اپوزیشن کرپٹ عناصر کا گروہ، کیسے استعفا مانگ سکتے ہیں، ایک اور ابوبچاؤ مہم ناکام، اداروں کو نواز شریف کی تقریر کا نوٹس لینا چاہیے: وفاقی وزراء

    اپوزیشن کرپٹ عناصر کا گروہ، کیسے استعفا مانگ سکتے ہیں، ایک اور ابوبچاؤ ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ  وزیر اعظم کے  استعفے کا مطالبہ کرنے والی اپوزیشن کرپٹ عناصر کا گروہ ہے،اپوزیشن کرپٹ عناصر کا گروپ ہے، وہ کیسے استعفے مانگ سکتے ہیں اے پی سی کے مطالبے پر ردِ عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام ہی استعفے کا مطالبہ کر سکتے ہیں، شبلی فراز نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والا مینڈیٹ عوام کا مینڈیٹ ہے وہی استعفے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔انھوں نے کہا جلسے، جلوس، ریلیاں کرنا اپوزیشن کا حق ہے، اپوزیشن کو جو کرنا ہے کرے کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی نتائج نہیں نکلیں گے، لانگ مارچ کے لیے کمٹمنٹ، کاز اور دلیری چاہیے، اپوزیشن کے پاس تینوں نہیں۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا رویہ منافقانہ ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کیا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی، نواز شریف 3بار منتخب ہوئے کیا وہ الیکشن ٹھیک نہیں تھے؟انہوں نے کہا نواز شریف کی تقریر تھوڑی بہت سنی میں واک پر نکل گیا تھا، مجھے پتا تھا کہ اس نے کیا کہنا ہے، اپوزیشن کا جو دل چاہے کرے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ حقیقی جمہوری لوگ ہی نہیں، یہ قانون کو مانتے ہی نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ نواز شریف مکمل صحتمند دکھائی دئیے، واضح ہو گیا کہ باہر جانے کیلئے بیماری کی شعبدہ بازی کی گئی، اداروں کو نواز شریف کی تقریر کا نوٹس لینا چاہیے وفاقی دارلحکومت کا ماحول نارمل ہے، صرف کچھ سیاسی رہنما اکٹھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے آج کے بیان میں کوئی نئی بات نہیں کی۔ وہ 2018ء  میں کیوں نکالا کی مہم میں بھی ایسی باتیں کر چکے ہیں۔ ان سے پوچھنا چاہیے کہ قومی اداروں کے خلاف بیانیہ کون دے رہا ہے؟شبلی فراز نے کہا کہ فیٹف بل اور اداروں کیخلاف مہم نواز شریف کی تقریر میں ظاہر تھی۔ اس پر بحث ہونی چاہیے کہ نواز شریف کو بیانیہ کس کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے کہا کہ انتخابات کو‘’مینج”کیا جاتا رہا ہے لیکن وہ بھول گئے کہ وہ خود 3 بار وزیراعظم رہے، عمران خان تو پہلی بار وزیراعظم بنے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ خود اقتدار میں ہوں تو سب ٹھیک لیکن اپوزیشن میں ہوں تو جمہوریت خطرے میں نظر آتی ہے۔ نواز شریف باہر بیٹھ کر ہمارے ملک کے قانون کا منہ چڑا رہے تھے۔ وہ پاکستان کے خیر خواہ ہیں تو اربوں کی جائیدادیں بیچ کر پاکستان آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے منی ٹریل مانگنے کی بجائے خود قانون کے سامنے پیش ہوں۔ عمران خان نے تو 40 سال کی مکمل منی ٹریل دی ہے۔ سپریم کورٹ نے انھیں صادق اور امین قرار دیا۔شبلی فراز نے کہا کہ نیب کا چئیرمین اپوزیشن کی دونوں جماعتوں نے مل کر لگایا۔ جب یہ حکومت میں تھے، تب نہ نیب کو ختم کیا اور اس کا قانون تبدیل کیا، اپنے خلاف کیسز بنتے ہی شور شرابا شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ سارا واویلا کرپشن کو پس پشت ڈالنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ اس اپوزیشن نے ملک کے ساتھ جو کھلواڑ کیا، اس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں۔ وزیراعظم نے خود کہا کہ نواز شریف کی تقریر نشر ہونے دیں، میڈیا آزاد ہے، ہمیں بھی کیا کیا کچھ نہیں کہا جاتا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم نے واضح ہدایات دی ہیں کہ میڈیا کے خلاف اقدام نہ کریں۔ اچھا ہوا نواز شریف کی تقریر براہ راست نشر ہونے سے یہ خود ایکسپوز ہوئے۔ قوم کو پتا چلا کہ ان کی باتوں میں کتنی منافقت ہے۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اے پی سی حکومت پر دبا ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔  قوم جانتی ہے کہ اپوزیشن سیاست کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہے، اپوزیشن نے پارلیمان کو ذاتی اثاثوں کے تحفظ کے لئے ڈھال بنایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف اپنے پختہ عزم پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اپوزیشن کوکوئی این آر او نہیں ملے گا۔اے پی سی پر ردعمل میں  وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہاہے کہ جب سارے چوراکٹھے ہو جائیں تو سمجھ لیں کوئی یماندارتھانیدارآ گیاہے،اربوں روپے کی منی لانڈرنگ نہ ہونے سے اپوزیشن کی پیاس بجھ نہیں رہی،ماضی میں اپوزیشن کی یہ پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتی رہیں،جھوٹ میں شریف خاندان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ شہباز گل نے کہا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ نہ ہونے سے اپوزیشن کی پیاس بجھ نہیں رہی،ماضی میں اپوزیشن کی یہ پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتی رہیں،،آصف زرداری کہتے تھے جب بھی نواز شریف کو حکومت ملی ملک کنگال ہوا، شہباز گل نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو سابقہ حکومت کے قرضے واپس کرنے تھے،عمران خان نے شب و روز محنت کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہاہے کہ ابو بچاو مہم کی اور قسط فلاپ ہو گئی،نوازشریف کی تقریر کانکتہ ہے اگر میں حکومت میں ہوں تو سب ٹھیک ہے۔  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں و، فوج اور عدلیہ سے گلہ صرف یہ ہے کہ جب عمران خان اور عوام نے مجھے نکالا تو آپ میرے ساتھ کیوں نہیں کھڑے ہوئے۔ وفاقی وزیر کا کہناہے کہ ابو بچاو مہم کی اور قسط فلاپ،میڈیا کی آزادی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو گا کہ نواز شریف کی تقریر براہ راست دکھائی گئی،کہتے ہیں 33 سال ملک میں آمریت رہی لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان سالوں میں پندرہ سال وہ خود اس سسٹم کا حصہ رہے اور کٹھ پتلی کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔وزیر اعظم کے  مشیر داخلہ شہزاداکبر نے کہاہے کہ کہتے ہیں پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں، ابھی قوم نے سزایافتہ اشتہاری مجرم کا لائیو بھاشن سناہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے  بیان میں مشیر داخلہ شہزاداکبر نے    کہا  کہتے ہیں پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں،ابھی قوم نے قوانین کے برعکس ایک سزایافتہ اشتہاری مجرم کا لائیو بھاشن سنا۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو اورہمیشہ کی طرح گرم ہواچلتے ہی ووٹر کو چھوڑ کر لندن بھاگ جاتے ہیں،میاں صاحب بضد ہیں صرف وہ جج قبول ہے جو انہیں ثبوتوں کے باوجود بری کرے۔اپوزیشن کی اے پی سی کے حوالے سے حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ اے پی سی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، نوازشریف کی صحت اگر ٹھیک ہے تو وہ پاکستان واپس آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ نوازشریف آج بھی پرچی سے دیکھ کر پڑھ رہے تھے، وہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ مجھے کیوں نکالا، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو عمران خان کو لے کر آئے، عمران خان کو تو عوام لے کر آئے ہیں، اے پی سی میں احمقانہ باتیں کی گئیں، تمام اداروں سے لڑائی لڑی گئی۔ جو عدالت کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا،وہ سوال پوچھ رہا ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ٹھیک ہو گئے ہیں تو واپس آ جائیں۔وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف باہر بیٹھ کر خودکو بے نقاب کرتے رہے، نوازشریف نے اپنی چوری چھپانے کیلئے اداروں پرالزام لگایا، نوازشریف بتاتے رہے کہ وہ خود اقتدار میں ہمیشہ کیسے آئے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ نوازشریف نے اپنی چوری چھپانے کیلئے اداروں پرالزام لگایا،وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میاں صاحب کوکوئی سمجھائے کہ عوام نے 2018 کے الیکشن میں واقعی ووٹ کوعزت دی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں اسد عمر نے استفسار کیا کہ 2018ء  کے الیکشن میں ووٹ کو جتنی عزت ملی کافی نہیں یا مزید عزت افزائی کی ضرورت ہے؟وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سمجھ بوجھ کر ووٹ کے استعمال کا نتیجہ یہ نکلا کہ میاں صاحب اقتدار سے فارغ ہوئے اور انہیں جعل سازی کر کے ملک سے بھاگنا پڑا۔انہوں نے استفسار کیا ووٹ کی اتنی عزت کافی نہیں یا مزید عزت افزائی کی ضرورت ہے؟وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابراعوان نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کو ایم پی سی (منی لانڈرنگ پارٹی کانفرنس) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے پی سی کے شرکا کی بھاری اکثریت منی لانڈرنگ میں مطلوب ہے، انہوں نے گورنرگلگت بلتستان جلال حسین مقپون سے ملاقات کے دوران کہا اپوزیشن جماعتوں کی ایم پی سی، این آر او کی نئی درخواست ہے،بابر اعوان  نے دعوی کیا کہ (ن) لیگ کے گیارہ رکنی وفد میں سے آٹھ نیب کو مطلوب ہیں۔

وفاقی وزرا

مزید :

صفحہ اول -