نواں کوٹ‘شہری کے مبینہ قتل کا مقدمہ ساڑھے تین ماہ بعددرج 

نواں کوٹ‘شہری کے مبینہ قتل کا مقدمہ ساڑھے تین ماہ بعددرج 

  

لاہور(کر ائم رپو رٹر)نواں کوٹ پولیس شہری کے مبینہ قتل کا مقدمہ ساڑھے تین ماہ بعددرج کرنے پر مجبور ہو گئی پولیس نے ملزمان سے ساز باز کے باعث مقتول کے بھتیجے تنویر مسیح کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا۔ بتایا گیا ہے کہ کوٹ کمبوہ نواں کوٹ میں طارق مسیح کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسکی نعش پنکھے سے لٹکا دی گئی تھی نواں کوٹ پولیس کو جب تنویر مسیح نے اس وقوعہ میں ملوث افراد اعجاز شاہ وغیرہ کے نام بتائے تو پولیس نے تنویر اور اس کے ساتھ پولیس اسٹیشن گئے افراد کو الٹا حراست میں لیکر تشدد کانشانہ بنایا اور کئی گھنٹے کے بعد انہیں چھوڑ دیا  تنویر مسیح کا الزام ہے کہ ملزمان جس میں اسکا چچا جاوید مسیح بھی شامل ہے انکو بچانے کے لئے سابق تھانیدارنادر نے ایس ایچ او نواں کوٹ سے ساز باز کر لی تھی جس کے باعث اسکا مقدمہ درج نہیں کیا گیا تنویر مسیح نے چچا کے قتل پر مقدمہ کے اندراج کیلئے نواں کوٹ پولیس،ڈی ایس پی، ایس پی اور سی سی پی او لاہور کو درخواستیں دیں لیکن نواں کوٹ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے ضابطہ دفعہ 174کی کارروائی کر کے افسران کو آگا ہ کر دیا کہ طارق مسیح نے خودکشی کی ہے تنویر مسیح پوسٹمارٹم رپورٹ لیکر افسران کے دفاتر دہائی دیتا رہا   تنویر مسیح نے ہمت نہ ہاری اور آئی جی پنجاب شکایت سیل پر درخواست اور پوسٹمارٹم کی رپورٹ دی تب ایس پی علامہ اقبال ٹاؤن نے یہ درخواست کارروائی کیلئے ڈی ایس پی اور پھر ایس ا یچ نواں کوٹ کو بھجوائی جو کئی روز تنویر مسیح کو گھنٹوں انتظار کی سولی پر چڑھا یا جاتا رہا  تب ایس ایچ او نے اس کے مشکوک چچا جاوید مسیح کو تھانے بلا کر ایک درخواست لکھوائی اور بالا آخر ساڑھے تین ماہ بعد طارق مسیح کے مبینہ قتل کا نامعلوم افراد کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔

مزید :

علاقائی -