مرکزی جمعیت اہل حدیث سعودی عرب نے بھارتی فوج کے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت

مرکزی جمعیت اہل حدیث سعودی عرب نے بھارتی فوج کے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی ...
مرکزی جمعیت اہل حدیث سعودی عرب نے بھارتی فوج کے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت

  


جدہ (محمد اکرم اسد) مرکزی جمیت اہل حدیث سعودی عرب کے مرکزی صدر و مذہبی سکالر مولانا عبدالمالک مجاہد نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدام اور بھارتی فوج کے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کوئی ایسا گھر نہیں ہوگا جس نے کسی شہید کا لاشہ نہ اٹھایا ہوگا جبکہ اقوام عالم سو رہی ہے اور 72 سال سے یہ مسئلہ لٹک رہا ہے ، وہ یہاں مرکزی جمیت اہل حدیث سعودی عرب کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ایک اجتماع سے جو چودھری حاجی عبدالرؤف حق کی صدارت میں منعقد ہوا سے خطاب کر رہے تھے، مہمان خصوصی مولانا عبدالمالک مجاہد نے کہا کہ آج کی تقریب کا مقصد کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔ ہم ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ کشمیری اتنے بہادر، محنتی اور جفاکش ہیں کہ 72 سالوں سے مسلسل قربانیاں ہی قربانیاں دیے رہے ہیں اور قبرستان شہدا کی قبروں سے بھر چکے ہیں۔ انھوں مقبوضہ کشمیر سے متعلق مودی حکومت کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری ہٹایا جائے، کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے۔ انھوں نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کو ان کا جائز حق دیا جائے۔ اخیر میں انھوں نے کہا مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جہاد کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ اپنی خارجہ پالیسی کے نقائص کو دور کرنا چاہیے۔ ہمیں قومی یکجیتی پر بھی زور دیناچاہیے۔ جہاں تک ہوسکے بھارتی مصنوعات اور اشیاء کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ انھوں نے سعودی عرب کی آئل ریفائنری پر بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی۔

انھوں نے کہا ہم مملکت کی سالمیت اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد، حکومت اور عوام کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا گو رہتے ہیں۔ مرکزی جنرل سیکریٹری مختار احمد عثمانی نے معزز مہمانوں، کارکنوں اور صحافیوں کو خوش آمید کہتے ہوئے کہا کہ مودی نےشق 370 اور 35 اے ختم کرکے اس مہذب دور میں بہت بڑے دہشت گرد ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ہم اللہ کے فضل و کرم سے ان کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔ انھوں نےکشمیریوں کی مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرفیوکی سختیوں اور 70 سالوں سے مسلمانوں کی کمزوری و انتشار کے باعث  ظلم وستم کا شکار ہورہے ہیں ۔انھوں نے کہا کشمیر کا فیصلہ اب شمشیر ہی سے ہوگا۔  انھوں حکومت کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ باوجود اختلافات کے قوم کشیر کے قضیہ پر متحد ہے۔ وہ قدم اٹھائے ہم ان کے ساتھ ہیں۔  انھوں نے کہا دنیا بھرکی فضا بھارت کے خلاف نعروں سے گونج رہی ہے۔ حافظ عبدالرب نے آیتِ کریمہ کی تلاوت سے اجلاس کی کاروائی کا آغاز کیا۔ جنکہ مولانا فضل الرحمان نے شکریہ ادا کیا.

مزید : عرب دنیا


loading...