سانحہ موٹر وے منصوبہ بندی کس نے کی، پہلا ملزم گرفتار اور دوسرا فرار کیسے ہوا؟

سانحہ موٹر وے منصوبہ بندی کس نے کی، پہلا ملزم گرفتار اور دوسرا فرار کیسے ...

  

مرکزی ملزم عابد پولیس کو بار بار چکمہ دے کر نکل جاتا ہے، اس کے عزیز و اقارب پکڑے جا رہے ہیں 

آج سے 13روز قبل پنجاب میں سفرکے لحاظ سے محفوظ ترین تصورکی جانے والی ہائی وے(موٹر وے) پر انسانیت سوز واقعہ پیش آیا، جس میں گاڑی کا پیٹرول ختم ہونے پر مددکی منتظرخاتون کودو ڈاکوؤں نے دوران ڈکیتی اجتماعی بداخلاقی کا نشانہ بناڈالا۔اس کیس کے مرکزی ملزم عابد کو پولیس تاحال گرفتار نہیں کر سکی، البتہ پولیس نے اس کے ہمراہی ملزم شفقت کو گرفتار کر لیا ہے،گرفتار ہونے والے ملزم شفقت علی نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اس کا دوسرا ساتھی ملزم عابد ملہی وقوعہ سے چند روز پہلے ایک ڈکیتی کیس میں چالان مکمل ہونے پر جیل سے رہا ہو گیا تھا۔ ’ملزم عابد کو وارداتوں کے دوران جنسی بداخلاقی کی لت پڑ چکی تھی۔‘پنجاب پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ہے کہ، ’اس کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی جو اب تک پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا، اسے جولائی 2020 میں دو دیگر افراد کے ساتھ ہائی وے پر ڈکیتی کے الزام میں شیخوپورہ پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ 25 اگست کو اس کا تین ڈکیتیوں میں چالان مکمل کرکے جیل بھیجا گیا لیکن سانحہ موٹر وے سے 10 روز قبل اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔‘ سانحہ موٹر وے کے دوسرے ملزم شفقت علی کو دیپال پور، اوکاڑہ میں ان کے گھر سے گزشتہ اتوار کی شام گرفتار کیا اور اسی روز لاہور لا کر ڈی این اے کا نمونہ لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا۔پیر کو اس کا ڈی این اے موقع واردات سے اکٹھے کیے گئے دیگر نمونوں سے میچ کر گیا۔ پولیس آفیسر کے مطابق ملزم نے بغیر کسی تھرڈ ڈگری تشدد کے اپنا جرم قبول کر لیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ سی ٹی ڈی کے پاس اس کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں۔ شفقت علی اور عابد ملہی دونوں کا تعلق بہاولنگر سے ہے۔ عابد شیخوپورہ کے فیکٹری ایریا میں ایک کارخانے میں کام کرتا تھا، جہاں شفقت کو بھی نوکری مل گئی اور اس طرح ایک برس قبل ان دونوں کی دوستی ہوئی۔ عابد ایک عادی مجرم تھا اور اس نے شفقت کو بھی اپنے ساتھ چھوٹے موٹے جرائم اور ہائی وے پر ڈکیتیوں میں شامل کر لیا۔ کچھ ماہ بعد شفقت اوکاڑہ چلا گیا کیونکہ اسے وہاں ایک کولڈ سٹور میں کام مل گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اکثر ڈکیتیوں کے لیے عابد سے ملنے آتا تھا۔

ستمبر کی سات تاریخ کو بھی عابد نے شفقت کو فون کیا اور اسے کہا کہ میری طرف آؤ ’گپ شپ‘ کریں گے۔ یہ لفظ وہ ڈکیتی کے منصوبے کے لیے کوڈ ورڈ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ شفقت اسی شام شیخوپورہ پہنچا، دونوں نے رات اور اگلا دن عابد کے گھر پر گزارا اور آٹھ اگست کی شام کو یہ دونوں گجر پورہ آ گئے۔ عابد نے اپنے تیسرے ساتھی اقبال عرف بالا کو بھی بلایا جو قریبی علاقے لکھو ڈیر میں رہتا تھا تا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ڈکیتی کی واردات میں شامل ہو مگر بالا نے مصروفیت کی بنا پر انہیں منع کر دیا۔‘دوران تفتیش شفقت نے بتایا کہ اس روز ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ موٹروے کے نیچے واقع انڈر پاس سے گزرنے والے راہ گیروں کو لوٹیں گے۔ وہ اپنے شکار کا انتظار کر رہے تھے جب انہوں نے موٹر وے پر ایک گاڑی کھڑی دیکھی جس کے اشارے جل بجھ رہے تھے۔ عابد موٹر وے پر گیا اور گاڑی کی کھڑکی سے اندر باہر کا جائزہ لیا اور واپس آ کر شفقت کو بتایا کہ ایک اکیلی خاتون گاڑی میں بیٹھی ہیں۔دونوں اس خاتون کی گاڑی کے پاس ڈکیتی کی نیت سے پہنچے اور دیکھا کہ خاتون کے علاوہ تین بچے بھی تھے جو سو رہے تھے۔ عابد نے پستول دکھا کر خاتون کو گاڑی کا دروازہ کھولنے کا کہا مگر خاتون کے انکار کرنے پر اس نے پستول کی مدد سے گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر دروازہ کھول دیا اور خاتون کو گاڑی سے باہر گھسیٹنے کی کوشش کی۔ اسی دوران خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔’یہ سب دیکھ کر گاڑی میں بیٹھے بچوں نے چیخنا شروع کر دیا جن میں سے ایک بچے کو عابد نے پکڑ لیا۔ خاتون نے اس موقعے پر دونوں ڈاکوؤں کو کہا کہ وہ ان سے ان کی تمام اشیا یہاں تک کہ گاڑی بھی لے لیں مگر عابد نے شفقت کو انہیں موٹر وے کے ساتھ نچلی طرف درختوں کے جھنڈ میں لے جانے کا کہا۔ یہ سننے پر خاتون نے خود کو عابد کی گرفت سے آزاد کروایا اور وہ دوڑنے لگیں لیکن بچوں کی چیخیں سن کر وہ واپس آئیں۔عابد نے اس خاتون کو پھر سے قابو میں کیا اور ان کا بیگ اور دیگر اشیا اٹھائیں جبکہ شفقت نے تینوں بچوں کو گاڑی سے باہر نکالا اور انہیں درختوں کے جھنڈ میں لے گئے۔ خاتون نے شدید مزاحمت کی مگر عابد اور شفقت نے انہیں دھمکایا کہ وہ خاموش رہیں ورنہ وہ ان سب کو جان سے مار دیں گے۔ اس کے بعد شفقت نے تینوں بچوں کو قابو میں کیا اور عابد نے خاتون کے ساتھ جنسی بداخلاقی کی جس کے بعد یہی عمل شفقت نے دہرایا۔‘پولیس افسر کہتے ہیں کہ ’جب خاتون پہلی مرتبہ گاڑی سے دور بھاگیں، اسی وقت وہاں سے گزرنے والے ایک شخص نے یہ سب واردات دیکھی اور کچھ گڑبڑ محسوس کرتے ہوئے انہوں نے پولیس ایمرجنسی پر کال کی جس کے بعد ڈولفن سکواڈ وقوعہ پر پہنچی۔‘جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو عابد اور شفقت دونوں موقعے پر موجود تھے اور خاتون کے بیگ کی تلاشی لے رہے تھے۔ ایک پولیس افسر نے دو ہوائی فائر کیے اور جب عابد اور شفقت بھانپ گئے کہ پولیس آ گئی ہے تو دونوں وہاں سے بھاگ کر درختوں کے گھنے جھنڈ میں چھپ گئے۔ دو گھنٹے وہاں چھپے رہنے کے بعد دونوں ملزمان صبح سات بجے عابد کے گھر پہنچے جہاں سے شفقت اوکاڑہ چلا گیا اور وہاں ایک خفیہ مقام پر چھپ گیا۔جائے وقوعہ پر خاتون کے لیے ایک لیڈی پولیس افسر بلائی گئیں جنہوں نے ان سے ابتدائی معلومات حاصل کیں اور حادثے کی جگہ سے نمونے اکٹھے کیے گئے جن کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے میں مدد ملی۔‘ شفقت کو عابد کے کال ریکارڈ سے ڈھونڈا۔ اس کا نمبر مسلسل بند تھا تاہم سی ٹی ڈی پولیس اوکاڑہ میں شفقت کے رشتے داروں تک پہنچ گئی تھی جنہوں نے شفقت کو گرفتار کروانے میں مدد کی۔ ’دوران تفتیش شفقت نے انکشاف کیا کہ عابد نے اسے اپنی کئی ڈکیتی کی ایسی وارداتوں کی کہانیاں سنائی تھیں جن میں وہ ڈکیتی کے ساتھ جنسی بد اخلاقی بھی کیا کرتا تھا۔ عابد پہلے بھی کئی مرتبہ گرفتار ہو چکا ہے مگر ہر بار وہ مختلف وجوہات کی بنا پر رہا ہوجاتا تھا۔ اس وقت بھی وہ آزاد گھوم رہا ہے‘یہاں یہ وضاحت ضروری کہ پولیس کی حراست میں دیے گئے ملزم کے بیان کی بہت زیادہ قانونی اہمیت نہیں ہوتی، کیوں کہ اکثر الزام لگتا ہے کہ ملزم نے تشدد سے بچنے کی خاطر بیان دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کے سامنے ملزم کا کیا موقف ہوتا ہے۔چئیر مین سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم شہزادہ سلطان کے مطابق ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے پنجاب پولیس اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔اس مقصد کے لئے ان کی سربراہی میں ایک سپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں سی ٹی ڈی پنجاب اور سپیشل برانچ پنجاب کے سینئر افسران بھی شامل ہیں جو دن رات ملزم کی گرفتاری کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ملزم کے اور ساتھی بھی اس واردات میں ملوث ہیں۔ابھی تک کی تفتیش میں اس جرم میں صرف دو ملزمان ملوث پائے گئے ہیں جن میں ایک گرفتار ہو چکا ہے۔ موٹروے بداخلاقی کیس کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی کہ ”دعا کرو کہ ملزمان امیر، اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے نہ ہوں ورنہ ملزمان کو نشانِ عبرت بناتے بناتے مظلوم خود نشا ن ِ عبرت اور سوالیہ نشان بن جائے گی۔ موٹروے بداخلاقی کیس کے ساتھ ہی حکمرانوں کی جانب سے حسبِ دستور بیان سامنے آیا ہے کہ ملزمان کو نشان عبرت بنا دیں۔ یہ سب کچھ دور پر ے کی باتیں نہیں بلکہ زینب کیس میں بھی سامنے آ چکی ہیں اور ہر بے آبرو ہوتی پاکستانی بیٹی کے بارے میں ہمارے حکمران بیان دیتے رہتے ہیں اور رہیں گے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی پرانی عادت ہے۔ ہر بڑے جرم کے بعد ان کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ قصور وار عوام کو بنایا جائے جس سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ لیکن ہم انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں فرانس اور برطانیہ آمنے سامنے کے ملک ہیں ان دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک دریا ہے جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ برطانیہ اور فرانس دونوں ہی ممالک میں تقریباً سوادوسوسال قبل غربت بے روزگاری عرْوج پر تھی اور لیکن نظام مختلف تھا۔ ایک بہت مشہور واقعہ لوگوں نے سن رکھا ہوگا کہ ملکہ فرانس سے عوام نے شکایت کی کھانے کے لیے ڈبل روٹی نہیں مل رہی ہے تو ملکہ فرانس نے عوام سے کہا کہ ”ڈبل روٹی نہیں مل رہی ہے تو کیک کھا لو“۔ بس پھر کیا تھا خدائی عبادت کے خلاف قانون کی منظوری سے فرانس میں کسی کی گردن محفوظ نہ تھی، 1794۔ 1793 کے درمیان ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اْتار دیا گیا۔ عوام کے خیالات و جذبات کے سامنے بادشاہ، ملکہ، شاہی خاندان، امرا اور وہ سب اشخاص اور ادارے جو سیاسی زندگی سے متعلق تھے ختم ہوگئے۔ ملکہ فرانس کے ان الفاظ نے عوام کے سماجی، اخلاقی اور انسانی پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیا اور 16 اکتوبر 1793ء کو بادشاہ اور ملکہ فرانس کو بھی عوامی عدالتی کارروائی کے بعد موت کی سزا دے دی گئی۔ لیکن تاج ِ برطانیہ آج بھی اپنی خامیوں کے باوجود موجود ہے۔

ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات ملک سے جرائم کا خاتمہ کبھی بھی نہیں رہا اس کے برعکس کبھی ”آئی ایم ایف“ کبھی ”ڈبلیو ٹی او“ اور کبھی کوئی اور بین الاقوامی تنظیم کی سفارشات پر عمل کر نا رہا ہے۔ اس طرح کی صورتحال سے جرائم میں اضافہ اور امن و سکون میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی ہو تی جارہی ہے۔ شبنم کیس آج بھی پاکستان میں جاری ہے اور اسے روکنے کے لیے جس ہمت اور بہادری کی ضرورت ہے وہ سیکولرز حکمرانوں میں نہ پہلے کبھی تھی نہ آج ان میں ایسی کو ئی خوبی نظر آرہی ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -