پٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت،خانیوال میں سرکاری اراضی پر پٹرول پمپ چلانے کی درخواست مسترد ، وہاڑی میں قائم پٹرول پمپ کی دوبارہ نیلامی کا حکم 

پٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت،خانیوال میں سرکاری ...
پٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت،خانیوال میں سرکاری اراضی پر پٹرول پمپ چلانے کی درخواست مسترد ، وہاڑی میں قائم پٹرول پمپ کی دوبارہ نیلامی کا حکم 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سرکاری زمین پر پٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق ازخودنوٹس کیس میں خانیوال میں سرکاری اراضی پر پٹرول پمپ چلانے کی درخواست مسترد کردی اوروہاڑی میں سرکاری اراضی پر قائم پٹرول پمپ کی دوبارہ نیلامی کاحکم دیتے ہوئے کہاکہ اگر پٹرول پمپ بنانے کی اجازت نہ ہو تو زمین واگزار کرائی جائے ۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق سپریم کورٹ میں سرکاری زمین پر پٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت ہوئی ، جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ پٹرول پمپ لیز میں 25 سال کا ذکر ہی نہیں ، چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ زمین 700 روپے فی مرحلہ کے حساب سے لیز پر دی گئی ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ پٹرول پمپ مالکان ڈیفالٹر بھی ہیں ۔سپریم کورٹ نے خانیوال میں سرکاری اراضی پر پٹرول پمپ چلانے کی درخواست مستردکردی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ آپ سالانہ کرایہ صرف3 لاکھ 33 ہزار روپے دے رہے ہیں ، چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ زمین خالی کرانے کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہاکہ عدالتی حکم کی آڑ میں پنجاب حکومت مرضی کا شکار کررہی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمارا حکم سب کیلئے ہے، کسی کو مرضی کے شکار کی اجازت نہیں دی ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پٹرول پمپ نہ گرایا جائے، 7 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا، سپریم کورٹ نے وہاڑی میں سرکاری اراضی پر قائم پٹرول پمپ کی دوبارہ نیلامی کاحکم دیدیا، عدالت نے کہاکہ اگر پٹرول پمپ بنانے کی اجازت نہ ہو تو زمین واگزار کرائی جائے ،سرکاری زمین پر پٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق سماعت 3 ہفتے کیلئے متعلق کردی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -