ٹیکس چور وزیر ہو یا عام شہری ملک و قوم کا دشمن ہے، ذکر اللہ مجاہد

  ٹیکس چور وزیر ہو یا عام شہری ملک و قوم کا دشمن ہے، ذکر اللہ مجاہد

  

لاہور(پ ر)امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ٹیکس چور وزیر ہو یا عام شہری ملک و قوم کا دشمن ہے۔غریب عام روٹی سے لیکر دوائی پر ٹیکس دیتا ہے اور حکومتی وفاقی وزراء اربوں کے اثاثوں کے رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کررہے جو وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے نعروں اور دعووں کے برعکس قوم کو بیوقوف بنانے کا تبدیلی ڈرامہ ہے جس سے پوری قوم مایوس ہوچکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جوہر ٹاون یونین کونسل 115 میں  ''پائے ناشتہ'' تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے انتخابی منشورکے مشہور نعرے کہ احتساب اور ٹیکس چوری کرنے والوں کے نہیں چھوڑیں گے۔

  اور وزیر اعظیم پاکستان عمران خان صاحب ٹیکس چوروں کو ملک و قوم کے دشمن قرار دیتے رہے ہیں لیکن اب وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت وفاقی وزراء ٹیکس چوری میں ملوث نکلے ہیں اِن کا احتساب کیسے اور کون کرے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں ٹیکس اصلاحات کے ناقص نظام نے امیروں اور وڈیروں کو ریلیف دے رکھا اور غربیوں سے بجلی، پانی اور دیگر بہانوں سے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے جو جائیداد اور لمبے چوڑے اثاثہ جات سے بھی محروم ہیں۔میاں ذکر اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ملک میں اس وقت تک حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی جب تک امیر اور غریب کیلئے ایک قانون نہیں رائج ہوگا۔ ہمارے ہاں ہاتھی کے دانت دیکھانے کے کچھ اور ہیں اور کھانے کے کچھ اور ہیں۔انہوں نے کہاکہ کرپشن اور بدعنوانی تحریک انصاف کے دورہ حکومت میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے جسکی وجہ سے آج غریب بیچارہ روٹی کو ترس رہا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں غربت کی بنیادی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے جس کے سبب امیر، امیر ترین اور غریب غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی ظلم اور بربریت کے اس نظام کے خلاف جہاں غریب روٹی کیلئے ترسے اور ہسپتالوں میں علاج معالجہ کیلئے در در کی ٹھوکریں کھائے،  ٹیکس دے اور امیر ٹیکس نہ دے۔ غریب کو روٹی چوری کرنے پر جیل جانا پڑے اور وزیروں کو قومی خزانہ خالی کرنے پر ایوانوں میں بیٹھایا جائے۔ جماعت اسلامی اس استحصالی نظام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ عوام اب جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کا ساتھ دے، تبدیلی چہروں اور پارٹیاں تبدیل کرنے سے نہیں نظام اور قیادت تبدیل کرنے سے آئے گی۔ 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -