داؤد انجینئر نگ یونیورسٹی میں پاکستان کا پہلا آئل اینڈ گیس سیمو لیٹر نصب

داؤد انجینئر نگ یونیورسٹی میں پاکستان کا پہلا آئل اینڈ گیس سیمو لیٹر نصب

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر)داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے گزشتہ روز جامعہ کی ترقی اور کارکردگی کے حوالے سے اس کے اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس منعقد کیا جس کے مہمان خصوصی صوبائی مشیر تعلیم نثار احمد کھوڑو تھے جبکہ سینیٹر تاج حیدر، رکن اسمبلی خورشید جونیجو، مختار احمد شیخ،ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ ڈاکٹر عبدالوحید بھٹو، رجسٹرار سید آصف علی شاہ، پی ایچ ڈی فیکلٹی ارکان، بعض طلباء اور ان کے والدین، ملازمین اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر معزز مہمانوں نے داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں نصب پاکستان کے پہلے آئل اینڈ گیس سیمولیٹر کا معائنہ کیا اور اس کی آپریشنز کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ قوم کے محسن تعلیم کوفروغ دینے میں مدد کرتے ہیں اور داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی بھی قوم کے محسنوں کاتحفہ ہے، ساٹھ کی دہائی میں اس کالج کا تحفہ دیا گیا آج یہاں سے طلبہ پی ایچ ڈی کررہے ہیں، ہمارے دورمیں سندھ مدرستہ الاسلام اورکالی موری کالج حیدرآباد کویونیورسٹی کادرجہ ملا، ماضی میں داؤد کالج کانام اچھا نہیں سمجھاجاتا تھا اور تعلیمی ماحول بہترنہیں تھاتاہم اب داؤد یونیورسٹی کی ترقی میرے لئے حیران کن ہے، خوشی ہے داؤد یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے اسے بہترین ادارہ بنایا، جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے تھے وہاں اب تعلیمی کلچر فروغ پا رہا ہے، ڈاکٹر فیض اللہ عباسی سندھ کی جامعات کے واحد وائس چانسلر ہیں جنہوں نے طلباء تنظیموں کی بحالی کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہائیرایجوکیشن کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور انڈسٹریز سیکٹرسے مشاورت کی ہے تاکہ ان کی ضروریات کے مطابق انجینئرزتیارکئے جاسکے۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیزاچھی تب لگیں گی جب اس سے فارغ ہونے والے طلبہ کامیاب زندگی گزاریں۔ سینیٹر تاج حیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہے کہ یہ یونیورسٹی ترقی کر رہی ہے، سندھ حکومت اس یونیورسٹی کو سپورٹ کرتی رہے گی۔ رکن اسمبلی خورشید جونیجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داؤد کالج ماضی میں بہترین شہرت کا حامل ادارہ رہا ہے جس کے انجینئرز نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا تاہم عدم توجہی کے باعث یہاں کے حالت خراب ہوئے لیکن ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے بانی وائس چانسلر کی حیثیت سے اس ٹھیک کرنے کا چیلنج قبول کیا اور اب یہ ادارہ ترقی کی منزلوں کو طے کررہا ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ ماضی کی طرح ایک مثالی ادارہ بنے گا۔ اجلاس کیاختتام پر معزز مہمانوں کو وائس چانسلر کی جانب سے داؤد یونیوسٹی کی خصوصی شیلڈز پیش کی گئیں۔ 

مزید :

صفحہ آخر -