سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کو عدالت سے خوشخبری مل گئی

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کو عدالت سے خوشخبری مل گئی
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کو عدالت سے خوشخبری مل گئی

  


 کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ماڈل کورٹ نے دو افراد کے قتل کے مقدمے میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا سمیت 3ملزمان کو بری کردیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق کراچی سینٹرل جیل میں اے ڈی جے ویسٹ ماڈل کورٹ کے روبرو دو افراد کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا، عبدالقادر اور محمد نعیم کو بری کردیا۔رحمان بھولا کے وکیل عابد زمان ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرے موکل کو پولیس نے بد دیانتی کی بنیاد پر کیس میں نامزد کیا۔ رحمان بھولا کا اس قتل کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ استغاثہ کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان نے 2012میں شہری مرید حسین اور بشیر احمد کو قتل کیا۔ ملزمان کیخلاف قتل کا مقدمہ تھانہ بلدیہ ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ رحمان بھولا نے سانحہ بلدیہ کیس میں گرفتاری کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ بلدیہ فیکٹری میں   آگ لگانے سے قبل فیکٹری مالکان سے پچیس کروڑ روپے بھتہ مانگا گیا تھا، فیکٹری مالکان نے بھتہ دینے سے انکار کیا جس پر حماد صدیقی غصے میں آ گیا۔ملزم رحمان بھولا نے انکشاف کیا کہ حماد صدیقی نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگانے کی ہدایت دی، جس کی ذمہ داری " زبیر چریا " کو دی گئی تھی۔آگ لگانے سے ایک روز قبل " زبیر چریا " کو کیمیکل دینے کے لئے بلایا گیا، آگ لگانے کے بعد چار روز تک فیکٹری کے باہر امدادی کیمپ  بھی لگایا تھا۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...