منی لانڈرنگ کے تہلکہ خیز دستاویزات لیک ہوگئے، کن کن بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

منی لانڈرنگ کے تہلکہ خیز دستاویزات لیک ہوگئے، کن کن بینکوں کے ذریعے منی ...
منی لانڈرنگ کے تہلکہ خیز دستاویزات لیک ہوگئے، کن کن بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جرائم پیشہ لوگوں اور دہشت گردوں کے متعلق دنیا یہی جانتی تھی کہ وہ غیرقانونی چینلز کے ذریعے رقوم کی ترسیل کرتے اور فنڈز حاصل کرتے ہیں لیکن اب لیک ہونے والی کچھ دستاویزات سے ایک انتہائی پریشان کن انکشاف سامنے آگیا ہے کہ دنیا کے چند بڑے بینک اس معاملے میں جرائم پیشہ لوگوں کی معاونت کرتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ 2500دستاویزات ہیں جو 2000ءسے 2017ءکے درمیان مختلف بینکوں نے امریکی حکام کو جمع کروائیں۔ یہ دستاویزات بین الاقوامی بینکنگ سسٹمز کی پوشیدہ ترین دستاویزات تھیں۔ ان دستاویزات میں بینک اپنے گاہکوں کی مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق حکومت کو آگاہ کرتے ہیں۔ یہ دستاویزات مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والے امریکی ادارے فن سین(FinCEN)کے پاس تھیں جہاں سے لیک ہوکر وکی لیکس سے بھی بڑا سکینڈل بن کر سامنے آئی ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق یہ دستاویزات Buzzfeedکے ہاتھ لگیں اور اس ادارے نے دنیا بھر کے مختلف میڈیا ہاﺅسز کے صحافیوں کوان تحقیقات میں شامل کر لیا۔ 88ممالک کے 108میڈیا ہاﺅسز کے صحافی ان دستاویزات کے حوالے سے تحقیقات میں شامل ہوئے۔ جن میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ بینک جان بوجھ کر جرائم پیشہ افراد کو بین الاقوامی سطح پر رقوم کی ترسیل کی سہولت دیتے ہیں اور ان میں کچھ انتہائی معروف بین الاقوامی بینک بھی شامل ہیں۔ بینکوں کی طرف سے یہ سہولت کئی ممالک کے ایسے سیاسی و حکومتی لوگوں کو بھی دی جاتی رہی ہے جن پر امریکہ میں پابندیاں عائد تھیں۔ ان لوگوں میں روس کے کاروباری و حکومتی لوگوں کی واضح تعداد شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کیسے دنیا کے بڑے بڑے بینکوں کے ذریعے کالا دھن سفید کیا گیا اور کیسے مجرموں نے گمنام برطانوی کمپنیوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا جرائم پیشہ سرگرمیوں سے کمایا ہوا پیسہ محفوظ کیا۔ ان دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب تک جرائم پیشہ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے پیسے اورحکومتی و سرکاری عمال کے کالے دھن سمیت ان بینکوں کے ذریعے 2ٹریلین ڈالر سے زائد کی رقم مختلف ممالک میں منتقل کی جا چکی ہے۔ ایچ ایس بی سی نے اپنے امریکی کاروبار کے ذریعے 2013ءاور 2014ءکے دوران کروڑوں ڈالر ہانگ کانک کے اکاﺅنٹس میں منتقل کیے۔ امریکہ کے سب سے بڑے بینکوں میں سے ایک بینک نے ایک بدنام زمانہ مجرم کو 1ارب ڈالر سے زائد کی رقم منتقل کرنے میں مدد دی۔

مزید :

برطانیہ -