں باپ تڑپتے رہے اور معصوم بچے نجانے کس درندے کی مشق ستم کا نشانہ بن گئے ۔ فیضان 16 ستمبر کو لاپتہ ہوا تھا جبکہ اس کے علاوہ تین دیگر بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ بھی پولیس کے پاس ہے۔ دو بچوں علی حسین اور سلیمان کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو 15 اور 18 اگست کو ملی تھی جبکہ ایک بچہ عمران 12 جون سے لاپتہ ہے۔

بچوں کی لاشوں اور باقیات کی دریافت بھی پولیس کی کسی سعی پا پیشہ وارانہ لیاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ لاش اور دیگر باقیات اس وقت ملیں جب ایک ٹریکٹر ٹرالی والا اس ویران علاقے میں مٹی لینے گیا تو اس نے لاشیں دیکھ کر شور مچا دیا خبر میڈیا پر نشر ہوئی تو پولیس بھی حرکت میں آگئی ۔ وزیر اعلیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ۔ پولیس جو حسب معمول ایسے اندوہناک واقعا ت کے بعد عوامی احتجاج اور توڑ پھوڑ کے بعد ہوش میں آتی ہے حسن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے چل پڑی ۔

وزیر اعظم پاکستان نے بھی ٹوئٹ کردیا کہ قصورواقعہ پر سب کا محاسبہ ہوگا جنہوں نے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام نہیں کیا ۔ ان سے باز پرس کی جائیگی ۔ وزیر اعظم کے نوٹس کے بعد چند پولیس افسران کو معطل کردیا گیا ، کسی کواو ایس ڈی بنادیا گیا ۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ سرگرمیاں جاری تھیں کہ چونیا ں سے ایک اوربچے کواغوا کرلیا گیا جس کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

چونیاں میں زیادتی کے بعد قتل ہونیوالے تین بچوں کے اندوہناک سانحہ کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مقصد کیلئے جے آئی ٹی بنادی گئی ہے جو اس حوالے سے درج کئے گئے چار مقدمات کی تفتیش کرے گی۔ یہ جے آئی ٹی ڈی پی او قصور، ایس پی انویسٹی گیشن قصور، ایس پی انویسٹی گیشن ،صوبائی تفتیشی برانچ، آئی بی اور سی ٹی ڈی کے افسران و اہلکاروں پر مشتمل ہے ۔پولیس کی جانب سے ڈی این اے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے ۔ وہی منظر نامہ دہرایا جارہاہے جو معصوم زینب اوردیگر بچیوں سے زیادتی اور قتل کے بعد قصور میں دہرایا گیا تھا جس کے نتیجے میں مجرم کا سراغ لگا اور وہ بد کردار کیفر کردار تک پہنچا اور کچھ بعید نہیں کہ ان معصوم بچوں کا قاتل جنسی درندہ بھی ہتھے چڑھ جائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہمارے ہاں سارا کچھ اس وقت ہی کیوں ہوتاہے ؟جب پانی سر سے گزر جاتاہے ، کسی کانشیمن جل جاتا ہے یا کسی کی خوشیوں کاچمن اجڑ جاتاہے ۔

اگر یہی نوٹس اس وقت لے لیا جائے جب کوئی معصوم بچہ یا بچی گم ہوجاتی ۔ اسی وقت ہی معصوم بچے یا بچی کی تلاش کیلئے جے آئی ٹی بنادی جائے ، متعلقہ ڈی پی او کو او ایس ڈی بنا کر ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کومعطل کردیا جائے تو ایسے درد ناک واقعات کے وقوع پذیر ہونے سے کافی حد تک بچا جاسکتاہے جو انتظامیہ کی غفلت اور طوطاچشمی کی بدولت پیش آتے ہیں۔ اب جو آئی جی پنجاب سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران ظلم کی اس جائے واردات کے چکر لگا رہے ہیں اور کبھی ان غریبوں کے گھروں میں جن کے چراغ بجھ گئے میں پڑی گندی سندھی چارپائیوں پر بیٹھ کر ان کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں ، اگر وہ یہ کام اس وقت کرلیتے جب یہ بچے گم ہوئے تھے اور ایسی پھرتی کا مظاہرہ اس وقت کرتے جب غریب والدین اپنے جگر گوشوں کی تلاش کیلئے دہائیاں دے رہے تھے تونہ صرف ایسے ظلم سے بچا جاسکتا تھابلکہ ممکنہ حد تک مجرموں کا سراغ لگاکر ان معصوموں کی جانیں بھی بچائی جاسکتی تھیں لیکن ایسا شائد غریبوں کی قسمت میں نہیں ہوتا اوران کو اپنے گم شدہ معصوم پھولوں سے جدائی کا صدمہ ہی برداشت کرنا ہوتا ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...