وزیراعظم استعفا دیں، آل پارٹیز کانفرنس کا حکومت کیخلاف ملک گیر تحریک چلانے، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام سے نیا سیاسی اتحاد بنانے کا اعلان، میثاق جمہوریت کی خاطر زیر میثاق پاکستان کی تیاری کیلئے کمیٹی قائم ٹروتھ کمیشن بھی بنایا جائیگا، 26نکاتی مشترکہ علامیہ 

    وزیراعظم استعفا دیں، آل پارٹیز کانفرنس کا حکومت کیخلاف ملک گیر تحریک ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اپوزیشن جماعتوں نے” پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“  کے نام سے حکومت مخالف  اتحاد تشکیل   دیتے ہوئے  وزیر اعظم  عمران خان سے  فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے  جبکہ حکومت کے خلاف   ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے  کا اعلان کیا گیا ہے،جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ ہو گا، لانگ مارچ سے قبل ملک بھر میں ریلیاں اور جلسے ہوں گے،عدم اعتماد کی تحاریک اور مناسب وقت پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی شامل ہے۔ اتوار کے روز  اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی۔  کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہوئے۔،  تاہم جماعت اسلامی نے اس اے پی سی میں شرکت سے پہلے ہی انکار کردیا تھا۔۔آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میڈیا کو اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ   مولانا فضل الرحمن نے  اے پی سی   کی 26نقاطی قراردار اور   مشترکہ اعلامیہ   پڑھ کر سنایا۔ 26 نکاتی قرارداد  میں کہا گیا ہے کہ آئین اور وفاقی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنے والی قومی سیاسی جماعتوں    نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ  کے نام سے قومی اتحاد تشکیل دیدیا ہے۔یہ اتحادی ڈھانچہ عوام اور غریب دشمن حکومت سے نجات کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک کو منظم اور مربوط انداز میں چلائے گا اور رہنمائی کرے گا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو اس اسٹبلشمنٹ نے مصنوعی  استحکام بخشا ہے،جس نے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عوام پر مسلط کیا۔اجلاس نے اسٹبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کیلئے خطرہ قراردیا۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسٹبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری بند کرے۔اسٹبلشمنٹ کے تمام ادارے آئین کے تحت لئے گئے حلف اور اس کی متعین کردہ حدود کی پابندی وپاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1947ء سے اب تک تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ٹروتھ کمیشن اور چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کیلئے کمیٹی بنائی جائے گی،جسے ذمہ داری دی جائے گی کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا اعادہ کرتے ہوئے ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے،جس میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات اور1973ء کے دستور کی روشنی میں پاکستان کی جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے طور پر واضح سمت متعین ہو۔اے پی سی کی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں   شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ایسی انتخابی اصلاحات کی جائیں جس میں مسلح افواج اور ایجنسیز کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ جھوٹے مقدمات میں گرفتار ارکان کو رہا کیا جائے۔سلیکٹڈ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں تباہ حال معیشت پاکستان کے دفاعی ایٹمی صلاحیت اور ملک کی باوقار خودمختاری کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔اجلاس اعادہ کرتا ہے کہ1973ء کا آئین،18ویں ترمیم اور موجودہ این ایف سی ایوارڈ قومی اتحاد رائے کا مظہر ہیں،ان پر حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا،پوری قوت سے صوبائی خودمختاری کا تحفظ اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔قرارداد میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشتگردی واقعات میں اضافہ ہوا۔ ناتجربہ کار حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خطرے میں ڈال دیا۔اپوزیشن کی متفقہ قرارداد میں گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل کی اے پی سی قرارداد کی بھی توثیق کی گئی۔قبائلی علاقہ جات کو نوگوایریاز بنانے کا سلسلہ ختم کیا جائے،پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خیبرپختونخواہ میں قائم غیر قانونی نجی جیلوں کی مذمت کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اجلاس ججز کو ریفرنسز اوربے بنیاد مقدمات میں جکڑنے اور دباؤ کی مذمت کرتا ہے اور قرار دیا کہ یہ واقعات آئین کے تحت غیر جانبدار اور آزاد عدلیہ کے تصور کیلئے سنگین دھچکا اور ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ہیں۔قراردار میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کے شہریوں کو لاپتا بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اے پی سی اجلاس میں پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے، ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے مذموم ارادے اور اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی مذمت کی گئی۔۔قرارداد کے متن میں الزام عائد کیا گیا کہ‘’سلیکٹڈ”حکومت سقوط کشمیر کی ذمہ دار ہے۔اس کے علاوہ آغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد یقینی بنانے اور بلوچستان میں ایف سی کی جگہ سول اتھارٹی بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔اجلاس سلیکٹڈ حکومت کی افغان پالیسی میں مکمل ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے،میڈیا پر تاریخ کی بدترین پابندیاں،دباؤ اور سنسرشپ کے حکومتی ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ میرشکیل الرحمن سمیت تمام دیگر گرفتار صحافیوں اور میڈیا پرسنز کو رہا کیا جائے،ان کے خلاف غداری اوردیگر بے بنیاد مقدمات خارج کئے جائیں،شہریوں اور میڈیا کی آزادی کو چھیننے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو رول بیک کرکے اس کا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منصوبے پر عملدرآ مد کو تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حالیہ فرقہ وارانہ تناؤ میں حکومت کی مجرمانہ غفلت کی مذمت کرتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ تمام گرفتار صحافیوں کو رہا اور مقدمات خارج کیے جائیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں غیر جانبدار ججز کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑنے پر شدید تشویش کا اظہار اور مذمت کی گئی۔ اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی و چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے حوالے سے حالیہ رپورٹ کی مکمل و شفاف تحقیقات اسی طریقہ کار سے کی جائیں جو ملک کے دیگر سیاستدانوں سے متعلق اپنایا گیا،جبتک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں انہیں عہدے سے برطرف کیا جائے۔پا،ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات مسترد کئے جاتے ہیں۔۔ اے پی سی  کے ایکشن پلان میں کہا گیا ہے کہ  آل پارٹیز کانفرنس سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران احمد نیازی سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔  متحدہ اپوزیشن ملک گیر تحریک کے آغاز کا اعلان کرتی ہے۔وکلا، تاجر، کسان، مزدور، طالبعلم، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کو اس تحریک کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔  اکتوبر 2020 کے پہلے مرحلے میں سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں مشترکہ جلسے منعقد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔دسمبر 2020 سے دوسرے مرحلے میں بڑے احتجاجی عوامی مظاہرے ہوں گے اور عوام کے ساتھ مل کر بھرپور ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ ہو گا۔سلیکٹڈ حکومت کی تبدیلی کے لیے متحدہ حزب اختلاف پارلیمان کے اندر اور باہر تمام جمہوری، سیاسی اور آئینی آپشنز استعمال کرے گی جن میں عدم اعتماد کی تحاریک اور مناسب وقت پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی شامل ہے۔

مشترکہ اعلامیہ

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلز پارٹی  کے شریک چیئرمین  سابق صدر آ صف علی  زرداری نے  کہا ہے کہ ہم صرف حکومت گرانے کیلئے نہیں ملک بچانے جمہوریت بحالکرنے اائے ہیں،  ہم نے کوشش کی دو سال میں جمہوریت بچے، ناسمجھ سیاسی بونے سمجھتے ہیں وہ زیادہ ہوشیار ہیں،میں سمجھتا ہوں اس تقریر کے بعد جیل جانے والا پہلا بندہ میں ہی ہوں گا۔ اتوار کو پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والی اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں   سابق صدر آصف زرداری نے خطاب کرتے ہوئے سارے شرکا کو خوش آمدید کہا اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے لیے دعا کرنے کے ساتھ کہا کہ میرے خیال میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا جب سے ہم سیاست میں ہیں میڈیا پر اس طرح کی پابندیاں نہیں دیکھیں، چاہے کتنی ہی پابندیاں لگائی جائیں، لوگ ہمیں سن رہے ہیں، حکومت اے پی سی کے خلاف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے یہی ہماری کامیابی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور پھر ہم آہنگی کے ذریعے مشرف کو بھیجا، 18 ویں ترمیم کے گرد ایک دیوار ہے جس سے کوئی بھی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ آصف زرداری نے کہا کہ ہم صرف اس حکومت کو نکالنے نہیں آئے بلکہ اس حکومت کو نکال کر اور جمہوریت بحال کر کے رہیں گے، ہم نے پاکستان بچانا ہے اور ہم ضرور جیتیں گے۔ انہوں نے کہا  کہ ہم نے دیکھا مریم بی بی نے کیا تکلیفیں برداشت کیں، بی بی کوسلام کرتا ہوں، ہم آپکے ساتھ ہیں۔ آج مریم بی بی بھی یہاں موجود ہیں، انہیں خوش آمدید کہتا ہوں  آج کی یہ کانفرنس یہ طے کر کے اٹھے کہ ملک میں جمہوریت کیسے بحال ہوگی۔سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف  نے کہاکہ جوبھی انتخابات میں دھاندلی کے ذمہ دار ہیں ان سب کو حساب دینا ہوگا، ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے،  جنہوں نے اس طرح الیکشن چوری کرکے  نااہل بندے کو اس جگہ لا کر بٹھایا ہے،،عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنے اور متوازی حکومت کا مرض ہی ہماری مشکلات اور مسائل کی اصل جڑ ہے،ہمارے دفاع کی مضبوطی اور قومی سلامتی کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج آئین پاکستان‘ اپنے دستوری حلف اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق خود کو سیاست سے دور رکھیں اور عوام کے حق حکمرانی میں مداخلت نہ کریں، خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار عوامی نمائندوں کے پاس ہونا چاہئے، بھارت  نے ایک غیر نمائندہ اور  غیر مقبول   اور کٹھ پتلی پاکستانی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا اور ہم احتجاج بھی نہ کرسکے،شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت  وہ بیانات دیئے جن  سے ہمارے بہترین  دوست سعودی عرب کی دل شکنی ہوئی، خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے، وقت آگیا ہے تمام سوالوں کے جواب لئے جائیں،  نیب اندھے حکومتی انتقام کا آلہ کار بن چکا ہے، اس ادارے کا چیئرمین جاوید اقبال اپنے عہدے اور اختیارات کا نازیبا اور مذموم استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے،مگر نہ تو کوئی انکوائری ہوئی اور نہ ایکشن لیا جاتا ہے،  بہت جلد ان سب کا یوم حساب آئے گا،یہ ادارہ انتہائی بدبو دار ہوچکا ہے یہ اپنا جواز کھو چکا ہے،اے پی سی جو بھی حکمت عملی ترتیب دے گی (ن) لیگ اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔  ایک سیکنڈ کے لئے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے،۔نواز شریف  نے کہا کہ یہ کانفرنس اہم موقع پر منعقد ہورہی ہے اسے فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں۔   پاکستان  کی خوشحالی اور صحیح معنوں میں ایک جمہوری ریاست بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بے باک فیصلے کریں۔ آج نہیں کریں گے تو کب کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کی سوچ سے متفق ہوں کہ رسمی طریقوں سے ہٹ کر  اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو مایوسی ہوگی۔  پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے پر ہے۔ ووٹ کی عزت کو پامال کردیا جاتا ہے تو سارا جمہوری عمل بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب عوام کے مقدس امانت میں خیانت کی جاتی ہے۔ انتخابات میں دھاندلی سے مطلوبہ نتائج حاصل کرلئے جاتے ہیں۔  کس کس طرح سے عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے عوامی مینڈیٹ کیسے چوری کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان  کواس طرح کے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ہر ڈکٹیٹر نے اوسطاً نو سال غیر آئینی طور پر حکومت کی جب ایک ڈکٹیٹر کو آئین شکنی پر پہلی بار کٹہرے میں لایا گیا تو کیا ہوا۔ اسے  ایک گھنٹے کے لئے بھی جیل میں نہ ڈالا جاسکا۔ آئین پر عمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں میں کھڑے ہیں  صرف ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا اسے آئین اور قانون کے تحت سزا سنائی گئی لیکن کیا ہوا۔ نواز شریف نے کہا کہ عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کس طرح اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں۔ یہاں یا تو مارشل لاء ہوتا ہے یا جمہوری حکومت میں متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے۔ عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنے اور متوازی حکومت کا مرض ہی ہماری مشکلات اور مسائل کی اصل جڑ ہے۔ عالمی برادری میں ہماری ساکھ ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ آج قوم کن حالات سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوامی رائے کے خلاف نااہل حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا۔ انتخابات ہائی جیک کرکے اقتدار کو چند لوگوں کو منتقل کردینا  بہت بڑی بددیانتی اور آئین شکنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا کتنا سنگین جرم ہے کیا کسی نے سوچا ہے۔ 2018 کے انتخابات میں گھنٹوں آر ٹی ایس کیوں بند رکھا گیا پولنگ ایجنٹس کو کیوں باہر نکال دیا گیا دھاندلی کیوں اور کس کے لئے کی گئی۔ سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو بھی جواب دینا ہوگا۔  نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بالکل تباہ ہوچکی  ہے۔ 5.8فیصد شرح ترقی سے آگے بڑھتا ہوا پاکستان آج صفر سے بھی نیچے جاچکا ہے۔ اکتوبر 2016میں قومی سلامتی کے امور پر بحث کے دوران جب توجہ دلائی گئی کہ دوستوں سمیت دنیا بھر کے ممالک کو ہم سے شکایت ہے اور ہمیں اپنا احتساب خود کرتے ہوئے 

ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ دنیا ہماری طرف انگلیاں نہ اٹھائے تو اسے ڈان لیکس بنا دیا گیا۔۔ سی پیک کو ناکام بنانے کا سلسلہ 2014 میں اس وقت شروع ہوا جب دھرنوں  کے ذریعے چین کے صدر کا دورہ ملتوی کرادیا گیا۔ سی پیک کے ساتھ پشاور کی بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا ہے۔ 2018 میں سینٹ انتخابات سے پہلے ایک مذموم سازش کی گئی اس سازش کے ذریعے بلوچستان کی حکومت گرا دی گئی اس کا مقصد کیا تھا  اس کااصل مقصد سینٹ کے انتخابات میں سامنے آیا،اس سازش کے کرداروں میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ جو سدرن کمانڈ کے کمانڈر تھے  ان کا نام بھی آتا ہے،یہ وہی  عاصم سلیم باجوہ  ہیں  جن کے خاندان کی بے پناہ دولت اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اثاثوں کی تفصیلات پوری قوم کے سامنے آچکی ہیں۔ ان حقائق کو نہ صرف چھپایا گیا بلکہ مبینہ طور پر ایس ای سی پی کے سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل بھی کی گئی۔ پندرہ بیس سال کے عرصے میں اربوں روپے کے اثاثے کہاں سے بن گئے۔ یہ پوچھنے کی کسی کی مجال نہیں،میڈیا پر خاموشی چھا گئی نہ نیب حرکت میں آئی نہ کسی عدالت نے نوٹس لیا نہ کوئی جے آئی ٹی بنی اور نہ کوئی ریفرنس دائر ہوا۔ نہ کوئی مانیٹرنگ جج بیٹھا نہ کوئی پیشی ہوئی نہ ہوئی  نہ کوئی سزا۔ انصاف کا نعرہ لگانے اور این آر او نہ دینے کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے عمران خان نے بھی اثاثوں کے ذرائع پوچھنے کی جرات نہ کی  بلکہ ایک پل میں انہیں ایمانداری کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا۔ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے،  موجودہ حکومت کی جانب سے قرضے لینے کے باوجود مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی، ڈالر کی قدر میں اضافہ ہورہا ہے،جبکہ کووڈ 19 آنے سے پہلے پاکستانی معیشت تباہ ہوگئی تھی، شوگر اسکینڈل میں نیب اور ایف آئی اے کہیں نظر آرہی کیونکہ دونوں ادارے صرف اپوزیشن کے خلاف فعال ہیں۔شہباز شریف نے کہا   عمران خان نے کہا تھا کہ مرجائیں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں مختلف ادوار میں حادثے ہوئے اور منتخب حکومت کو ڈی ریل کیا گیا، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے،شہباز شریف نے کہا کہ الیکشن کے بعد پارلیمنٹ میں وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں دھندلی کے بے نقاب کرنے کے لیے ہاؤس کی کمیٹی بنائی گئی لیکن آج تک اس کمیٹی نے ایک انچ بھی کام نہیں کیا،شہباز شریف نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی لیکن وزیراعظم عمران خان کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ  ہمیں نئے میثاق جمہوریت کو اپنا منشور بنا کر  نکلنا ہو گا ،اس ملک میں اگر جمہوریت نہیں ہو گی تو عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے گا،ہمیں مطالبہ کرنا ہو گا کہ انتخابات میں ایک جیسے مواقع دینا ہوں گے،ہمیں اپنے ایوانوں کو آزاد کروانا پڑے گا اور اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر ہم اپنی عوام کو کیسے یقین دلائیں گے کہ ہم انہیں اس مصیبت سے نجات دلائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب جمہوریت نہیں ہوتی تو معاشرے کو ہر طرف سے کمزور کیا جاتا ہے،دو سال میں ہمارے معاشرے اور معیشت کو بہت نقصان پہنچا اور جرائم میں اضافہ ہوا، پاکستان کے عوام معاشی مشکلات کا شکار ہیں  اور آج عوام ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ اس ملک میں اگر جمہوریت نہیں ہو گی تو عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے گا،بلاول بھٹو نے کہا کہ اے پی سی سے عوام بیانات اور قرارداد نہیں بلکہ ٹھوس لائحہ عمل چاہتے  ہیں،بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب ملک میں لوگوں کو احتجاج کرنے، میڈیا پر اپنا بیانیہ پیش کرنے اور متنخب نمائندوں کو اسمبلی میں کچھ بولنے کی اجازت نہ ہو تو وہ معاشرہ کیسے ترقی کرسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ بارشوں کے دوران عوام کو لاوارث چھوڑا گیا جبکہ ماضی میں قوم کو اس طرح کی آفات میں لاوارث نہیں چھوڑا گیا۔ ہم چاہتے ہیں ایک نیا میثاق جمہوریت ہو اور اس کو اپنا منشور بنا کر نکلنا ہو گا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمیں مطالبہ کرنا ہو گا کہ انتخابات میں ایک جیسے مواقع دینا ہوں گے، ہمیں اپنے ایوانوں کو آزاد کروانا پڑے گا اور اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر ہم اپنی عوام کو کیسے یقین دلائیں گے کہ ہم انہیں اس مصیبت سے نجات دلائیں گے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس سے اپنے خطاب میں اسمبلیوں سے استعفے اور سندھ اسمبلی کو فوری طور پر تحلیل کرنے کی تجویز دیدی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہوں گے۔ وزیراعظم سمیت اسمبلیاں اور میرے نزدیک سینیٹ چیئرمین بھی جعلی ہے۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہمیں اب زیانی نہیں بلکہ تحریری بات کرنی ہوگی۔ میڈیا کو اتنا قید کر دیا گیا ہے کہ وہ ہماری لاکھوں کے اجتماعات اور ہماری تقاریر نہیں دکھا رہے، ان کو روکا جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج ہی فیصلہ کریں کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اب میں زبانی دعوؤں پر یقین نہیں رکھتا۔ اب آپ بہت کہیں گے کہ ہم لڑیں گے لیکن آپ لوگ بہت پیچھے ہٹ چکے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر و سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) سے خطاب میں کہا ہے کہ نوازشریف نے پاکستان کی اصل بیماری بتائی اور اس کا علاج بھی تجویز کیا۔پیپلزپارٹی کی میزبانی میں ہونے والی اے پی سی میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور مریم نواز سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ لیگی قائد نواز شریف نے اے پی سی سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا جبکہ مریم نواز نے بھی آل پارٹیز سے خطاب میں کہا کہ نوازشریف نے تقریر میں پاکستان کی بیماری کا بتایا بلکہ علاج بھی تجویزکیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل نوازشریف کی تقریر تین مرتبہ سنے اور ملکی مسائل اور ان کا علاج سمجھے، نوازشریف کی آواز ہرپاکستانی اور ہر جمہوریت پسندکی آواز ہے۔مریم نواز نے کہاکہ بلاول اور میں نئی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے ایسا پاکستان چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے، وہ سب ادارے قابل احترام ہیں جو آئین کی حدود میں رہیں تاہم سب سے قابل احترام ادارہ پارلیمنٹ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری بہن کی جیسے بیحرمتی کی گئی، اس کی مثال نہیں ملتی لیکن بدنام زمانہ پولیس آفیسرکا دفاع قومی سانحہ ہے۔

اے پی سی خطاب

مزید :

صفحہ اول -