”جیل میں 16 ستمبر کو میٹنگ ہوئی جس میں نوازشریف کو کی جانے والی آفرز پر مشاورت ہوئی “ نوازشریف کو کیا پیشکش کی گئی؟ نجی ٹی وی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

”جیل میں 16 ستمبر کو میٹنگ ہوئی جس میں نوازشریف کو کی جانے والی آفرز پر مشاورت ...
”جیل میں 16 ستمبر کو میٹنگ ہوئی جس میں نوازشریف کو کی جانے والی آفرز پر مشاورت ہوئی “ نوازشریف کو کیا پیشکش کی گئی؟ نجی ٹی وی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )نجی ٹی وی سماءنیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ 16 ستمبر کو کوٹ لکھپت جیل میں غیر معمولی میٹنگ ہوئی جو کہ ملاقات بھی دن نہیں تھا جس میں خواجہ آصف اور احسن اقبال کے علاوہ وکلاءشریک ہوئے ۔

نجی ٹی وی سماءنیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ اس میٹنگ کا مقصد نوازشریف کو جو آفرز ہو رہی ہیں اس پر مشاورت کرنا تھا کہ اسی دوران ہی فیصلہ ہوا کہ ان کا جواب کس طرح دینا ہے اور وہ کیس سے کس طرح جڑی ہوئی ہیں۔ میٹنگ میں نوازشریف نے خواجہ آصف ، احسن اقبال اور وکلاءکو بتایا کہ انہیں باہر جانے کی آفر آئی ہے اور لاک ڈاﺅن میں شرکت کرنے کا بھی کہا گیاہے ۔دونوں چیزیں مختلف دنوں میں ان سے ملاقات کر کے  کہی گئیں ۔تقریبا نوازشریف کو 20 دن پہلے آفر آئی تھی کہ وہ اور مریم نواز ملک سے باہر چلیں جائیں اور الیکشن کے قریب مریم نواز واپس آ سکتی ہیں لیکن اس وقت نوازشریف نے کوئی جواب نہیں دیا اور مشاورت کیلئے وقت مانگا تاہم کچھ دنوں کے بعد نوازشریف کو دوبارہ آفر آئی کہ وہ لاک ڈاﺅ ن میں شرکت کریں اور پھر اس کے بعد یہ میٹنگ ایرینج کروائی گئی۔

نجی ٹی وی سماءنیوز کا کہناتھا کہ حکومت کو جیل میں ہونے والی اس میٹنگ کا کوئی علم نہیں تھا تاہم بعد میں انہیں معلوم ہوا ، یہ میٹنگ اس لیے ایرینج کی گئی کیونکہ نوازشریف مشاورت کرنا چاہتے تھے اور جب مشاور ت ہوئی تو اس میں یہ دونوں چیزیں نوازشریف نے سب کے سامنے رکھیں ، نوازشریف کی بات سننے کے بعد سب نے پھر یہ فیصلہ کیا کہ آپ العزیزیہ ریفرنس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کو طول دیں تاکہ اکتوبر یا نومبر میں  ہونے والے لاک ڈاﺅن کے معاملے کا نتیجہ پتا لگ جائے ، خواجہ حارث تین ماہ دلائل دیتے رہے ہیں گے اور اس کے بعد پوزیشن واضح ہوگی اور آپ  اپنے فیصلے اور شرائط منوانے کی بہترپوزیشن میں ہوں گے۔ نجی ٹی وی کا کہناتھا کہ ایک غیر معمولی بات یہ بھی ہے کہ اگلے روز ہی جا کر خواجہ حارث نے غیر معمولی بات عدالت میں کر دی کہ وہ تین مہینے اپنے دلائل دیں گے حالانکہ ویڈیو سکینڈل کے بعد یہ سمجھا جارہا تھا کہ ایک دو سماعتوں میں ضمانت مل سکتی ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...