پانی پت کا نیا میدان

پانی پت کا نیا میدان
پانی پت کا نیا میدان

  

 میاں نواز شریف نے آج تک ٹویٹر پر اکاؤنٹ نہیں بنایا تھا، لیکن اپوزیشن کی ملٹی پارٹی کانفرنس سے صرف ایک دن پہلے انہوں نے پہلی بار اکاؤنٹ بنا کر ایک ٹویٹ ”ووٹ کو عزت دو“ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے صرف چند گھنٹوں میں پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے اور ان کے فالوورز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ پہلے فیصلہ کن معرکے پانی پت کے میدان میں ہوا کرتے تھے، لیکن اب کچھ سال سے سوشل میڈیا ہی پانی پت کا میدان بن چکا ہے۔ امریکی صدور باراک اوبامہ اور ڈونلڈ ٹرمپ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان سمیت تقریباً ہر ملک کے سیاسی لیڈر ٹویٹرکو اپنی سیاست کے ایک اہم ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ وہ یہاں نہ صرف بہت فعال ہیں، بلکہ اپنے اہم ترین اعلانات اکثر ٹویٹر پر ہی کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف پرانی وضع قطع اور روایات کے لیڈر ہیں۔برے سے برے حالات میں بھی انہوں نے کبھی شائستگی کا دامن نہیں چھوڑا، اپنے بدترین سیاسی مخالفین کا ذکر بھی ہمیشہ عزت و احترام سے کیا۔ ان کا واسطہ عمران خان بریگیڈ سے ہے،جس کو شائستگی، عزت و احترام، سیاسی روایات اور اقدار چھو کر بھی نہیں گذریں۔ ابھی چند دن پہلے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں عمران خان نے اسحاق ڈار کو طعنہ دیا کہ ان کے والد کی سائیکلوں کی دکان تھی۔ سیاسی مخالفین کے بزرگوں پر اسمبلی فلور پر وزیراعظم پاکستان کی طرف سے ذاتی حملے انتہائی قبیح فعل ہے،جو غیر سیاسی ذہن ہونے کا ثبوت ہے۔

اسی تقریر میں انہوں نے میاں نواز شریف کا بچپن گوالمنڈی میں گذرنے کا مذاق اڑایا۔ یہ کون سی روایات ہیں جو عمران خان نے شروع کی ہیں۔ کنٹینر پر احتجاجی سیاست میں لوگوں نے عمران خان کا ”اوئے اوئے“ والا انداز تخاطب دیکھا تھا جس کے بعد ان کا بریگیڈایسا طوفانِ بدتمیزی مچاتا تھا کہ الامان الحفیظ۔ عمران خان کو(ڈس) کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے سیاست میں بدتمیز کلچر کو پروان چڑھایا ہے اور نوجوانوں کی ایک ایسی نسل تیار کردی ہے جسے بزرگوں اور بڑوں کا ادب کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اپوزیشن میں کنٹینرکی گنجائش بہرحال نکالی جا سکتی ہے لیکن وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ جیسی با وقارجگہ پر نہیں۔ پہلا اوور کپتان نے اسمبلی فلور پر خود کیا، جس میں سائیکلوں کی دکان اور گوالمنڈی جیسے فاؤل باؤنسرز مارے اور اس کے بعد گیند بابر اعوان، فیاض الحسن چوہان، شبلی فراز، مرزا شہزاد اکبر، علی زیدی اور شہباز گل جیسے باؤلروں کے حوالہ کردی، جنہوں نے اپنے بیانات اور ٹویٹس میں اقدار، اخلاقیات اور سیاسی روایات کی دھجیاں اڑا دیں۔ مَیں سوچ رہا تھا کہ ان بیانات اور شہباز گل کے ٹویٹس نقل کروں تاکہ لوگ دیکھیں کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ میں بیٹھے غیر منتخب لوگوں کا سیاسی لیول کیا ہے اور وہ صرف اس لئے وزیر اعظم کے مشیر اور معاون خصوصی ہیں کیونکہ دشنام  طرازی اور اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو میں مہارت رکھتے ہیں،لیکن یہ سوچ کر ٹویٹس نقل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا کہ اس موقر روزنامہ کی محدود جگہ کو اس طرح کی عامیانہ گفتگو کی نذر نہ کیا جائے۔ شہباز گل، شبلی فراز اور شہزاد اکبر جیسے لوگ یونین کونسل کا ممبر نہیں منتخب ہو سکتے، لیکن کروڑوں ووٹ لے کر اور قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت رکھنے والے تین بار کے منتخب وزیراعظم کے بارے میں بازاری گفتگو کرکے وزیر اعظم کے سامنے اپنے نمبر بناتے ہیں، کیونکہ انہیں یہی لیول پسند ہے۔ علی زیدی جب ٹویٹ کرے کہ ”بے غیرتوں کو ووٹ نہ دو“ تو اس پر انا للہ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔

میاں نواز شریف نے کبھی ٹویٹر یا فیس بک استعمال نہیں کیا تھا، لیکن اب ان کا ٹویٹر پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پانی پت کا میدان سجنے جا رہا ہے۔ میاں نواز شریف کا ٹویٹر پر جس طرح والہانہ استقبال ہوا ہے اور وزیروں مشیروں سمیت عمران خان حکومت جس اضطراب میں نظر آتی ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت اور میڈیا میں اس کے حمائیتی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو میاں صاحب کا تیر عین نشانہ پر لگا ہے۔ اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں میاں نواز شریف اور آصف علی زرادری کی شرکت نے مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب وہ حکومت کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد میں آل آؤٹ جائیں گے، یعنی تخت یا تختہ۔ میاں نواز شریف نے مقدمات اور بیماری کے باوجود پارٹی کی قیادت عملی طور پر سنبھال لی ہے اور اب میاں شہباز شریف کو دوبارہ بیک سیٹ پر بیٹھنا پڑے گا۔ پچھلے تین سال کے دوران میاں شہباز شریف کی فرینڈلی سیاست نے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی طور پر بہت نقصان پہنچایا ہے، جس کا تمام فائدہ ان کے سیاسی مخالفین اور عمران خان حکومت نے اٹھایا ہے۔ الیکشن 2018ء سے صرف 12 دن پہلے جب بیگم کلثوم نواز کی شدید علالت کے باوجود میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے  وطن واپسی کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے سیاسی حالات کا تقاضہ تھا کہ زبردست پاور شو کیا جائے،جس کے بعدمسلم لیگ (ن) بڑے مارجن سے الیکشن جیت جاتی، لیکن میاں شہباز شریف ائر پورٹ نہ ”پہنچ“سکے۔ اس کے بعد گذشتہ دو سالوں میں قومی اسمبلی میں بھی میاں شہباز شریف سیاسی طور پر کمزور مخلوط حکومت کو ٹف ٹائم نہیں دے سکے اور مختلف مواقع پر حکومت نے پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود اپنے بل منظور کرائے۔

ابھی صرف چند دن پہلے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے بہت سے ممبر اسمبلی نہیں آئے، جس کی وجہ سے اکثریت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ لگتا ہے مسلسل سبکی ہونے کی وجہ سے ’بیمار ہونے کے باوجو د‘ میاں نواز شریف نے عملی طور پر قیادت خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔مَیں پچھلے دو سال سے دیکھ رہا تھا کہ مسلم لیگی کارکن ہومیو پیتھک سیاست سے نالاں اور کشمکش کا شکار تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکن ذہنی اور جذباتی طور پر میاں نواز شریف سے قلبی لگاؤ رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیہ کو درست سمجھتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے قیادت سنبھالنے سے کارکن ایک نئے ولولہ سے دوبارہ متحرک ہوں گے، کیونکہ انہیں واضح پیغام ملے گا کہ اب فیصلے میاں نواز شریف کے چلیں گے اور ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ چلے گا۔ اسی طرح مریم نواز شریف کے دوبارہ متحرک ہونے سے کارکنوں کا حوصلہ بلند ہو جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی طرح پیپلز پارٹی نے بھی فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آصف علی زرداری بھی میاں نواز شریف کی طرح قیادت اب اپنے ہاتھ میں لیں گے اور عین ممکن ہے دونوں پارٹیوں کے درمیان نیا میثاق جمہوریت طے پا جائے،جس طرح پہلی دفعہ جب میثاق جمہوریت،بے نظیر بھٹو اورمیاں نواز شریف کے درمیان 2006ء میں ہوا تھا توڈ یڑھ سال میں ملک نے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف سے نجات حاصل کر لی تھی، اسی طرح نیا میثاق بھی حکومت کے خاتمہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 

پانی پت کا میدان سج چکا ہے جہاں پاکستان کی سیاست کا فیصلہ کن معرکہ برپا ہو گا۔ پاکستان کی بقا‘ خوف سے آزا د جمہوریت میں ہے۔ ایک پیج والا بیانیہ زیادہ دیر اس لئے نہیں چل سکتا کہ اگر نئے میثاق جمہوریت کے تحت اپوزیشن پارٹیاں ایک پیج پر آ گئیں تو حکومت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہے گا، کیونکہ اس کی کارکردگی اور ڈلیوری صفر ہے اور صرف اداروں کی پشت پناہی پر تکیہ کرنے سے حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ عوام کو ریلیف نہیں ملے گا تو حکومت غیر مقبول ہوتی جائے گی اور اس کے بعد ایک پیج والا بیانیہ بھی غیر موثر ہو جائے گا۔ سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے سے بھی حکومت نہیں چل سکتی اس لئے وزیراعظم سمیت پوری کابینہ جس کام پر لگی ہوئی ہے یہ محض وقت کا ضیاع اور خود کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔ حکومت کی بوکھلاہٹ سے اپوزیشن کو سیاسی طور پر بہت فائدہ ہو گا۔ لگتا ہے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے سمجھ لیا ہے کہ چپ کاروزہ رکھنے کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -