گرانی، مزید بڑھ گئی!

گرانی، مزید بڑھ گئی!

  

وفاقی محکمہ شماریات کی طرف سے ہفتہ رفتہ کے دوران مارکیٹ میں اشیاء کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے جاری کئے گئے،اعداد و شمار کے مطابق اِس دوران بھی مہنگائی میں اضافے کا رجحان برقرار رہا اور 26اشیاء کے نرخ مزید بڑھ گئے،ان میں آٹا، چینی، برائلر گوشت، فارمی انڈے، ٹماٹر، پیاز اور دوسری سبزیاں اور اشیاء بھی شامل ہیں، آٹے کے حوالے سے روزانہ اجرت اور کم تنخواہ والے افراد زیادہ متاثر ہوئے کہ روز کی مزدوری کرنے والے کلو، دو کلو آٹا چکیوں سے خریدتے ہیں، دیسی آٹے کی چکیوں کے نجی مالکان نے بھی قیمت بڑھا کر74 سے76روپے فی کلو کر دی ہے، ان کے بیان کے مطابق گندم مہنگی مل رہی ہے۔ فلور ملز کی طرف سے680 روپے(20کلو تھیلا) اور340روپے(10کلو تھیلا) عام دستیاب نہیں۔ یہ بڑے جنرل سٹوروں سے ملتے ہیں، جہاں سے گراسری زیادہ خریدی جاتی ہے۔ یہ آٹا عام طور پر سفید آٹا کہلاتا اور زیادہ پسند بھی نہیں کیا جاتا، چینی مزید81پیسے سے ایک روپے فی کلو مہنگی ہوئی اور پرچون میں 100 روپے فی کلو سے بڑھ گئی، ٹماٹر یکایک20روپے کلو مہنگے ہوئے ہیں۔

آٹا کی مہنگائی کے ساتھ ہی تنور والوں نے روٹی کی قیمت بڑھا دی، کم وزن کی جو روٹی8 روپے کی تھی، وہ10روپے کی ہو گئی اور پورے وزن والی10روپے سے 15روپے تک بک رہی ہے۔یوں درآمدی گندم کے آنے سے بھی نرخ کم نہیں ہوئے، عام لوگ جو پہلے ہی گرانی سے دُکھی ہیں۔مزید پریشان ہو گئے، اب ان کو حکومتی تسلیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اب تک اشیاء مہنگی ہی ہوئی ہیں۔حکومت ِ وقت کو بھی احساس ہونا چاہئے کہ بڑے بڑے منصوبے یقینا فائدہ مند ہوتے ہیں،مگر عوامی سطح پر ان کا اثر نہیں ہوتا، جبکہ مہنگائی کی شرح بڑھنے کے باعث ہر فرد متاثر ہوتا ہے۔اس کا خیال رکھنا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -