غریب کا ووٹ بہت بڑا انتقام ہے

غریب کا ووٹ بہت بڑا انتقام ہے
غریب کا ووٹ بہت بڑا انتقام ہے

  

وزیراعظم نے جب 25 جولائی 2018ء کے انتخابات کے موقع پر اپنی انتخابی مہم میں تبدیلی کا  نعرہ لگایا نیز وطن عزیز کو ایک نیا پاکستان بنانے کا سہانا سپنا دکھایا تو نوجوانوں بچوں اور بوڑھوں سمیت پوری قوم ان آدرشوں امنگوں او ر خوابوں کو حقیقی شکل میں دیکھنے کی آرزو مند ہو گئی لیکن بد قسمتی سے یہ سنہری خواب سراب ثابت ہونے میں قطعاً کوئی دیر نہ لگی۔ کرپٹ اور بد عنوان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے، لوٹی گئی رقوم قومی خزانے میں جمع کرانے کے وعدے، بیس اکیس کروڑ عوام الناس کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے کا لولی پوپ، مہنگائی کے جن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بوتل میں بند کر دیئے جانے کی وعیدیں، بیروزگاری کے خاتمے کی یقین دہانیاں، لوگوں کے گھروں کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی، تعلیم اور صحت کے یکساں او ر مساوی مواقع فراہم کرنا اور بے گھر کے لئے اس کی اپنی چھت کا اہتمام غرضیکہ کون سا ایسا وعدہ وعید اور دعویٰ ہے جو نہیں کیا گیا، لیکن نتیجہ صفر جمع صفر جمع صفر کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ وہی غربت،وہی مہنگائی، بیروزگاری، عدل و انصاف کی فراہمی کا فقدان،چھینا جھپٹی، حق تلفیاں، عزتوں اور عصمتوں کا سر عام قتل، نا انصافیاں، الامان والحفیظ۔

بد عنوان عناصر سے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کا نعرہ اس قدر تسلسل اور تواتر سے لگایا گیاکہ لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے کہ منتخب ہونے والے وزیراعظم اپنے اس نعرے، وعدے اور دعوے کی لاج بہر حال ضرور رکھیں گے اور وہ یہ بھی اپنے تئیں سمجھ بیٹھے کہ اس نعرے اور وعدے کے عملی شکل میں آتے ہی ان کے تمام دکھ  درد، آلام و مصائب روئے زمین سے کافور ہو جائیں گے لیکن

”اے بسا آروز کہ خاک شدہ“

ستم بالائے ستم بلکہ طرفہ تماشا پھر بھی وہی ہے کہ مافیا سے پیسہ نکلوا کر تعلیم پر خرچ کریں گے نیز کرپٹ لوگوں سے ہونے والی وصولی سے قانون سازی ہو گی۔ کٹھن فیصلوں کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ مشکل وقت ختم ہو چکا ہے جبکہ خوشحالی دستک دے رہی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی واپسی کے لئے تمام قانونی ذرائع استعمال کریں گے۔ میاں محمد شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کو وطن واپس لائیں۔ کبھی اس طرح کی خبریں سامنے آتی ہیں کہ نیب نے میاں نواز شریف کی گرفتاری کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ کبھی یہ کہ وفاقی کابینہ نے لیگل ٹیم کو ٹاسک دے دیاہے، کیونکہ سابق وزیراعظم کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے نیز یہ کہ انہیں واپس لانے کے لئے تمام ذرائع استعمال کئے جائیں گے، لیکن کیا عوام یہ پوچھنے میں حق بجانے نہیں کہ جو کرپٹ عناصر ملک میں موجود ہیں آپ نے ان کے خلاف اب تک کوئی بھی سخت ترین کارروائی کی ہے؟ ہٹ دھرمی، ضد، انا کی تسکین کو ایک طرف رکھ کر ملک کو پٹڑی پر ڈالنے کی کوئی ایک بھی مخلصانہ اور سنجیدہ کوشش کی گئی دکھائی نہیں دیتی اور یہ روز روشن کی طرح ایک واضح حقیقت ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کو ریاست مدینہ کی شکل دینے کے آرزو مند ہیں ان کی یہ خواہش لائق تحسین ہے لیکن انہیں یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ ریاست مدینہ کے بانی اور شارع اسلام آنحضور ختمی مرتبؐ نے فتح مکہ کے بعد اپنے بد ترین دشمنوں کو بھی معاف کر دیا تھا بلکہ عام معافی کا اعلان فرما دیا تھا۔ آپ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے رہیں گے تو نہ آپ کا ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب پورا ہوسکے گا اور نہ ہی تاریخ کے ابواب میں آپ کا ذکر سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

اس حوالے سے آپ کو تلخیاں فراموش کرنا پڑیں گی، دلوں میں اترنا پڑے گا۔ جہاں تک اپوزیشن اور اپنے مخالفین کو دیوار سے لگانے بلکہ بند گلی میں دھکیلنے کا تعلق ہے وہ بھی ایک حد تک ہی شاید ہو سکے کیونکہ مینڈیٹ تو ان کے پاس بھی ہے۔ لاہور ان کا قلعہ ہے پنجاب ان کا مرکز ہے۔ بلوچستان بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح سندھ اور پختونخوامیں بھی اپوزیشن اپنا اثر و نفوذ بہر حال تھوڑا بہت رکھتی ہے لہٰذا اتنی آسانی سے اپوزیشن کا گلا نہیں دبایا جا سکتا، نہیں دبایا جانا چاہیے۔ اپنی ساری توانائیاں صرف ایک ہی کام پر صرف کرنے کی بجائے مہنگائی کم کریں، بیروزگاری پر قابو پائیں، بیوروکریسی اور حکومتی مشینری بشمول وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور وزرا کو عوام کا حاکم نہیں بلکہ خادم بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔ کیا وزیراعظم اور ملک کے دوسرے اکابرین اس حقیقت سے باخبر ہیں؟ کہ عوام کو آٹا 74 روپے فی کلو مل رہاہے، چینی سو روپے کلو خریدنے پر مجبور ہیں اسی طرح روز مرہ کی دوسری اشیا ئے صرف کی قیمتوں کاکیا حال ہے۔ تھانوں میں مظلوم کی شنوائی نہیں، کچہریوں اور عدالتوں کے باہر صحنوں میں لگے درخت بھی انصاف کی فراہمی کے لئے پیسہ مانگتے ہیں۔ افسران کمرو ں سے باہر نہیں نکلتے۔

وزرا اپنے دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے بقول وزیراعظم اپنا زیادہ تر وقت مارگلہ کی پہاڑیوں پر لطف اندوز ہوتے ہوئے گزارتے ہیں۔ ایسے عالم میں عوام جائیں تو کہاں جائیں۔ خوشحالی حکمرانوں کو شاید نظر آتی ہو بیس اکیس کروڑ عوام تو خوشحالی کے ثمرات سے تاحال محروم ہیں۔انہیں اس شے سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کا مخالف کون ہے اور ساتھی کون ہے انہیں ریلیف چاہیے انہیں آسودگی مطلوب ہے۔ انہیں اشیائے خوردونوش ارزاں اور سستے داموں درکار ہیں۔ انہیں انصاف اپنی دہلیز پر دیکھنے کی خواہش ہے۔ انہیں بجلی سستی چاہیے، پٹرول مناسب قیمتوں پر دیا جانا چاہیے۔ ان کے بچوں کے لئے تعلیم کے دروازے ہر سطح کے تعلیمی اداروں میں کھلنے چاہییں۔ انہیں صحت کے لئے کسی ”انصاف صحت کارڈ“ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔اگر یہ سب کچھ نہیں تو باقی سب سراب ہے۔ ہاں اگر 2023 کے انتخابات میں بھی سرخروئی حکمرانوں کو مطلوب ہے تو پھر کچھ کر کے دکھایا جائے اگر ایسا ممکن ہو تو دس پندرہ سال پھر آپ کے ہوئے ورنہ غریب کا ووٹ بہت بڑا انتقام ہے جو قدرت کی لاٹھی کی طرح بے آواز ہے۔ اور یہ غریب عوام بڑے با شعور ہو چکے ہیں انہیں ان کے حق رائے دہی کے حوالے سے بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -