امریکہ کے صدارتی انتخابات، کیا ہم جنس پرست امیدوار سپر پاور کے تخت پر بیٹھ پائے گا؟

امریکہ کے صدارتی انتخابات، کیا ہم جنس پرست امیدوار سپر پاور کے تخت پر بیٹھ ...
امریکہ کے صدارتی انتخابات، کیا ہم جنس پرست امیدوار سپر پاور کے تخت پر بیٹھ پائے گا؟

  


واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے صدارتی انتخابات 2020کی دوڑ کا آغاز ہوچکا ہے اور دو بڑی سیاسی جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک کی جانب سے 10 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے ایک اعلانیہ ہم جنس پرست ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے صدارتی الیکشن کی دوڑ میں شامل 37 سالہ پیٹ بوٹے جج نے 2018 میں 30 سالہ مرد چیسٹن بوٹے جج سے شادی کی تھی۔ وہ 2012 سے ریاست انڈیانا کے شہر ساﺅتھ بینڈ کے میئر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ میئر بننے سے پہلے وہ مکینزی اینڈ کمپنی کے قونصلیٹ تھے۔

پیٹ بوٹے جج اعلانیہ ہم جنس پرست ہیں اور انہوں نے 23 جنوری 2019 کو صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی الیکشن مہم کا سربراہ کوئی پروفیشنل آدمی نہیں بلکہ ان کا ہائی سکول کا ایک دوست ہے جسے صدارتی انتخابات کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

پیٹ بوٹے جج نے جب سے صدارتی الیکشن کی دوڑ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے تب سے وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ایک اہم امیدوار بن چکے ہیں اور ان کے بارے میں کھل کر تبصرے کیے جارہے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں کے دوران ہم جنس پسندوں کی شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق جب سے پیٹ بوٹے جج نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے تب سے امریکی عوام میں یہ بحث شدت اختیار کرچکی ہے آیا کہ ایک ہم جنس پرست آدمی امریکہ کا صدر بن سکتا ہے یا نہیں ۔

جمعہ کو سیڈار ریپڈز نامی علاقے میں منعقدہ ایل جی بی ٹی کیوفورم میں تقریر کرتے ہوئے پیٹ بوٹے جج نے کہا کہ بطور ہم جنس پسند ہونے کے وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے اور وہ اس جنسی رویے کی بدولت ہی اس ملک کے ساتھ ایک زوردار تعلق قائم کر سکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی


loading...