قیام امن کیلئے اہل سنت واہل تشیع پر مشتمل قومی گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ 

  قیام امن کیلئے اہل سنت واہل تشیع پر مشتمل قومی گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا ...

  

 کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ میں امن و امان کے دیرپا قیام کے لیے آل پارٹیز کانفرنس میں اہل سنت و اہل تشیع پر مشتمل قومی گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ‘ جمعیت علماء اسلام (ف) کوھاٹ کے صوبائی رہنما اور سابق ضلع ناظم کوھاٹ گوہر سیف اللہ خان کی دعوت پر ضلع میں امن و امان کی دیرپا اور مستحکم قیام کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں جملہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ اہل تشیع اور اہل سنت کے اکابرین نے کثیر تعداد میں شرکت کی کانفرنس کی صدار امیر جے یو آئی مولانا عبدالرحیم نے کی کانفرنس کے ایجنڈا پر بات کرتے ہوئے میزبان گوہر سیف اللہ خن بنگش نے کہا کہ ہمارا مقصد موجودہ صورت حال میں سیاست سے بالاتر ہو کر کوھاٹ میں امن کے قیام کے لیے افہام و تفہیم سے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا ہے کیوں کہ گزشتہ دنوں پے در پے چند تاجران کے بہیمانہ قتل‘ احتجاج کے دوران توہین صحابہ اور مسجد پر ہونے والی فائرنگ نے اس شہر کا امن تہہ و بالا کر رکھا ہے جبکہ اصل ملزمان تک پولیس انتظامیہ تاحال نہیں پہنچ سکی اہل تشیع اور اہل سنت کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ مجرموں کو گرفتار کر کے کیفرکردار تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ کمشنر ہاؤس میں اس حوالے سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے احتجاج اور ریلیاں ملتوی کرنے پر اتفاق کیا گیا لہٰذا آج کی یہ کانفرنس اسی حوالے سے ہے انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتوں کے آلہ کار بننے کے بجائے اپنے ضلع کے امن کے لیے باہمی اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے اور اگر یہ حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے تو موجودہ خاموش اور امریکہ اسرائیل کی غلام حکومت اس پر کبھی قابو نہ پا سکے گی کیوں کہ صحابہ کی شان میں گستاخی ہو یا ختم نبوت کا معاملہ حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے حالانہ اس کے پاس قانون موجود ہے ائے این پی کوھاٹ کے صدر جاوید خٹک نے کہا کہ امن کو سبوتاژ کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور موجودہ حکومت ہے چرس کی خفیہ اطلاع پر تو پولیس کارروائی کرتی ہے قتل کے ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکتی اہل کوھاٹ کی ایسے معاملات پر خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے سید ابن علی نے کہا کہ کوھاٹ میں شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں انہیں مذہبی لحاظ سے تقسیم کرنے کے لیے بیرونی طاقتیں مصروف عمل ہیں ہم ایک کلمہ گو مسلمان ہیں ہمارے مابین کوئی اختلافات نہیں پیر شاہ نواز نے کہا کہ شیعہ سنی میں اختلافات ضرور ہیں مگر اس پر دست و گریبان ہونا درست نہیں شر میں کوئی خیر نہیں اسلام پاکستان اور کوھاٹ کا امن ہماری ترجیح ہے حکومت کے اس حوالے سے قانون پر عمل درآمد کمزوری کا شکار ہے حیدر وکیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کی یہ کمزوری ہے کہ ختم نبوت کے منکرین کو اب تک سزائیں نہیں ملیں گستاخ رسول اور صحابہ کی توہین کرنے والوں کے لیے سزائے موت مقرر کی جائے تحفظ اسلام بل کے ساتھ تحفظ صحابہ بل بھی بنایا جائے سید مہتاب الحسن نے کہا کہ کسی کے عقیدے کو چھیڑنا جاہلانہ فعل ہے ہم اس کے خلاف ہیں کوھاٹ کا امن خراب کرنے والے نہ اہل شیعہ کے دوست ہیں نہ اہل سنت کے‘ انہیں بے نقاب کیا جائے‘ کانفرنس سے چیف جسٹس (ر) سید ابن علی‘ اے این پی کے صدر جاوید خٹک‘ سید ہاشم رضا‘ پی پی پی کے ڈویژنل صدر نادر خان خٹک ایڈووکیٹ‘ پیر عادل شاہ‘ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر محمد عابد خان‘ مسلم لیگ ن کے سابق تحصیل ناظم ملک تیمور خان‘ سید مہتاب الحسن‘ ایم پی اے شاہ داد خان‘ مسلم لیگ ن کے شیر احمد خان بنگش‘ امیر خان آفریدی‘ امان خان ایڈووکیٹ‘ تحریک تحفظ حقوق کوھاٹ کے سرپرست حیدر وکیل آفریدی اور امیر جے یو آئی مولانا عبدالرحیم نے خطاب کرتے ہوئے اس حوالے سے گرینڈ قومی جرگہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے قانون پر عمل درآمد‘ مذکورہ واقعات کے ملزمان کی تین دن میں گرفتاری‘ احتجاج کے لیے بازاروں کے بجائے مین روڈ مقرر کرنے‘ تحفظ اسلام بل سمیت تحفظ صحابہ گل منظور کرانے‘ کالج یونیورسٹیوں میں آن لائن رجسٹریشن فوری شروع کرنے‘ کوھاٹ میں پولیس کی نفری بڑھانے سمیت متعدد مطالبات کو عملی جامہ پہنانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -