ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہم کہاں کھڑے ہیں؟

  

اگر سوال یہ ہو کہ کیا انڈیا اور چین میں جنگ ہو سکتی ہے تو اندریں حالات اس کا جواب نفی میں ہو گا۔’اندریں حالات‘ کا ٹکڑا اس لئے لگایا ہے کہ انڈیا ایسا کوئی بلنڈر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا جو چین کی توجہ اپنے بڑے دشمن (امریکہ) سے ہٹا کر کسی چھوٹے دشمن (انڈیا) پر مرکوز کر دے اور اس طرح اپنی توانائیوں کا کوئی معمولی سا حصہ (Segment) بھی ضائع کر دے۔ چین اس مزاحمتی توانائی کو بچا کر رکھنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ بھی فی الحال کسی بھی قسم کی چھوٹی بڑی جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ ’فی الحال‘ کا ٹکڑا اس لئے لگایا ہے کہ امریکی الیکشن سر پر ہیں اور ٹرمپ نے اپنی افواج اور قوم کو یقین دلایا ہے کہ وہ امریکہ کو جنگ کی مسلسل اور دائمی بھٹی سے نکال کر اسے کچھ دیر کے لئے تازہ اور پُرسکون فضا میں رہنے کا موقع فراہم کرنا چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے اپنی افواج کی ایک بڑی تعداد کا انخلاء ٹرمپ کے دوسری ٹرم کے انتخابی پروگرام سے میل کھاتا نظر آتا ہے۔ افغانستان میں بھی امریکی پالیسی کا یہی پہلو نمایاں تر ہو کر سامنے آ رہا ہے۔ ایسے میں امریکہ، چین جیسے بڑے ملک سے رزم آرائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔

ایک اور پہلو جو مستقبل قریب میں امریکہ کو جنگ و جدال کی بھٹی سے نکالنے کا باعث بن رہا ہے وہ ٹرمپ کی وہ الٹرانیو (Ultra new) گلوبل پالیسی ہے جس کی رو سے متحدہ عرب امارات، بحرین اور دوسرے کئی عرب ممالک کا اسرائیل سے مخاصمانہ پالیسی کو ترک کرنا ہے۔ اسے آپ امریکہ کی طرف سے چین کی CPEC اور BRI کی توسیع پسندانہ پالیسی کا کاؤنٹر بھی کہہ سکتے ہیں۔ دبئی کو گوادر سے خطرہ ہے اور تل ابیب کو بیجنگ اپنے ہمسائے (جیبوتی) میں سانس لیتا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ کے پاس اس چائنا چیلنج کے دو ہی کاؤنٹر تھے یا وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج کو مقیم اور صف بند رکھتا یا اپنا کوئی متبادل حلیف اس خطے میں چھوڑ دیتا۔ ٹرمپ نے موخرالذکر آپشن کو گلے لگایا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چین کے خلاف اسرائیل + عرب ریاستیں کسی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں یا چین مشرق وسطیٰ میں آنے والے برسوں میں امریکہ کی جگہ لے سکتا ہے۔ چین کے لئے یہ چیلنج، کوئی بڑا چیلنج نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ کو اب NATO کی وہ سپورٹ حاصل نہیں جو ماضی ء قریب میں عراق اور لیبیا کے خلاف حاصل تھی یا افغانستان میں ہم پاکستانیوں نے دیکھی تھی۔ ناٹو ممالک نے امریکہ کے خلاف ایران سے کسی بھی قسم کے تعرض کو خارج از امکان قرار دیا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ یورپی یونین، ایران کے خلاف کسی بڑی محاذ آرائی کو گلے لگانے کی متحمل دکھائی نہیں دے رہی۔

اگر ہم 20ویں صدی کی جنگوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ امریکہ اس ایک صدی میں تدریجی ارتقائی دور سے گزر کر دنیا کی واحد سپر پاور بنا ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں (1914-18ء) میں امریکہ، اس جنگ کے شروع ہونے کے تین سال بعد شریک ہوا۔ یہ جنگ اگست 1914ء میں شروع ہوئی تھی۔ ایک طرف جرمنی تھا اور دوسری طرف فرانس اور برطانیہ اور روس۔ امریکہ کی ہمدردیاں اگرچہ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ تھیں لیکن امریکہ اپنی فوج، بحراوقیانوس کو بحری جہازوں  کی مدد سے عبور کرکے ساحلِ فرانس پر اتارنے سے گریزاں تھا۔ ہوائی جہاز اگرچہ 1903ء میں (امریکہ میں)  ایجاد ہو چکا تھا لیکن اس کی ڈویلپ منٹ ابھی ابتدائی مراحل میں تھی اور کوئی ایسا ٹرانسپورٹ فضائی بیڑا موجود نہ تھا جو امریکہ اور فرانس کے درمیان ہزاروں میل حائل پانی کے اوپر سے گزر کر اس جنگ میں شریک ہوتا۔ وڈرو ولسن (wilson) اس دور میں امریکہ کا صدر تھا اور امریکی جمہوری روایات ہنوز معرضِ تشکیل میں تھیں۔ ولسن کو یہ اندیشہ بھی تھا کہ جرمنی اور سکنڈے نیوین ممالک (ناروے، ڈنمارک، سویڈن وغیرہ) سے جو تارکینِ وطن یورپ سے ہجرت کرکے امریکہ آکر آباد ہو گئے تھے ان کی نسلی اور جذباتی وابستگی جرمنی اور سکنڈے نیویا کے ساتھ تھی۔ امریکی بحری اور برّی افواج کی رگوں میں انہی تارکینِ وطن کا خون دوڑ رہا تھا۔ اس لئے صدرِ ولسن ان افواج کو یورپ بھیجنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ابھی 50سال پہلے تو امریکہ میں وہ خانہ جنگی ہوئی تھی (1860ء تا 1865ء) جس میں یورپ سے ہجرت کرکے آئے سپاہیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور لاکھوں امریکی مارے گئے تھے۔

امریکی ملٹری کمانڈرز (جنرل پیرشنگ وغیرہ) اپنے صدر پر زور دے رہے تھے کہ اگر امریکی افواج کو کسی اور خانہ جنگی (سول وار) سے بچانا ہے تو امریکی فوجی جوانوں اور افسروں کو میدانِ جنگ میں زندہ ٹریننگ دینا بہت ضروری ہے۔ جب یہ تقاضے حد سے بڑھ گئے تو صدر کو مجبوراً اپنی فوج اس جنگ میں بھیجنی پڑی جس کا نام پہلی عالمی جنگ نہیں بلکہ گریٹ وار تھا(پہلی عالمی جنگ کی تخصیص تو اس وقت ہوئی جب ”دوسری گریٹ وار“ اس ”پہلی گریٹ وار“ کے چار سالہ دورانئے اور خونریزی سے نکل کر چھ سالہ دورانئے پر پھیل گئی)چنانچہ اس جنگ میں پہلا امریکی فوجی 16اپریل 1917ء کو شامل ہوا اور تقریباً ایک، سوا ایک سال بعد اگست 1918ء میں یہ جنگ ختم ہو گئی۔ اس میں جرمنی کو شکست فاش ہوئی۔ تاہم اس شکست میں امریکی ٹروپس کی کوئی زیادہ کمبٹ کنٹری بیوشن نہیں تھی۔ 1917ء میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آ گیا اور اس نے اپنی افواج جنگ سے واپس بلا لیں۔

دریں اثنا جرمنی کی قوتِ حرب و ضرب بھی انتہائی کم ہو گئی اور اگست 1918ء کے آتے آتے جرمنی یہ جنگ ہار گیااور اتحادی (برطانیہ، فرانس، امریکہ) جیت گئے۔ اگرچہ اس مختصر کالم میں پہلی عالمی جنگ کی کوئی زیادہ تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی لیکن قارئین کو اس جنگ کی تاریخ ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ امریکہ ایک تیسرے درجے کی فوج کی مساوات سے نکل کر صرف 20برس بعد 1939ء میں اول درجے کی فوجی طاقت کیسے بن گیا…… ایک بات کی طرف قارئین کی توجہ ضرور دلانی چاہوں گا کہ پہلی عالمی جنگ میں جب امریکی سپاہ یورپ چلی گئی تو امریکی سرزمین میں امریکی خواتین نے فوج میں بھرتی ہو کر وار پروڈکشن مہم کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اسلحہ اور بارود تیار کرنے کے تمام کارخانے، جنگی گاڑیاں (جیبیں اور بڑے بڑے ٹرک) پروڈیوس کرنے کی تمام فیکٹریاں اور ملٹری یونیفارم وغیرہ بنانے کی تمام فرموں میں خواتین کی فرمانروائی ظاہر و باہر تھی۔ اس امریکی وومن کور (Women Corps) نے یورپی محاذوں پر لڑنے والے اپنے شوہروں، بیٹوں اور بھائیوں کی انصرامی سپورٹ میں جو حصہ لیا وہ انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ تھا…… اسی کلچر کو بعد میں دوسرے یورپی ممالک نے بھی اپنایا اور موجودہ چین میں اسی چلن کی پیروی آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

میں قارئین سے معذرت طلب ہوں کہ امریکن ملٹری کلچر کی ڈویلپ منٹ کی توضیح کرنے میں زیادہ دور نکل آیا لیکن بتانا یہ مقصود تھا کہ وہ امریکہ جو 1914ء میں ایک تیسرے درجے کی فوجی قوت بھی نہ تھا وہ 76برس بعد 1990ء میں دنیا کی واحد سپریم پاور کیسے بن گیا۔ پاکستان کو وجود میں آئے آج 73 برس سے اوپر ہو چکے ہیں …… اور ہمارا میڈیا ابھی تک یہی سوال کر رہا ہے: ”ہم کہاں کھڑے ہیں؟“…… بھائی لوگو! اگر آپ مزید 73برس بھی اسی طرح کھڑے رہے جس طرح گزشتہ پون صدی میں کھڑے رہے ہو تو آپ کا میڈیا یہی سوال دہرائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -