صوبہ سند ھ میں ڈیڑح لاکھ ایکڑ ز جنگلات کی زمین خالی کرادی گئی: ناصر شاہ 

    صوبہ سند ھ میں ڈیڑح لاکھ ایکڑ ز جنگلات کی زمین خالی کرادی گئی: ناصر شاہ 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سند ھ کو سرسبز بنانے کیلئے 350کلومیٹر تک سڑکوں، میدانوں اور زمینوں پر شجرکاری کی جا چکی ہے اور محکمہ جنگلات کی زمین ایک 39ہزار ایکڑ کو قبضہ گروپ سے چھڑوایا گیا اور 40ہزار ایکڑ زمین کو سرسبز بنایا گیا ہے  اور کراچی میں لیاری ایکسپریسوے، ملیر، جامعہ کراچی، جامعہ سندھ جامشورو میں برے پیمانے پر شجرکاری کی جا رہی ہے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات وجنگلات سید ناصر حسین شاہ نے نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے تحت منعقدہ 17ویں سالانہ انوائرنمنٹ ایکسی لینس ایوارڈ اور کانفرنس 2020سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکریڑی جنگلات و جنگلی حیات سندھ عبدالرحیم سومرو، نیشنل فور فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے صدر محمد نعیم قریشی، معروف صنعتکار میاں زاہد حسین، این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکڑ سروش لودھی، سابق سیکریڑی ماحولیات شمس الحق میمن، سیکریڑی نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ رقیہ نعیم، نائب صدر انجنئر ندیم اشرف، سی ایس آر کلب آف پاکستان انیس یونس، سی ای او میڈیا بیٹھک ناجیہ اشعر ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہروں کے ماحول کو بہتر کرنے کیلئے شہری جنگل لگانے کے منصوبے کو مکمل شفافیت کیساتھ مکمل کیا جائے گا تاکہ شہر سر سبز نظر آئے اور اس میں شفافیت اور نگرانی کے عمل کو مذید فعال کیا جائے گا تاکہ تمام لوگوں کو شہری جنگل نظر آئیں شہری جنگل لگانے کا منصوبہ سرسبز سندھ اور کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یو این کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس 2019میں سندھ کی جانب سے میگرو فارسٹ لگانے کی مہم کو سراہا گیا اور عالمی سطح پر اسکی پذیرائی ہونا پورے ملک کیلئے فخر کا باعث ہے۔انہوں نے شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کیلئے ترکی کی جانب سے ٹرام سروس کی بحالی کی پیش کش کو سراہا اور کہا کہ سندھ حکومت اس سلسلے میں بھر پور معاونت کرنے کیلئے تیار ہے۔اس موقع پر سیکریڑی جنگلات و جنگلی حیات عبدالرحیم سومرو نے کہا کہ لیاری ایکسپریسوے سے لے کر ماڑی پور بریج تک شجرکاری کی گئی اور یہ پہلا آزمائشی شہری جنگل تھا جو کہ بھرپور کامیاب ہوگیا اور اب سر سبز ہو چکا ہے۔انہوں نے کہ اب جامعہ کراچی، شاہ فیصل کالونی، ٹھڈو دیم گڈاپ اور جامعہ سندھ میں بھی شہری جنگل اگائے جا رہے ہیں۔جامعہ این ای ڈی کی وی سی ڈاکڑ سروش لودھی نے کہا کہ جامعہ کو کاربن نیوٹرل بنانے کیلئے تجویز پر کام کیا جا رہا ہے جس کے تحت جامعہ میں شجر کاری کی جائے اور گاڑیوں کے استعمال کو ترک کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہر جمعہ کو جامعہ میں گاڑیوں کے استعمال پر پابندی ہے اور تمام لوگوں کو سائیکل کے استعمال کی تاکید کی جاتی ہے۔صنعتکار میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملک میں 3فیصد حصہ جنگلات پر محیط ہے جو کہ نہ ہونے کہ برابر ہے اور ہمیں مل کر اس کا رقبہ بڑھانے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔این ایف ای ایچ کے صدر محمد نعیم قریشی نے کہا کہ ہم نے کارپوریٹ، سرکاری اداروں، این جی اوز، کمیونٹی گروپ و دیگر کیساتھ ملک کر 2014سے اب تک شہر میں 360000درخت لگائے ہیں اور اس سلسلے کو اسی طرح جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر سیکریڑی این ایف ای ایچ رقیہ نعیم نے مرحوم ڈاکڑ سمیع الزمان صدیقی کو خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر 60سے زائد اداروں کو ایوارڈدیئے گئے اور 4شجرکاری ایوارڈ سندھ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ، پی آئی اے، آرکروما پاکستان اور شوکت عمری کو دئے گئے۔

مزید :

صفحہ اول -