مفادات کا ٹکراؤ ہر جگہ نظر آ رہا ہے ، اسلام آباد میں اسکی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے،اسلام آبادہائیکورٹ کے شہر میں جرائم کے بڑھتے کیسز سے متعلق کیس میں ریمارکس

مفادات کا ٹکراؤ ہر جگہ نظر آ رہا ہے ، اسلام آباد میں اسکی ذمہ دار وفاقی حکومت ...
مفادات کا ٹکراؤ ہر جگہ نظر آ رہا ہے ، اسلام آباد میں اسکی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے،اسلام آبادہائیکورٹ کے شہر میں جرائم کے بڑھتے کیسز سے متعلق کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)گمشدگیوں اور جرائم کے بڑھتے کیسز سے متعلق کیس میںاسلام آبادہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے مفادات کا ٹکراؤ ہر جگہ نظر آ رہا ہے اور اسلام آباد میں اسکی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے،اسلام آباد کو ماڈل شہر ہونا چاہیے لیکن یہاں پراسیکیوشن برانچ تک نہیں،ڈسٹرکٹ کورٹ جا کر حال دیکھیں عدالتیں غیرانسانی حالت میں چل رہی ہیں،ڈسٹرکٹ کورٹ میں عام آدمی جاتا ہے اور اسکی حالت ابتر ہے، اسلام آباد میں صرف ایلیٹ کی خدمت کی جا رہی ہے اور یہ ریاست کی ترجیحات بتاتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں گمشدگیوں اور جرائم کے بڑھتے کیسز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،مشیر داخلہ شہزاداکبر ،چیف کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہزاداکبر سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو عدالت نے کیوں طلب کیا ہے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سارا نظام کرپٹ ہو چکا ہے اور یہ ایک دن میں نہیں ہوا،عدالت کے سامنے آیا ہے کہ ریاست کی رٹ کہیں نہیں،پولیس کے تفتیشی افسران تربیت یافتہ نہیں،تفتیشی افسران کاتربیت یافتہ نہ ہونا شہریوں کے بنیادی حقوق پر اثرانداز ہوتا ہے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ مفادات کا ٹکراؤ ہر جگہ نظر آ رہا ہے اور اسلام آباد میں اسکی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے،اسلام آباد کو ماڈل شہر ہونا چاہیے لیکن یہاں پراسیکیوشن برانچ تک نہیں،ڈسٹرکٹ کورٹ جا کر حال دیکھیں عدالتیں غیرانسانی حالت میں چل رہی ہیں،ڈسٹرکٹ کورٹ میں عام آدمی جاتا ہے اور اسکی حالت ابتر ہے، اسلام آباد میں صرف ایلیٹ کی خدمت کی جا رہی ہے اور یہ ریاست کی ترجیحات بتاتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اپنی مہارت سے ان چیزوں کو حل نکالیں،تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں ،حکومت کی پولیٹیکل ول ہی ان معاملات میں بہتری لا سکتی ہے ، شہزادا اکبر نے کہاکہ گمشدگیوں کے کیسز میں پیش ہوتا رہا ہوں اور یہ کیس میرے قریب ہے ، وزیراعظم کی جانب سے اس معاملے پر کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ایک تفتیشی کو تفتیش کیلئے 300 روپے ملیں گے تو وہ باقی کہاں سے لائے گا؟یہ کرپشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ، مفادات کا ٹکراﺅ سنجیدہ معاملہ ہے ،وزارت داخلہ خود رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہے ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹس دکانوں میں لگی ہیں ،بار کے نمائندہ آپ کو وہاں لے جائیں گے ، وزیراعظم کو اس بات کا علم ہونا چاہئے عام لوگ کیسے متاثر ہورہے ہیں ،ایلیٹ کلچر اپنے اختتام کو پہنچ چکا،بات ختم ۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے مشیر داخلہ کوکہا کہ تمام صورتحال وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کے بعد تفصیلی رپورٹ پیش کریں ،عدالت نے کیس کی سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -