وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے:شاہ محمود قریشی

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری ...
وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے:شاہ محمود قریشی

  


نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان کے سات روزہ دورہ ء امریکہ کا بنیادی مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے، وزیر اعظم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے،تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ان کی ملاقاتیں ہوں گی۔موجودہ ماحول میں بھارتی ہم منصب سے نہیں ملنا چاہوں گا۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں میڈیا سے گفتگوکر تے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے سات روزہ دورہ ء امریکہ کا بنیادی مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے،وزیر اعظم عمران خان کشمیری وفد سے ملاقات کریں گے اور ان کے تاثرات لیں گے اور ان سے مشاورت کی بنیاد پر ہم اپنی مصروفیات جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے،اس کے علاوہ تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ان کی ملاقاتیں ہوں گی،یہاں کے دو معروف تھینک ٹینکس ایشیا سوسائٹی اور کونسل فار فارن ریلیشنز سے بھی وزیر اعظم ملیں گے اور تبادلہ خیال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ترکی، ملائشیا اور پاکستان مل کر ایک سہ ملکی اجلاس اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم بات کرنا چاہ رہیں ہیں کیونکہ دیرپا ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے احساس پروگرام بہت اہم ہے اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی وزیر اعظم اظہار خیال کریں گے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم فناشل ورلڈ کے اہم لوگوں سے بھی ملاقات کریں گے اور منی لاڈرنگ کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بتائیں گے کہ کس طرح بڑے ممالک کو منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسے کی ترسیل ہوتی ہے اور تیسری دنیا کے ممالک غربت کا شکار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے بھی وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کی اہم ملاقاتیں ہوئیں اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیاجہاں پاکستان نے ان سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے وہاں ان سے یہ بھی کہا ہے کہ ایسا فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا چاہیے جس سے خطے کا امن متاثر ہو۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...