”مصباح الحق،انضمام الحق پارٹ ٹو“

”مصباح الحق،انضمام الحق پارٹ ٹو“
 ”مصباح الحق،انضمام الحق پارٹ ٹو“

  


پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کرکٹ معرکے کا آغاز 27 تاریخ سے ہو رہا ہے۔اس اہم دورے کے لیے سری لنکا کی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔سری لنکا کے 10معروف کرکٹرز نے پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد سری لنکن بورڈ نے ان کھلاڑیوں کو طلب کیا جو مستقبل میں سری لنکن ٹیم کا حصہ ہوں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اچھا فیصلہ ہے سری لنکن بورڈ نے دورہ ختم کرنے کی بجائے ان کھلاڑیوں کو ایک اچھا چانس دیا جو مستقبل میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

لیکن افسوس اور حیرت ان کھلاڑیوں پر بھی ہے جو گزشتہ ایام میں پاکستان آکر کھیل چکے ہیں پاکستان میں ان کی حفاظت اور مہمان نوازی مثالی رہی۔اس اہم سیریز کے لیے پاکستان نے بھی اپنے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے اس ٹیم کو پڑھنے کے بعد یوں لگا جیسے ہمارے ملک میں نوجوان اور با صلاحیت کھلاڑی نا پید ہو گئے ہیں وہی گھسے پٹے سکے قومی ٹیم کا حصہ ہیں۔نئے چیف کوچ اور چیف سلیکٹر سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ قومی ٹیم میں انقلابی تبدیلیاں لیکر آئیں گے۔

لیکن لگا یوں کہ سلطان راہی کے کپڑے شان کو پہنا دیئے گئے۔سری لنکا کی ٹیم تمام نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اس کے مقابلے میں ہمیں بھی کچھ تجربہ کار کھلاڑی رکھ کر دیگر تمام کھلاڑی نئے اور با صلاحیت کھلا دینے چاہیے تھے تا کہ آنے والے دنوں کے لیے کچھ نام ہمیں مل سکتے۔دیکھاجائے تو سری لنکا کی سیکنڈ الیون پاکستان آرہی ہے انہوں نے اس دورے کا فائدہ اٹھایا لیکن ہم ہیں کہ اپنے موسم میں،اپنی وکٹوں پر،اپنے کراؤڈ کے سامنے بھی اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو کھلاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے نئے کھلاڑیوں کو کھلاتے تا کہ ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا اور وہ اپنی وکٹوں پر شاندار کارکردگی دکھاتے جس سے ٹیم میں نیا خون شامل ہوتا۔

مصباح الحق ابھی تازہ تازہ انٹرنیشنل کرکٹ سے فارغ ہو ئے ان کو تما م کھلاڑیوں کے حوالے سے سب کچھ معلوم ہے وہ ان کھلاڑیوں کو جانتے ہیں جن کو تھوڑا سا اعتماد دیا جائے تو ان سے ہم اچھے نتائج لے سکتے ہیں لیکن آتے ہی انہوں نے یہ بتا دیا کہ وہ بھی دوستیوں اور تعلقات کو نبھانا جانتے ہیں۔مصباح الحق سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ پاکستان کے بہتر مستقبل کو اولین جانیں گے اور پاکستان کے لیے کام کریں گے۔عالمی کپ بھی اب زیادہ دور نہیں اس کے حوالے سے بھی سلیکشن کرتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا۔

مصباح الحق سے امید کی جارہی تھی کہ وہ نئی سوچ اور نئے ولولوں کے ساتھ انقلابی اقدامات کریں گے لیکن اب تک تو مایوسی ہوئی ہے۔مصباح الحق وہ کھلاڑی ہے جس کو پاکستان کی کرکٹ کی بھی خاصی سمجھ ہے اور وہ تمام کھلاڑیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اس کے باوجود ان کی سلیکشن نے قوم کو مایوس کیا ہے۔پتہ نہیں وہ ان پھوکے کارتوسوں سے کیا نکالنا چاہتے ہیں۔اگر پی سی بی نے مصباح ا لحق کو مادر پدر آزاد کر دیا ہے تو الگ بات وگرنہ پی سی بی کو بھی اس طرف دھیان دینا پڑے گا ویسے تو ایک شخص کو چیف کوچ اور چیف سلیکٹر بنا کر یہ بات ثابت ہو گئی کہ کرکٹ بورڈ کے نزدیک بس مصباح ہی عقل کل ہے باقی تمام جاہل ہیں اور کوئی بھی قابل نہیں ہے۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب جو خود ایک بڑے کرکٹر رہے ہیں وہ اس تمام صورت حال پر بالکل خاموش ہیں لیکن وہ بھی کیا کریں وہ ملک میں مہنگائی کے جن کو قابو کریں یا کرکٹ بورڈ کے جنوں کو قابو کریں۔پالیسیاں تبدیل کرنے سے تبدیلی آتی ہے چہرے بدلنے سے نہیں۔اگر مصباح ایک اچھے کوچ ثابت ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں کوچ ہی رہنے دیں اور اگر یہ اچھے سلیکٹر ثابت ہو سکتے ہیں تو پھر ان کو کو صرف چیف سلیکٹر بنا دیں۔ملک میں اور بھی قابل اعتماد کھلاڑی اور پاکستان کے لیے اچھی سوچ رکھنے والے سابق کھلاڑی موجود ہیں۔ان سے بھی استعفادہ کرنا چاہیے۔آنے والی سیریز میں زیادہ سے زیادہ نئے خون کو شامل کرنا چاہیے یہ ایک بہترین موقع ہے مستقبل کی تیاری کے لیے۔

مزید : رائے /کالم


loading...