”وباءکے دنوں میں سفر، 6 دن قرنطینہ اور 5 کورونا ٹیسٹوں سے اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی امپائر کی اس ایک غلطی سے پہنچی“ آئی پی ایل کے دوسرے اور کنگز الیون پنجاب کے پہلے میچ نے ہی پریتی زنٹا کو آگ بگولہ کر دیا 

”وباءکے دنوں میں سفر، 6 دن قرنطینہ اور 5 کورونا ٹیسٹوں سے اتنی تکلیف نہیں ...
”وباءکے دنوں میں سفر، 6 دن قرنطینہ اور 5 کورونا ٹیسٹوں سے اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی امپائر کی اس ایک غلطی سے پہنچی“ آئی پی ایل کے دوسرے اور کنگز الیون پنجاب کے پہلے میچ نے ہی پریتی زنٹا کو آگ بگولہ کر دیا 
کیپشن:    سورس:   InstaGram

  

دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے دوسرے میچ میں دہلی کیپٹلز اور کنگز الیون پنجاب اتوار کے روز مدمقابل ہوئیں جس میں امپائر کی جانب سے کی گئی ایک غلطی سے ناصرف سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ چل نکلا ہے بلکہ کنگز الیون پنجاب کی مالک پریتی زنٹا بھی خوب آگ بگولہ ہوئی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق میچ کے 19 ویں اوور میں کا میانک اگروال نے گیسو ربادا کی گیند کو مڈ آن کی طرف کھیل کر 2 سکور پورے کئے، دوسرے اینڈ سے کرس جارڈن بیٹنگ کر رہے تھے، لیکن امپائر نتن مینن نے اسے شارٹ رن قرار دیا اور دوسرے فیلڈ امپائر سے بات چیت کرکے کہا کہ جارڈن نے اپنا پہلا رن پورا کرتے وقت بلے کو کریز کے اندر نہیں رکھا اس لئے کنگز الیون پنجاب کو صرف ایک رن مل سکا۔ 

اس فیصلے کے بعد جب ٹی وی ری پلے میں سکور لینے کے لمحات کو دیکھا گیا تو سلوموشن میں صاف صاف نظر آیا کہ جارڈن کا رن شارٹ نہیں تھا بلکہ انہوں نے صحیح طریقے سے بلا کریز پر رکھا تھا لیکن ایک سکور کم ملنے کے باعث دونوں کے درمیان میچ برابر ہو گیا جس کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا اور دہلی کیپٹلز نے باآسانی یہ میچ جیت لیا۔ 

آئی پی ایل کے رواں سیزن کے ابتداءمیں ہی ناقص امپائرنگ کے باعث سوشل میڈیا پر نئی بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اس کیساتھ ہی کنگز الیون کی مالک پریتی زنٹا نے بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں پورے جوش کے ساتھ کورونا وباءکے درمیان میچ دیکھنے کیلئے متحدہ عرب امارات گئی، مسکراتے ہوئے 6 دن قرنطینہ اختیار کیا اور 5 بار کورونا ٹسٹ کروایا، لیکن اس ایک رن نے مجھے زبردست جھٹکا دیا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی کا کیا کام، جس کا استعمال نہ کیا جاسکے، یہ ہرسال نہیں ہوسکتا، بی سی سی آئی اسے روکنے کیلئے نئے ضوابط لے کر آئے۔“ 

دوسری جانب کنگز الیون پنجاب کے سابق کوچ وریندر سہواگ نے بھی ناقص امپائرنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس فیصلے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ”میں مین آف دی میچ کے فیصلے سے خوش نہیں ہوں کیونکہ اس ایوارڈ کے اصلی حق دار امپائر ہیں، وہ شارٹ رن نہیں تھا اور اسی فرق سے پنجاب کی ٹیم ہار گئی۔“ 

مزید :

کھیل -