معیشت، مسئلہ کشمیر اور آزادی مارچ

معیشت، مسئلہ کشمیر اور آزادی مارچ
 معیشت، مسئلہ کشمیر اور آزادی مارچ

  


حکومت پتہ نہیں چلنے دے رہی کہ اس نے مسئلہ کشمیر کا کیا حل سوچا ہوا ہے تو اپوزیشن پتہ نہیں چلنے دے رہی کہ آزادی مارچ کے حوالے سے اس کا اصل لائحہ عمل کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان انتخابات جیتنے سے قبل نئے پاکستان کا خواب دکھایا کرتے تھے، جس میں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر خودکشی کرنا، گرین پاسپورٹ کی عزت کروانا، لوگوں کو خودبخود ٹیکس دینے پر مائل کرنا، کرپشن کا خاتمہ اور اپوزیشن میں سے ایک ایک کو چن چن کر قید کرنا جیسے اہداف شامل تھے، مگر قسمت کی خوبی دیکھئے کہ حکومت میں ایک سال گزرجانے کے بعد عمران خان مسئلہ کشمیر کچھ یوں تقاریر اور بیان داغتے نظر آتے ہیں جیسے انہوں نے الیکشن نیا پاکستان بنانے کے وعدے پر نہیں بلکہ کشمیر آزاد کرانے کے وعدے پر لڑا تھا۔ ان کے تیور بتاتے ہیں کہ اقتدار میں ایک سال گزارنے کے بعد ان کی ترجیحات میں 180 ڈگری کی تبدیلی آچکی ہے۔اب ان کے لئے کشمیر کا سفیر ہونا نئے پاکستان کا معمار ہونے سے کہیں بڑی بات لگتی ہے۔

اگر مودی نے بھارتی آئین میں سے آرٹیکل 370 اور 35Aختم نہ کیا ہوتا تو پاکستان تحریک انصاف معیشت کے محاذ پر انتہائی خراب کارکردگی کی بنا پر بری طرح پٹ چکی ہوتی اور ذمہ داران کو منہ چھپانے کی جگہ نہ مل رہی ہوتی۔ مودی کے خلاف خان صاحب کے جارحانہ رویے سے لگتا ہے کہ اب وہ نیا پاکستان نہیں،بلکہ نیا کشمیر بنا کر ہی دم لیں گے، تبھی تو سارے شو بز سٹار مظفرآباد ریلی میں شرکت کے لئے ان کے ہمراہ جا پہنچے تھے۔

سوال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران 27ستمبر کو اقوام متحدہ میں خطاب کے بعد کیا کریں گے؟اس کے بعد کشمیر کا کیا بنے گا؟ کیا 27 ستمبر کی ان کی تقریر کے بعد کشمیر آزاد ہو جائے گا یا امریکی صدر ٹرمپ ان کی اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کا اہتمام کریں گے، ایسا ہوا تو کیا مودی اپنے ہندوتوا کے نظریے سے توبہ تائب کرکے کشمیر کے خودمختار سٹیٹس کو بحال کردیں گے یا پھر ٹرمپ کو اپنی ثالثی کے جوہر دکھانے ہوں گے؟ ان سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آیا اقوام متحدہ میں وزیراعظم اپنی دھاک جما سکیں گے یا وہاں بھی یورپی پارلیمنٹ کی طرح پاکستان کو بھارت میں دخل اندازی کا طعنہ دے کر چپ کروایا جائے گا؟

ان جملہ سوالوں کا جواب مختلف ہو سکتا ہے اگر آپ حکومت کے حامی ہیں،لیکن اگر آپ مخالف ہیں تو آپ کو وزیراعظم سے کشمیر کے محاذ پر اتنی ہی توقعات ہوں گی جتنی ان کے نیاپاکستان بنانے کے دعوے سے تھیں۔تاہم اب تو حامی بھی کہنے لگے ہیں کہ خالی کاروبار ہی نہیں،بلکہ سارا کاروبار زندگی رکا ہوا ہے۔کمزور معیشت اور مضبوط موقف عوام کو کنفیوز کئے ہوئے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے معیشت سے لے کر کشمیر تک ہر شے کے لئے صدر ٹرمپ پر انحصار کیا ہو ا ہے اور گزشتہ 72برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ امریکہ کے وعدے کم ہی وفا ہوئے ہیں۔

اگرا س بار بھی ایسا ہوا تو کیا وزیر اعظم 27ستمبر کے بعد کی تنہائی برداشت کر سکیں گے،کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے رویے سے تو لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اسے اپوزیشن تو کیا حکومت کی بھی ضرورت نہیں ہے، تبھی تو اپوزیشن مسئلہ کشمیر پر راہِ فرار اختیار کرتی نظر آتی ہے اور حالات کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتی ہے،ان کے نزدیک گرفتار سیاست دانوں کے پروڈکشن آرڈر کشمیر پر قومی وحدت سے بڑھ کر ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت کو معیشت اور کشمیر دونوں محاذوں پر سبکی کا سامنا کرنا پڑے، ان کی گرفتار قیادت ایسے تاثر دے رہی ہے جیسے انہیں کوچے میں قفس کے ابھی آرام بہت ہے۔

اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کی طرف سے گول گول باتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ عوام کی مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے امیدیں بڑھتی جا رہی ہیں، مہنگائی، بے روزگاری اور بے یقینی سے تنگ عوام مولانا کے آزادی مارچ کی جانب دیکھ رہے ہیں،یہ الگ بات کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مولانا حکومت سے استعفیٰ لے کر اٹھیں گے یا گرفتاری دے کر، لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ مولانا صرف اسلام آباد تک مارچ کرکے واپس گھر کی راہ لیں۔

آزادی مارچ کا قلع قمع کرنے کے لئے اگر حکومت نے دفعہ 144کا نفاذکرکے مارچ کے شرکاء کی درگت بنانے کا ارادہ کرلیا تو صورت حال قابو سے باہر بھی ہوسکتی ہے، امید رکھنی چاہئے کہ علامہ طاہرالقادری کی طرح مولانا فضل الرحمن سیاست نہیں ریاست کے فارمولے کو لاگو کرنے کے درپے نہیں ہوں گے اور ان کا آزادی مارچ، بربادی مارچ میں تبدیل نہیں ہوگا۔

مزید : رائے /کالم


loading...