وزیراعلی سندھ کاکراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم

وزیراعلی سندھ کاکراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم
وزیراعلی سندھ کاکراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے بیک لاک کچرے کو ایک ماہ کے اندر ٹھکانے لگانے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوشش ہوگی اس ڈیڈلاک کو ختم کریں، وفاقی حکومت کی مہم میں 13 ہزار ٹن کچرا اٹھایا گیا جبکہ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر 12 ہزار ٹن کچرا ہوتا ہے، وفاقی حکومت کو کہا ہے کہ ہمیں کام کرنے دیں، غلطی کی تو تسلیم کریں گے اگر شہر صاف ہوجائے تو حساب کتاب کی اہمیت نہیں۔ انھوں نے ہدایت کی پہلے تصویر لیں اس کے بعد ایک مہینے تک کچرا اٹھائیں ایک ماہ گزرنے کے بعد دوبارہ تصویر لے کر بھجیں، ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں جو کوتاہیاں ہیں انھیں دو ر کریں گے اور بورڈ کو فعال کریں گے،2016 میں بھی کراچی صفائی مہم چلائی تھی جسکی شہریوں نے تعریف کی تھی اس بار ذاتی طور پر مہم دیکھ رہا ہوں عوام کو صفائی نظر آئے گی،ڈپٹی کمشنر سے کہا ہے جو کچرا روڈ پر پھینک رہا ہے انہیں گرفتار کریں۔

ایک ماہ پر مشتمل ’’کراچی صفائی مہم‘‘ کے افتتاحی روز کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہمیڈیا کو صفائی مہم کے حوالے سے تفصیلات بتائی تھیں لیکن میڈیا کو یہ فکر کھائے بیٹھی ہے کہ میں گرفتار کب ہوتا ہوں؟سارا دن میری گرفتاری پر پروگرام ہوتے ہیں اور خبریں چلتی نشر ہوتی رہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپکو بتاتا چلوں کہ کچرا اٹھانے کا کام ہمارا نہیں بلکہ ڈی ایم سیز کا کام ہے، 2013 میں سندھ حکومت پہلی مرتبہ 13 ہزار کچرا جب پیدا ہوتا تھا تو ہم نے کام کرنا شروع کیاکیوں کہ 13 ہزار ٹن میں سے بھی 4 ہزار ٹن اٹھتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ شہر میں کچرا بڑی مقدار میں ہے جو بجلی اور کھاد بنانے کا را مٹیریل ہے جسکی باعث ہم نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بنائی تاکہ اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے،منتخب ایل بی نے ایس ایس ڈبلیو ایم اے کو اتھرائیز کیا، جس نے ساتھ کی سڑکیں بھی دھونا شروع کیں توکچھ لوگوں نے اعتراض کیا جس پر واٹر کمیشن بنا اور لوگوں نے درخواستیں دینا شروع کیں،ایس ایس ڈبلیو ایم اے پر انگلیاں اٹھنا شروع ہوئیں توہم نے واٹر کمیشن کی ہدایت پر ٹھیکے دار کی رقم روک دی گئی جس سے صفائی کا کام متاثر ہونا شروع ہوا اورکچرا اٹھانے کا کام سست ہوگیا،اس دوران انتخابات آئے، میں دوبارہ وزیراعلی بنا تو علی زیدی صاحب آئے اور کہا کہ وہ کچرا اٹھائیں گے جس کو ہم نے کہا وفاقی حکومت ہمیں وسائل نہیں دے رہی، اگرآپ اٹھا رہے ہیں تو اچھی بات ہے لیکن کچرا لینڈ فل سائیٹ تک پہنچائیں، بجائے انکی مدد کے مسئلہ مزید خراب ہوگیا، کیوں کہ کچرا انھوں نے سڑکوں پر پھینکنا شروع کردیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر میں کچرا چاہے کے پی ٹی میں ہو یا کینٹونمنٹ علاقوں میں لیکن الزام مراد علی شاہ پرآتا ہے جودرست نہیں،میں نےمیٹنگ بلائی اورفیصلہ کیا کہ گلی کوچوں سے کچرا اٹھاکر عارضی جی ٹی ایس پر لے آئیں، جنکے لیے وزیراعلی ہاؤس کا لان بھی موجود ہے،عارضی گاربیج سے صوبائی حکومت نے ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ذریعے کچرا لینڈ فل سائیٹ تک لے جانے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مہم میں 13 ہزار ٹن کچرا اٹھایا گیا جبکہ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر 12 ہزار ٹن کچرا ہوتا ہے، اس بار ذاتی طور پر مہم دیکھ رہا ہوں عوام کو صفائی نظر آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ جو کھلم کھلا کچرا سڑکوں یا پھر کھلی مقامات پر پھینکے گا اب اسکو گرفتار کریں گے جسکے لیے میں نے متعلقہ حکام کو ہدایت بھی کردی ہے اور جسکی وزرا بھی روزانہ مانیٹرنگ کریں گے۔ مراد علی شا ہ نے کہا کہ سہراب گوٹھ میں کچرا زیادہ ہے اس کو صاف کریں گے،یہ مہم بیک لاک کچرے اٹھانے کے لیے ہے جو اتنا ہوگیا ہیکہ ڈی ایم سیز سے کام نہیں ہوپارہا،میں نے انٹروینی کی، میئر، اور ڈی ایم سی چیئرمین میرے ساتھ ہیں،اس بار کی صفائی مہم سے متعلق نتائج دیں گے، امید ہے ایک ماہ کی مہم کے نتائج اچھے آئیں گے،میں کام کرتا رہوں گا، آپ تھک جائیں گے لیکن ہم نہیں تھکنے والے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کنٹونمنٹ اور کے پی ٹی کے علاقوں کو ہم نے خط لکھ کر جی ٹی ایس لے جانے کے لیے کہا ہے اگر کے پی ٹی اور کنٹونمنٹ والے اس کو صاف نہیں کرتے تو ہم صاف کریں گے،ہم نے 56 جی ٹی ایس بنائے ہیں، تمام ڈپٹی کمشنر کو ضروری مشینری دی ہے اور ضروری اختیار بھی دیا ہے،ہمارا صوبہ کوئی ترقی یافتہ نہیں لیکن اسے ہم سب نے ملکر بنانا ہے، بہت ایسے مقامات ہیں جہاں پلیں نہیں بہت جلد ہم برجز بھی بنائیں گے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...