ڈیرہ،ٹاؤٹوں کاتھانوں میں داخلہ بند، کارروائی کاحکم

  ڈیرہ،ٹاؤٹوں کاتھانوں میں داخلہ بند، کارروائی کاحکم

  

ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ بیورورپورٹ)آر پی او فیصل رانا نے ”وائٹ کالر“ قانون شکنوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا،ریجن کے چاروں اضلاع کے تھانوں میں پولیس کے ”ٹاؤٹ“ کی بدنامی رکھنے والے افراد کو تھانوں میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا،کار سرکار میں پرائیویٹ افراد کی مداخلت سنگین محکمانہ غلطی ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے(بقیہ نمبر23صفحہ 6پر)

 گا،”وائٹ کالر کریمنلز“ اکثر اوقات قانون شکنی کی سنگین وارداتوں کے سہولت کار بنے ہوتے ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہے،ان خیالات کا اظہار ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے اتوار کے روز چھٹی کے باوجود24/7پولیسنگ کے تسلسل میں ریجن کے چاروں اضلاع ڈی جی خان،مظفر گڑھ،لیہ اور راجن پور کے پولیس افسران کو مختلف ہدایات دیتے ہوئے کیا،آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ معاشرے میں اعلانیہ قانون شکنی کرنے والے ملزمان سے قانون پسند عوام اعلانیہ نفرت کرتے ہیں،ایسے قانون شکنوں کی گرفتاری کے لئے قانون پسند عوام پولیس کے پشتی بان بن جاتے ہیں لیکن معاشرے میں خود کو بظاہر ”معزز“ رکھ کر چھپ چھپا کر بالواسطہ قانون شکنی کرتے ہیں یا قانون شکنوں کے پشت پناہ بن جاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایسے قانون شکنوں کو عرف عام میں ”وائٹ کالر کریمنل“ کہا جاتا ہے،ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے،ایسے عناصر کسی نہ کسی قانون شکنی میں اگر براہ راست ملوث نہیں بھی ہوتے تو براہ راست قانون شکنی کرنے والوں کے سہولت کار ضرور ہوتے ہیں اور قانون شکنوں کا سہولت کار بھی قانون کی نظر میں قانون شکن ہی ہوتا ہے،فیصل رانا نے کہا کہ پولیس تھانوں میں ”ٹاؤٹس“ کی آمد و رفت اور کار سرکار میں مفاداتی مداخلت کی شکایات معاشرے میں عام ہوتی ہیں،ان شکایات کے پیش نظر ریجن کے چاروں اضلاع کے تمام تھانوں میں پولیس”ٹاؤٹ“ کی بدنامی رکھنے والے تمام افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے،تھانوں کے ایس ایچ اوز ایسی بدنامی رکھنے والی افراد کی لسٹیں تھانوں کے باہر آویزاں کروائیں،انہوں نے کہا کہ تھانوں میں ایسے عناصر کے داخلے اور مداخلت کو مانیٹر کرنے کے لئے بھی ایک مانیٹرنگ کا جدید نظام بنا دیا گیا ہے جس کے تحت ایسے عناصر کے تھانوں میں داخلے اور مداخلت کا فوری علم ہو جائے گا،ایسے پولیس افسران جو ٹاؤٹس کے ذریعے اپنے ”معاملات“ چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت محکمانہ احتساب ہو گا۔ ریجنل پولیس آفیسر محمد فیصل رانا نے ریجن کے چاروں اضلاع ڈیرہ غازی خان،مظفرگڑھ،لیہ اور راجن پورمیں 24/7پولیسنگ کی جو عملی پالیسی متعارف کروائی اس کے تسلسل کے لئے انہوں نے اتوار کو چھٹی کے روز بھی پولیسنگ جاری رکھی۔انہوں نے ریجن کے چاروں اضلاع کے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ منشیات فروشی کے خلاف منظم اور نتیجہ خیز آپریشن شروع کیا جائے،انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف یہ آپریشن زبانی جمع خرچ نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی طور پر زمینی حقائق کے عین مطابق نتیجہ خیز آپریشن ہو،فیصل رانا نے کہا کہ منشیات استعمال کرنے والوں کو جب استعمال کے لئے منشیات دستیاب نہیں ہو گی تو وہ کیسے منشیات نوشی کریں گے،آر پی اونے کہاکہ ڈی جی خان ڈویژن کی سرحدیں صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا ہ سے ملتی ہیں،ہمیں منشیات کی بین الصوبائی سمگلنگ کو روکنا ہے جس کے لئے پولیس کو اطلاعات اور معلومات کا منظم سسٹم ترتیب و تشکیل دینا ہو گا جس کے لئے قانون نافز کرنے والے دیگر اداروں سے مدد لی جا سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈی جی خان ڈویژن میں چیلنج سمجھ کر منشیات کے انتہائی اخلاق باختہ اور بدترین قانون شکنی کے دھندے کو روکنا ہے،فیصل رانا نے کہاکہ منشیات فروشی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں پولیس ان سہولت کاروں کاپتہ لگا کر انہیں بھی قانون کی گرفت میں لائے جو پردہ سکرین سے غائب رہ کر اس مکروہ دھندے کی سرپرستی کرتے ہیں،آر پی او نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے اردگرد منشیات فروشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اس زہر سے بچانا ہے تعلیمی اداروں کے اردگرد منشیات فروشی کرنے والے سماج دشمن عناصر کو گرفتار کرنے کے لئے ڈی پی اوز ایسے پولیس افسران پر مشتمل اسکواڈ تشکیل دیں جو ٹارگٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں آر پی او نے کہا کہ میں روزانہ کہ بنیاد پر منشیات فروشی کے خلاف جاری آپریشن کی پراگریس لوں گا۔

قانون شکنوں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -