طلباء فیسوں کے مطالبے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

 طلباء فیسوں کے مطالبے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)قدرتی آفت کورونا لاک ڈاؤن کے دوران جب سکول بند اور تمام پاکستانی بے روزگار تھے تو پرائیویٹ سکولز انتظامیہ کہ جانب سے کس قانون کے تحت فیسوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے ہم فیس ادا نہیں کرینگے چاہے ہمیں سکول دوبارہ بند کیوں نہ کرانا پڑیں طلباء فیسوں کے مطالبے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تفصیلات کے مطابق آج بروز اتوار ٹانک میں مختلف پرائیویٹ سکولوں کے طلباء نے سکول انتظامیہ کی جانب سے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران سکولوں کی بندش اور پڑھائی کا سلسلہ معطل رہنے کے باوجود فیسوں کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے آج سڑکوں پر نکل آئے ہیں طلباء نے شہر کے مختلف بازاروں میں احتجاج کیا اور بعد ازاں کشمیر چوک پر احتجاجی مظاہرہ کرنے بعد ڈپٹی کمشنر کبیر آفریدی کے دفتر کے سامنے دھرنا دیدیا اس موقع پر طلباء سے سینئر قانون دان جنوبی وزیرستان بار کونسل کے ممبر شیر پاؤمحسود ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا اور طلباء کے مطالبے کو جائز اور قابل غور قرار دیا انہوں نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ پر امن رہیں ان کے مطالبات کو اعلی حکام تک ضرور پہنچایا جائے گا اس موقع پر طلباء کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سکولز ماہانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں لیکن عوامی مفاد میں پوری زندگی کے دوران صرف چند ماہ کی فیسیں معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران نہ صرف سکول بند تھے بلکہ پورا نظام زندگی اور کاروبار مفلوج تھا اگر پرائیویٹ سکولوں کو آمدنی نہیں ہوئی تو ہمارے والدین کے پاس فیسیں ادا کرنے کیلئے پیسے کہاں سے آئے ہم نے بار بار سکول انتظامیہ سے فیس معافی کا مطالبہ کیا ہے لیکن سکولز انتظامیہ کی جانب سے فیسوں کی ادائیگی کیلئے طلباء کو ٹارچر کیا جارہا ہے ہم کسی بھی صورت فیسیں ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں اگر ہمارے مطالبے کو نہ مانا گیا بدھ کے روز سے تمام پرائیویٹ سکول احتجاجا بند کر دینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -