شیخوپورہ میں تشدد کے بعد 30خواتین قتل 

شیخوپورہ میں تشدد کے بعد 30خواتین قتل 

  

بدا خلاقی کے اوپر تلے واقعات بھی لمحہ فکریہ ہیں 

 بدچلنی اور ناجائز تعلقات کے شبہ میں خواتین کے قتل کے واقعات معمول بن چکے ہیں آئے روز ایسی دلخراش وارداتیں سامنے آرہی ہیں جن میں خواتین کو بہیمانہ تشدد اور جان سے مار دینے جیسا قبیح جرم سرزد کیا جارہا ہے جو کسی صورت قابل برداشت نہیں،بد قسمتی سے خواتین کے قتل جیسے غیرت سے عاری قبیح جرم کو غیرت کے نام پر قتل کا نام دیا جارہا ہے، ذرائع کے مطابق ملک بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے رونما ہونے والے واقعات کی تعداد غیر معمولی ہے جبکہ اضلاع کی سطح پر دیکھاجائے تو ضلعی شیخوپورہ بھی ان اضلاع کی فہرست میں کسی حد تک سرفہرست ہے جن میں خواتین پر تشدد اور قتل کے واقعات تسلسل سے رونما ہورہے ہیں، شیخوپورہ میں لاقانونیت کے دیگر واقعات کی روک تھام کیلئے تو مربوط لائحہ عمل کی بات کی جاتی رہی ہے مگر خواتین پر تشدد اور قتل جیسے سنگین جرم کی روک تھام کیلئے ایسا لائحہ عمل میسر نہیں جس کے تحت دیکھا گیا ہو کہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے ذرائع کے مطابق حالیہ چند ماہ میں 30سے زائد خواتین کو بدچلنی کے شبہ میں قتل کیا گیا ہے جبکہ خواتین پر بہیمانہ تشدد کے واقعات انگنت ہیں جن میں سے اکثریتی واقعات مختلف ہتھکنڈوں سے عزیز و اقارب یا معتبر اہل علاقہ کے ذریعے نمٹا لیا گیا اور بعض واقعات مک مکا یا ساز باز ہوکر پولیس کے ذریعے دبا لئے گئے یہی وجہ ہے کہ خواتین پر تشدد کے تھانوں میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد معمولی ہے جبکہ زیادہ تر پر تشدد واقعات گھروں میں رونما ہوئے جن میں سب سے زیادہ نشا نہ بیویاں بنیں بعض واقعات میں باپ یا بھائیوں نے یہ جرم سرزد کیا اسی طرح کچھ واقعات ایسے ہیں جن میں ماں باپ اور بہن بھائیوں سمیت دیگر رشتہ دار بھی شامل پائے گئے ہیں خواتین کے قتل کے بعض واقعات میں مقتولہ خواتین کا تعلق کسی دیگر علاقہ سے ہے جن کی نعشیں بہیمانہ قتل کے بعد شیخوپورہ کی حدود کے مختلف مقامات پر پھینکی گئیں جن کے ورثاء کی تلاش اور قاتلوں تک رسائی معمہ بنی رہی جبکہ کتنے ایسے اندھے قتل پولیس نے ٹریس کئے یہ تفصیل پولیس فراہم کرنے سے قاصر ہے یقینا یہ صورتحال ناقابل برداشت اور ایسامعاشرتی جرم ہے جس سے قتل ہونے والی خواتین کے ساتھ ساتھ پورا خاندان شدید متاثر ہوتا ہے اور اہلخانہ کی زندگیوں کے ایسے دلخراش واقعات سے نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں خصوصاً ایسی شادی شدہ مقتول خواتین جن کے بچے بھی ہوں انکے قتل کی واردات نے بچوں کی زندگیوں کو شدید جھنجھوڑا ہے اور انکی کفالت میں شدید مشکلات لاحق ہوتی دیکھی گئی ہیں، دیکھا جائے تو بدکاری کا ارتکاب کرنے والوں کیلئے اسلامی قواتین میں کڑی سزائیں متعین ہیں جنہیں پیش نظر رکھا جائے تو یہ گماں بھی نہیں کہ بدکاری جیسے فعل کا آزادانہ ارتکاب ممکن ہوسکے جبکہ ایسے بد بخت جنہیں یہ لت اس قدر لاحق ہو کہ لذت گناہ دامن گیر ہو اوروہ اسے ترک کرنے کو تیار نہ ہوں ان کیلئے تعزیزات پاکستان میں سزائیں متعین ہیں لہٰذا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی شہری کو دی نہیں جاسکتی بدچلنی کے شبہ میں کئے گئے خواتین کے تمام قتلوں میں ایک امر مشترک ہے کہ قاتل نے اپنے تائیں جرم کا ادارک کیا اور تشدد و قتل جیسی سنگین سزاء کو بھی خود ہی تعین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں یہ جرم انجام دیا کسی طرح کی کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی حالانکہ قانون کا سہارا لیا جاتا تو شواہد کی روشنی میں ثابت ہوتا کہ آیا یہ الزام واقعی درست ہے یا کسی کی ذہنی اختراع ہے اس عمل سے نہ صرف خواتین پر ہونے والے بے جا تشدد کی نوبت نہ آتی اور نہ ہی بدچلنی کے شبہ میں ہونے والے قتل کے واقعات رونما ہوتے دوسری طرف اگر کوئی خاتون ذہنی طور پر بھٹک جانے کے باعث ایسے کسی جرم کی مرتکب ثابت ہوتی تو اسے بھی قانون کے تحت سزا ملتی جس سے اسکے کسی اہلخانہ کو قانون ہاتھ میں لینے ضرورت نہ پڑتی مگر ہمارے ہاں یہ جرم تسلسل سے جاری ہے جس کی روک تھام ممکن ہوتی دکھائی نہیں دے رہی جبکہ اس جرم کا زیادہ تر ارتکاب شیخوپورہ جیسے پسماندہ اضلاع میں دیگر اضلاع کی نسبت کہیں بڑھ کر سامنے آیاہے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس جرم کا ارتکاب زیادہ تر دیہی علاقوں میں کیا گیا ہے اور اسے انجام دینے والے زیادہ تر افراد نوخواندہ یا بہت کم پڑھے لکھے ہیں حالانکہ ہمارے ہاں پایا جانیو الا خاندانی سسٹم ایسے جرائم کو سرزد ہونے میں روک تھام کا ذریعہ ثابت ہونا چاہئے تھا مگر معاشرتی تفریق کے باعث خواتین کو کم درجہ اہمیت دیا جانا بھی ایسے جرائم میں اضافہ کا سبب ہے شبہ ہونے پر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا یا قتل کیا جانا عمومی حیثیت حاصل کرچکا ہے کوئی تصدیق نہیں کی جاتی اور اگر کسی خاتون سے یہ غلطی سرزد ہوئی بھی ہوتو کسی فرد کا قانون ہاتھ میں لینا بہت بڑی لاقانونیت ہے جس کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی، دوسری طرف یہ بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملک بھر میں جگہ جگہ بدکاری کے اڈے قائم ہیں اور ان قحبہ خانوں میں خواتین کی عصمت دری معمول ہے مگر ان کے خاتمہ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی حالانکہ سول سوسائٹی کو بھی اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے مگر بدچلنی کے شبہ پر تو خواتین کے قتل تک کی نوبت آ پہنچتی ہے تاہم بدکاری کے مراکز کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی نہیں جارہی تاکہ متعلقہ ادارے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں، تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ماضی قریب میں یہ قبیح وفعل چھپ چھپا کر نہایت رازداری سے انجام دیا جاتا تھا اور اگر کسی جگہ قحبہ خانے کی موجودگی کا ادارک ریاستی حکام میسر آتا تو نہ صرف ہنگامی کاروائی عمل میں لائی جاتی بلکہ جرم ثابت ہونے پر مرتکب افراد کو عبرتناک سزائیں دی جاتیں تاکہ سند رہے اورعوام اس فعل سے ہرلحاظ سے باز رہے، اسلامی قوانین کے حوالے سے دیکھا جائے تو جن جرائم کو معاشرتی بگاڑ کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ان میں زنا کاری بھی شامل ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی ایک مقامات پر زنا کا رمردو خواتین کیلئے دنیا و آخرت کیلئے عذاب جہنم کی وعید سنائی ہے جبکہ اس بابت تعین کردہ اسلامی سزاؤں میں زناکاری کی سزا نہایت باعث عبرت مقرر کی گئی ہے اور چونکہ گناہ و ثواب کا مقابلہ رہتی دنیا تک جاری رہنا ہے لہذاٰ وہ لوگ جنہیں توفیقِ ثواب ہو وہ نہ صرف لذت گناہ کو خو د پر حاوی ہونے نہیں دیتے بلکہ دوسروں کو بھی اعمال صالح کا پابند دیکھنا چاہتے ہیں اور اس غرض سے وہ گناہ سے اپنی نفرت کا اظہار کرکے گناہ سے بچنے کادوسروں کو پیغام دیتے ہیں تاکہ اہل معاشرہ گمراہی کے راستے پر گامزن ہونے سے بچے رہیں جبکہ وہ ادوار حاکمیت جنہیں ایک اسلامی معاشرہ کے وجود کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے ان میں زکاری کا ارتکاب کرنے والوں کو دی جانیوالی سزاؤں کے وجود کی منظر کشی کرتا چلوں کہ اسلامی سلطنتوں میں ہر جمعۃ المبارک کے روز بعداز نماز جمعہ گناہگاروں کو سزائیں سنائی جاتی اور بعدازاں ان پر عملدر آمد بھی مروجہ قانون کی رو سے مختلف معیاد پر مبنی قید و بند اور جسمانی سزاؤں و جرمانوں کی صورت میں کیا جاتا مگر قتل جیسے گناہ کبیرہ کے ساتھ ساتھ زنا کاری ایک ایسا جرم تھا جس کے مرتکبوں کو سزا سرعام دی جاتی جوقاتل کا سر کاٹے جانے کی طرح بدکاروں کو سنگسار یا درے لگائے جانے کی صورت میں ہوتی،یہی وجہ تھی کہ اسلامی ریاستوں میں بدکاری جیسے کبیرہ گناہ کے ارتکاب کے واقعات نہ ہونے کے برابر تھے، بحثیت انسان ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے کو درست خطوط پر استوار کرنے کیلئے بہتری و فلاح کے پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے عزیز و اقرباء کو بھی بدکاری کے جرم سے باز رکھیں بلکہ بدچلنی کے شبہ میں رونما ہونیو الے خواتین کے قتل اور تشدد کے واقعات کی حوصلہ شکنی میں بھی کردار ادا کریں جبکہ متعلقہ اداروں کے حکام کو بھی اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ 

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -