مُلک بھر میں لاقانونیت؟

مُلک بھر میں لاقانونیت؟

  

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، مسٹر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ مُلک میں مکمل طور پر لاقانونیت ہے،ایسا لگتا ہے کہ ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،جب بھی وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جاتا ہے تو چیزیں ٹھیک ہو جاتی ہیں،راول ڈیم کے کنارے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کیس کی سماعت میں چیئرمین سی ڈی اے پیش ہوئے، جن سے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہم معاملہ سمجھنا چاہتے ہیں،انہوں نے استفسار کیا کہ ماسٹر پلان میں زون تھری اور فور کے متعلق کیا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ چیئرمین کا کہنا تھا کہ زون فور کو تو ماسٹر پلان میں مکمل طور پر گرین ایریا رکھا گیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ(ایف آئی اے) اور دیگر ادارے رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں کیوں ملوث ہیں،اسلام آباد کا جو بھی ایشو اٹھائیں ایلیٹ کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی نظر آتی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا کوئی اہلکار  نیول ہیڈ آفس میں چھاپہ مار سکتا ہے؟

جناب چیف جسٹس نے یہ ریمارکس اگرچہ ایک مخصوص کیس اور ایک خاص پس منظر میں دیئے ہیں تاہم اگر ان ریمارکس پر ٹھنڈے دِل اور باریک بینی سے غور کیا جائے تو وسیع تر تناظر میں یہ پورے مُلک کی مجموعی فضا پر منطبق ہو سکتے ہیں،کسی بھی شہر میں، وہ وفاقی دارالحکومت ہو یا کوئی دوسرا بڑا شہر، روزانہ سڑکوں پر چلتے ہوئے اگر آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو چشم ِ بینا کو بہت کچھ ایسا نظر آتا ہے،جو قانونی طور پر غلط ہوتا ہے۔سرکاری ادارے اپنی طاقت کے بل بوتے پر ایسے ایسے نقوش مستقل بنیادوں پر ثبت کر چکے ہیں، جنہیں اب ہٹایا بھی نہیں جا سکتا،رئیل سٹیٹ کا کاروبار چونکہ اپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے،اِس لئے یہ ہر کسی کا دامن ِ دِل کھینچتا ہے، سرکاری ادارے اپنے ملازمین کی فلاح اور اُنہیں فائدہ پہنچانے کے نام پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا اور چلا رہے ہیں، غالباً وجہ اس کی یہ ہے کہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے اور پھر اس کو قانونی حیثیت دلوانے کے لئے جو ہفت خواں طے کرنے پڑتے ہیں،جس طرح دفتروں کے ہزاروں چکر لگانے پڑتے ہیں

ایک ایک سوسائٹی اور ایک ایک ہائی رائز بلڈنگ کا نقشہ منظور کرانے میں برسوں لگ جاتے ہیں، سرکاری اداروں کی  سوسائٹیوں کو ان مشکلات سے نہیں گذرنا پڑتا، ابھی چند ماہ پہلے لاہور میں ایک ایسی ملٹی سٹوری بلڈنگ کے بارے میں بتایا گیا کہ جس کا نقشہ پاس ہونے میں آٹھ برس لگ گئے یہ صرف ایک مثال نہیں، ترقیاتی اداروں کے دفتروں میں بہت سی ایسی فائلیں دبی ہوئی پڑی ہوں گی،جو شاید اس سے بھی پرانی ہوں گی،لیکن اُن کی باری اِس لئے نہیں آئی کہ یا تو اُن کے مالکان کنجوس تھے یا ہواؤں کے مخالف چلنے کے شوقِ فضول میں مبتلا ہوں گے

بڑے شہروں میں کتنے لوگ ایسے تھے جو شروع شروع میں بڑے آدرش لے کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے میدان میں اُترے تھے، لیکن انہیں جوں جوں ترقیاتی اداروں سے واسطہ پڑا،ان کے چودہ طبق روشن ہوتے گئے، پھر اُن کے سامنے دو ہی راستے رہ گئے یا تو اپنے آدرشوں پر چلتے رہنے کے لئے ان منصوبوں کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دیں یا پھر اگر اُن کا عزم اتنا مضبوط ہے کہ مُلک کی ترقی میں بہرحال حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو پھر پہلے ترقیاتی اداروں میں ذمہ دار پوزیشنوں پر کام کرنے والوں کی ترقی کا سوچیں، ہواؤں کے مخالف سفر کرنے کی ضد بھی ترک کر دیں اور ہواؤں کے رُخ پر چلنے کا قرینہ سیکھیں، جنہوں نے ایسا کیا کامیاب ٹھہرے، جو نہ کر سکا وہ دوڑ سے نکل گیا۔سو اصول  یہ ٹھہرا کہ جو ایسا نہیں کریں گے کوئی کام نہیں کر سکیں گے، ترقی کے جو آثار آپ کوروز و شب سڑکوں کے کنارے نظر آتے ہیں ان چمکتی دمکتی عمارتوں، ہاؤسنگ کالونیوں، تجارتی مراکز وغیرہ کے پیچھے کامیابی و کامرانی کی بہت سی قابل ِ تقلید کہانیاں ہیں، کوئی ان کہانیوں میں پوشیدہ اسباق سے سیکھنا چاہتا ہے تو سیکھے اور آگے بڑھے اور اگر اپنے اصولوں پر چلنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی۔جو سرکاری ادارے اپنے پراجیکٹ بناتے اور چلاتے ہیں، ممکن ہے اُنہیں بھی اپنے منصوبوں کی منظوری کے لئے کچھ مشکلات پیش آتی ہوں،لیکن اوّل تو تھوڑی سی وعظ و نصیحت کے ذریعے اِن رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے اور قانونی موشگافیوں کے حوالے دینے والوں کو بڑی آسانی سے راہِ راست پر لایا جا سکتا ہے،پھر بھی اگر اُنہیں سیدھا راستہ نظر نہ آتا ہو تو پھر ٹیڑھی انگلیوں سے گھی نکال لیا جاتا ہے،ایسے سرکاری ادارے جن کی کسی نہ کسی طرح کی پبلک ڈیلنگ بھی ہوتی ہے، ترقی سے متعلق کوئی محکمہ اُن کے آڑے آنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ سرکاری اداروں کے رئیل سٹیٹ میں آنے کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔ جناب چیف جسٹس کے سامنے چونکہ اسلام آباد کا ایک کیس زیر سماعت ہے،اِس لئے اگر اسی شہر کے بارے میں بات کی جائے تو جگہ جگہ ایسے مناظر نظر آ جائیں گے، جو اداروں کی قوت و شوکت کے نشان ہیں، بھلے سے یہ غیر قانونی ہوں، لیکن ان کی طرف نگاہِ غلط انداز نہیں ڈالی جا سکتی، جو ڈالے گا اپنے رسک پر ایسا کرے گا۔بنی گالہ پورے کا پورا اس کا ثبوت ہے، جہاں رہنے والوں نے سی ڈی اے کے قوانین کا منہ چڑایا ہے جن کا یہ ادارہ کچھ نہیں بگاڑ سکا، جو لوگ اس کی کارروائیوں کی زد میں آئے وہ وہی لوگ تھے،جنہوں نے اُن اصولوں کا سہارا نہیں لیا،جن کا اجمالی تذکرہ ہم اوپر کی سطور میں کر آئے ہیں۔ بنی گالہ کے ایک ایک گھر کا جائزہ لیتے جایئے، آپ پر  ہر چیز واضح ہوتی چلی جائے گی، اعلیٰ عدالتوں میں اس کی سماعت ہوتی رہی۔ یہ تسلیم کیا جاتا رہا کہ یہاں گھر بنانے والوں نے ترقیاتی ادارے کے قوانین کی دھجیاں اڑائیں، احکامات بھی جاری ہوئے،لیکن ہوا کیا؟ چار دن میڈیا میں ذکر ہوا، کسی نے جرمانہ دے دیا،کسی نے یہ تکلف بھی نہیں کیا،اس کے باوجود بلڈنگیں اسی شان سے کھڑی ہیں اور تعمیرات کے ضابطے بھی فائلوں میں بند ہیں،خود وزیراعظم کہتے ہیں کہ پاکستان میں امیروں کے لئے الگ اور غریبوں کیلئے الگ قانون ہے،وہ اس زمینی حقیقت کو انشراحِ صدر کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں، لیکن انہیں بدلنے کا یارا ان میں بھی نہیں،اِس لئے اگر جناب چیف جسٹس نے یہ کہا ہے کہ ملک میں مکمل طور پر لاقانونیت ہے تو کیا غلط کہا ہے؟ کوئی ہے جو اس صورتِ حال کو بدل سکے؟ شاید کوئی بھی نہیں؟

مزید :

رائے -اداریہ -