اپوزیشن کا اکٹھ اور حکومتی پریشانی 

اپوزیشن کا اکٹھ اور حکومتی پریشانی 
اپوزیشن کا اکٹھ اور حکومتی پریشانی 

  

ایک جانب حکومتی اراکین دعوی کرتے ہیں کہ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور ان کی اے پی سی ہارے ہوئے لوگوں کا اکٹھ ہے اور دوسری جانب پھر جب اپوزیشن  کچھ کرنے کیلئے اکٹھی ہوتی ہے تو حکومت پریشان بھی ہو جاتی ہے،اگر غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، قانون پاس کرانے میں حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے کوئی رکاوٹ سامنے نہیں آتی تو اس کے باوجود شبلی فراز،شہباز گل اور شہزاد اکبر کی لمبی لمبی پریس کانفرنسزاس بات کی غماز ہیں کہ حکومت پریشان بھی ہے کہ کہیں اپوزیشن واقعی اکٹھی ہو کر حکومت کے خلاف تحریک شروع نہ کر دے کیوں کہ اگر اپوزیشن ایک ساتھ نہیں ہے، پارلیمنٹ میں قانون پاس کرانے میں حکومت کی راہ میں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے تو حکومت کی جھولی میں بھی کچھ ایسا نہیں ہے کہ اس کی عوام میں پذیرائی ہو سکے۔ مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی ہے، اشیا ء ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، معیشت کی حالت انتہائی خراب ہے اور حکومت کے پاس کرپشن کا واویلا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے یا کوئی ایسا چورن نہیں ہے، کہ جس سے عوام کو مہنگائی بے روزگاری کے طوفان کے باوجود وہ مطمئن کر سکیں۔

اس لئے اگر اپوزیشن حکومت کیخلاف تحریک چلانے کا ارادہ کرتی ہے جو ان سطور کے شائع ہونے تک واضح ہو جائے گا تو حکومت کیلئے جلسے جلوسوں کو سنبھالنا آسان نہ ہو گا خصوصا عمران خان کی حکومت کیلئے جس میں برداشت کا مادہ انتہائی کم ہے۔ عمران خاں میں جہاں خوبیاں ہیں وہیں ایک سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ حریفوں کو برداشت کرنے کا مادہ نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کا اے پی سی سے خطاب کرنے کا صرف اعلان ہی ہوا تو حکومت کو پریشانی ہو گئی کہ اب انہیں کیسے روکا جائے کبھی پیمرا کی دھمکیاں تو کبھی اشتہاری ہونے کے طعنے حالانکہ یہی میڈیا تھا جو عمران خان کی سول نافرمانی کی تحریک کو زور و شور سے دکھا رہا تھا عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر بجلی کے بل جلا رہے تھے نہ ان کو کسی نے روکا اور نہ ہی پیمرا کو اس وقت کی حکومت نے دھمکیاں دیں کہ وہ عمران خان کی اس غیر قانونی حرکت کو لائیو کیوں دکھا رہے ہیں۔

رہی سہی کسر نوازشریف نے ٹویٹر پر دھماکہ خیز انٹری کر کے دے دی ہے اور حکومتی مشیروں وزیروں کو سمجھ نہیں آ رہی کس طرح ٹویٹر کو روکیں اگر ان کا وہاں بس چل رہا ہوتا تو یقینا ٹویٹر پر بھی نوازشریف پر پابندی لگوا چکے ہوتے، اس لئے اب بار بار نوازشریف کا سزا یافتہ ہونا دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن کیا جہانگیر ترین بھی نوازشریف کی طرح نا اہل ہو کر حکومتی ایوانوں میں براجمان نہیں رہے، پالیسیاں نہیں بناتے رہے اور شوگر سکینڈل میں نام آنے کے باوجود وہ لندن نہیں پہنچ گئے اس لئے جب قانون حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں کیلئے الگ الگ ہو گا تب اس طرح کی وضاحتیں اور مفرور اشتہاری کے نعرے حکومتی اراکین کو زیب نہیں دیتے۔ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہونے ہیں اگر ابھی سے اپوزیشن ایک نہ ہوئی اور سینیٹ کے انتخابات پر بھی بکھری رہی تو پھر حکومت کو پارلیمنٹ میں من مانیاں کرنے سے ان میں ذرا سی بھی سکت نہیں رہے گی کیوں کہ اب اپوزیشن کی حالت مر جاؤ یا مار دو والی ہے اس کے بعد ان کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہو گی کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر واک آؤٹ کریں جو حکومت کیلئے سود مند ہے۔ عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے گزشتہ دو سالوں میں انہیں اپوزیشن کی جانب سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اب اگر انہیں اپوزیشن نے حقیقی طور پر ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے تو باقی کے تین سال حکومت میں گزارنا عمران خان کیلئے آسان نہیں ہو گا اور نہ ہی ان کیلئے حکومت کرنا وزیراعظم ہاؤس میں صرف جاگنگ کرنا جیسا ثابت ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن تو اس حکومت کے آغاز سے ہی حکومت کو گھر بھیجنے کے حامی تھے اور اسمبلیوں میں نہ  بیٹھنے پر یقین رکھتے تھے لیکن انہیں باقی اپویشن کی جماعتوں کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے میں مشکل پیش آئی اور پھر جب انہوں نے حکومت کے خلاف دھرنا دیا تو اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اس طرح ان کی حمایت نہیں کی جس طرح انہیں کرنی چاہئے تھی اگر اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مل کر فصل الرحمن کا ساتھ دیتیں تو شاید ایف اے ٹی ایف کے بل پر حکومت کے سامنے جو سبکی اپوزیشن کو اٹھانا پڑی ہے وہ نہ اٹھانا پڑتی۔عمران خان کو حکومت سے ہٹانے کے معاملے پر یا پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پر بھی اپوزیشن کی جماعتوں میں اس وقت اختلافات ہیں۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی چاہتی ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت پانچ سال کی مدت مکمل کرے اور آئندہ انتخابات میں عوام کارکردگی کی بنیاد پر اس جماعت کو مسترد کریں اور دونوں جماعتوں کے اندرونی ذرائع کے مطابق ان دونوں بڑی جماعتوں کا خیال ہے کہ اس  وقت وفاقی حکومت کو ختم کیا جانا عمران خان کو ہیرو بنانے کے مترادف ہو گا جووہ کبھی بھی نہیں چاہیں گی اور نوازشریف بھی اس وقت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں جب ملک میں اس طرح کا ماحول بنے گا تو وہ لندن سے پاکستان آ کر جیل جانے کیلئے بھی تیار ہو جائیں گے ابھی وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کی دلدل میں جب ڈوب جائے گی توپھر میدان عمل میں نکلا جائے،دوسرا ن لیگ یہ بھی سمجھتی ہے کہ ابھی بھی اس کا ووٹ بینک پنجاب میں قائم ہے جو حکومت کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے اور عثمان بزدار جیسا وزیراعلی ن لیگ کیلئے نعمت ثابت ہوا ہے۔جبکہ مو لانا فضل الرحمن عمران خان کی حکومت کو زیادہ وقت نہیں دینا چاہتے۔ ان کے خیال میں حکومت کو جتنا وقت ملے گا وہ مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔

مارچ میں تحریک انصاف کو سینٹ میں بھی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ اور پھر وہ کوئی بھی قانون سازی آسانی سے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گی۔ یہ بات تو واضح ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بھی اپنی اتنی عددی برتری ثابت نہیں کر سکی صرف دس ووٹوں سے اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر اس کے غیر حاضر اراکین میں سے دس بھی موجود ہوتے تو حکومت کی حالت دیدنی ہوتی۔ ابھی بھی پلوں کے نیچے سے پانی نہیں گزرا سینیٹ کے انتخابات سے قبل اپویشن کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ مل کر حکومت کیخلاف جدوجہد کریں۔

مزید :

رائے -کالم -