سخت سزا ہو، مگر بلاتاخیر

سخت سزا ہو، مگر بلاتاخیر
سخت سزا ہو، مگر بلاتاخیر

  

کہتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا (چینل) پرنٹ میڈیا (اخبارات و جرائد) کو کھا گیا ہے اور اب سوشل میڈیا بھی چینلوں (الیکٹرانک میڈیا) کو کھا رہا ہے۔ بظاہر اس کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ مروجہ ذرائع ابلاغ دیکھی اَن دیکھی، کہی ان کہی پابندیوں کی زد میں ہیں، جبکہ سوشل میڈیا ابھی تک مادر پدر آزاد ہے۔پابندیوں کی تازہ مثال پشاور میں جمعیت علمائے اسلام کا بہت بڑا جلسہ عام اور کراچی میں سنی جماعتوں کی عظیم الشان ریلی ہے۔ ان کی کوریج کا جو حال پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ سوشل میڈیا پر جھلکیاں نہ آتیں تو شائد ناظرین، سامعین اور قارئین کو عوامی طاقت کے ان مظاہروں کا اندازہ ہی نہ ہوتا۔ یہی میڈیا کسی نادیدہ قوت کی محبوب جماعتوں کے اسلام آبادی دھرنوں میں رات دن براہ راست کوریج میں اتنا منہمک ہوتا کہ خبرنامے نشر کرنا بھی بھول جاتا۔ اب ”نامحبوب“ میدان میں آئے ہیں تو غیر اعلانیہ نیم بائیکاٹ کا سماں ہے۔ اس رویے کا نقصان ”غیر محبوب“ سیاسی قوتوں کو تو شائد نہ ہو، خود روایتی ذرائع ابلاغ کو ہو رہا ہے۔ ان کا اعتماد، بھرم اور مقبولیت کم ہونے کے آثار واضح ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اتنا ”آزاد“ ہے کہ دینی و سماجی اقدار کا خیال رکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ توقع ہے کہ یہ بے لگامی کبھی نہ کبھی ذمہ دارانہ ابلاغ میں ڈھل جائے گی یا ڈھال دی جائے گی۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں جو معاملہ ”میڈیا“ میں نمایاں ہو جائے، وہ ایک طرف ہیجان پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف ذمہ دار سرکاری ادارے خواب خرگوش سے بیدار ہو کر کچھ نہ کچھ کر دکھانے کے لئے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ قصور کی بچی زینب کے کیس سے لے کرلاہور کی حالیہ ڈکیتی و زیادتی تک کتنے ہی کیس اس رویے کے عکاس ہیں۔ اس قسم کے لاکھوں قبیح جرائم میں سے وہی معدودے چند کیس کسی نتیجے پر پہنچے جن کو میڈیا میں نمایاں جگہ مل گئی۔ 

اس سانحہ موٹروے میں جن دو ملزموں کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہ دونوں جرائم پیشہ ہیں۔ ایک ملزم عابد علی ملہی اسی قسم کی واردات اپنے آبائی علاقے فورٹ عباس میں بھی کر چکا ہے۔ میڈیا کی نظر میں نہیں آیا تو متاثرین پر دباؤ ڈال کر صلح اور مقدمہ واپس لینے پر مجبور کر دیا گیا، پھر پنچایتی دباؤ پر صرف علاقہ چھوڑا۔ دوسرا ملزم وقارالحسن ایک ہفتہ قبل ضمانت پر رہا ہوا تھا…… ہمارے ہاں عالم یہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران روزانہ 8بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیس سامنے آئے۔ دینی مدارس میں بچے، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں لڑکے لڑکیاں، نجی و سرکاری دفاتر اور ہسپتالوں میں خواتین زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ خواتین اور بچوں کے والدین عموماً بدنامی کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں یا ہمارے نظامِ انصاف کی خجل خواری سے گھبرا کر دم سادھ لیتے ہیں۔اس جنسی درندگی کا عالم یہ ہے کہ قبرستان اور لاشیں تک محفوظ نہیں۔ اس بے راہ روی کی ایک وجہ ”ابلاغی تربیت“ بھی ہے جو سوشل میڈیا کی فحش ویب سائٹ نے کی ہے۔ سماجی دانش رکھنے والوں کا ماتھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا  جب پاکستانیوں کو فحش مواد دیکھنے والوں میں سرفہرست گردانا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے ان قابل اعتراض ویب سائٹس تک رسائی ناممکن بنانے کے کئی اقدامات وقتاً فوقتاً کئے، تاہم اس دوران ”ابلاغی تربیت“ کافی کام دکھا چکی تھی اور لوگوں کا ذوق پراگندہ کرنے میں خاصی کامیابی حاصل کرلی۔ موٹروے واقعہ کے بعد بھی تونسہ شریف اور وفاقی دارالحکومت کے نواح میں ڈکیتی و زیادتی کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ میڈیا میں سانحہ لاہور جس طرح اجاگر ہوا ہے اور جس طرح پولیس اور دیگر حکام متحرک ہوئے ہیں تو اس بات کا قوی امکان پیدا ہو گیا کہ لگے ہاتھوں متذکرہ سانحات کے مجرموں کے خلاف بھی کوئی کارروائی عمل میں آجائے۔ 

سانحہ لاہور میں درندگی کا سامنا کرنے والی خاتون کوئی ”مہاتڑ شہاتڑ“ خاتون نہیں، وہ فرانس میں تھیں، بچوں کی اسلامی ماحول میں تعلیم و تربیت کے لئے شوہر کو وہیں چھوڑ کر ”ریاست مدینہ“ چلی آئیں۔ لاہور کے امیر اور پوش علاقے ڈیفنس میں میکہ اور گوجرانوالہ میں سسرال ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والا جرم انفرادی نہیں، قومی جرم ہے۔ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ خصوصاً پاکستانی تارکین وطن کے اعتماد کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں رہنے والے پاکستانی مالی طور پر خوشحال، سماجی طور پر محفوظ، مگر آزاد ماحول کی وجہ سے بچوں، خاص طور پر بچیوں کی تربیت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے لئے وہ چھوٹے بچوں کو ہی پاکستان لانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ بچے وہیں بڑے ہو جائیں تو وہ پاکستان آنا پسند نہیں کرتے۔ یہی جذبہ متاثرہ خاتون کو پاکستان لایا ہوگا، مگر اب شائد وہ اس گھڑی کو پچھتا رہی ہوں جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والا ہر مجرم سخت سزا کا حقدار ہے، مگر اس جرم میں مبتلا شخص تو اس لئے بھی عبرت کا نشان بنائے جانے کے قابل ہے کہ وہ قومی مجرم بھی ہے۔ اس سنگین جرم پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے تفتیشی لب و لہجے میں جو بیان داغ دیا اس پر بھی سوشل میڈیا میں خاصے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک صاحب نے شعر کی صورت میں بیان پر تبصرہ کیا ہے  کہ ”قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی، کہ مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر۔

سید طلعت حسین لکھتے ہیں: ”سی سی پی او عمر شیخ کا بیان کہ بچوں کے سامنے ریپ ہونے والی خاتون کو خود سفر میں احتیاط برتنی چاہیے تھی“ نئے پاکستان کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ اس افسر کو تعینات کرنے کے لئے عمران خان نے آئی جی کو فارغ کیا ہے۔ انتخاب دیکھئے اور منتخب کرنے والوں کا اخلاقی معیار دیکھئے۔ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ”بس یہ دعا کریں کہ مجرم طاقتور ہونے کی بجائے کمزور لوگ ہوں تاکہ انہیں نشان عبرت بنانے میں آسانی رہے، کیونکہ ہم نے اچکزئی کو باعزت بری ہوتے دیکھا ہے“۔ 

مزید :

رائے -کالم -