قائمہ کمیٹی نے پی سی بی کے ’بڑوں‘ کو طلب کر لیا مگر کیوں؟

قائمہ کمیٹی نے پی سی بی کے ’بڑوں‘ کو طلب کر لیا مگر کیوں؟
قائمہ کمیٹی نے پی سی بی کے ’بڑوں‘ کو طلب کر لیا مگر کیوں؟
کیپشن:    سورس:   Creative commons licenses

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان اور ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و استحقاق نے طلب کر لیا ہے جو بدھ کو اجلاس میں پیش ہو کر چوہدری محمد حامد حمید کی طرف سے ملازمین کی بھاری تنخواہوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق ملکی کرکٹ کے فیصلہ سازوں نے نتھیا گلی کے پرفضاءمقام پر اگلے تین سالہ پلان پرتفصیلی مشاورت مکمل کر لی،احسان مانی کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں تمام شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی تھی جس دوران 2سالہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی سی بی ترجمان کے مطابق یہ ایک معمول کا اجلاس تھا جس میں سب نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر نقطہ نظر بیان کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں زمبابوے سے سیریز کی تیاریوں کو حتمی شکل دیدی گئی، اگلے ماہ مہمان ٹیم کی آمد کے پیش نظر مجوزہ شیڈول اور سیکیورٹی انتظامات سمیت تمام معاملات پر حکومتی عہدیداروں کو اعتماد میں لینے کے بعد سیریز کے پروگرام کا باقاعدہ اعلان چند روز میں کیا جائے گا۔ اجلاس میں شرکا کو بتایا گیا کہ پی ٹی وی سپورٹس سے تین سالہ معاہدے کے بعد تمام شعبوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوجائے گا، اس حوالے سے مجوزہ پلاننگ پر بھی بریفنگ دی گئی،ملکی اور انٹرنیشنل سیریز کی براہ راست کوریج کے لیے بورڈ خود پروڈکشن کرے گا۔

فارغ اوقات میں مختلف پروگرام تیار کرکے چلائے جائیں گے، اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹس اور دیگر امور پر غور کرنے کے ساتھ بعض اہم سفارشات پر اتفاق کرنے کے بعد گورننگ بورڈ کے شرکاءکو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیاگیا اور کوڈ آف ایتھکس لاگو کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

مزید :

کھیل -